نمیرہ محسن 214

جان سے پیارے ماموں! (نمیرہ محسن )

جان سے پیارے ماموں!
نانی اماں کی حویلی بڑی ہی عالیشان اور بھید وں بھری تھی۔ خوبصورت سرخ اینٹوں کا تین منزلہ شاہکار۔ ایک تہ خانہ جو شدید گرمی میں بھی یخ بستہ رہتا۔کھڑکی نما روشندان ایسے زاویے سے بنائے گئے تھے کہ ان سے ہر وقت چاندی سی صاف ہوا سانسوں کو ہموار رکھتی تھی۔
گراؤنڈ فلور پر تین ماموں کے کمرے تھے۔ دو غسلخانے، ایک وسطی باغیچہ اور تھوڑا بلندی پر چند سیڑھیاں چڑھ کر گیراج جس میں بڑی خالہ کی گاڑی جو انہوں نے خود خرید کر نانی اور اپنے لاڈلے چھوٹے بھائی کو دے دی کھڑی رہتی تھی۔ ایک کونے میں پانی کا نل اور بڑا کھراہوتا تھا جہاں سب کپڑے اور بچے دھلتے تھے۔
برآمدے محراب کی طرز پر بنائے گئے تھے اور تقریبا تقریباآٹھ سے دس ستون اپنے سروں پر اس عروس سیالکوٹ کو اٹھائے پوری تمکنت سے ایستادہ تھے۔ ہر ستون کے پاس ایک بڑا سنگ مرمر یا کسی اور چیز سے بنا ایک دیو ہیکل گملا رکھا تھا جس میں رات کی رانی، موتیا، گلاب، اور کچھ عشق پیچاں کی بیلیں تھیں۔
چھوٹے ماموں سب سے وجیہہ، مسکراتے، ساری بہنوں کے بچوں کے خدمت گزار، تربیت کار ، دوست، وقت پڑنے پر سب سے بڑے دشمن ( آپ جانتے ہیں کہ یہ بھی تربیت کا لازمی حصہ ہے)اور گھر کے واحد ڈرائیور بھی تھے۔
ان کے کمرے کے سامنے والے برآمدے میں ایک ٹیبل ٹینس کی میزہوتی تھی۔ ہمارے ماں باپ سے لے کر ہم اور ہمارے کچھ کزنز کے بچوں تک نے اس پر ماموں سے کھیلنا سیکھا۔
ماموں صبح سویرے اٹھتے، کسرت کرتے، پھر آل انڈیا ریڈیو پر پرانے گانے لگ جاتے۔ پھول، صبح کی خوشیوں بھری ہوا، دلفریب آوزیں ، دیسی گھی کےپراٹھوں اور آملیٹ کی خوشبو، کیتلی سے اٹھتی دم والی چائے کی مہک اور ان سب سے بڑھ کر خوشیوں اور امیدوں کا گھنا ہرا بھرا پیڑ جس کی ہر شاخ پر ہر ایک کو عافیت اور رزق ملتا تھا میرے ماموں۔
میں نے ماموں جیسا حسین مرد کوئی نہیں دیکھا۔ مجھ سے ایسی محبت کہ اپنے بچوں کو بھول جاتے۔ میرے استاد، میرے دوست، میرے غمخوار،مشکل وقت میں میرے لیے اپنی عزت، جان اور مال سب مجھ پر قربان کردینے والے میرے مہربان ، میرے محبوب، ماموں۔
پھر وہ کچہری جانے کے لیے تیار ہوتے، شیو کرنے کے بعدکوئی کلون لگاتے جو مجھے پیار کرنے کے دوران سارا دن کے لیے میرے گالوں پر رہ جاتا اور میں ان کے لمس کا انتظار کرتی رہتی۔
گھر میں آپ کسی بھی کونے میں کھیلتے کھیلتے گر کر سو جائیں آپ کو دو مہربان گرم ہاتھ، گہری نیند میں مچھروں سے بچاو کی دوائی لگا کر اپنے خوشبودار سینے سے چمٹا کر ، آپ کو اچھا طرح چادر میں لپیٹ کر ، ماتھا اور آنکھیں چوم کر مسہری میں محبت سے سلا آتے تھے۔
نانی اماں کے گھر میں پہلی منزل پر بہت بڑا صحن تھا جو سنگ مرمر کے گلابوں، موتیے اور رات کی رانی سے مزین گملوں سے گھرا ہوتا تھا۔
مغرب کے فوری بعد ماموں اور کچھ اور مرد حضرات چارپائیاں کام کرنے والے کے ساتھ مل کر بچھاتے۔ بستروں پر اجلی چاندنیاں بچھتیں ان پر مسہریاں لگتیں۔ نعمت خانے سے کھانے کے بعد موسم کے پھل آتے سب مل کر کھاتے۔ ماموں سب بچوں اور جوانوں کو لے کر سیر کے لیے قلعہ سیالکوٹ لے کر جاتے اور سب بچوں کو الو کی بہن فاختہ اورلگڑبگوں کی مزاحیہ منی منی دو جملوں والی کہانیاں سناتے۔ سردیوں میں واپسی پر دودھ اور جلیبیاں کھلاتے۔
میں اکثر سوچتی ہوں کہ اتنی محبت اور دھیان یا خاندانی مضبوط تعلق ہم اپنے بچوں کو نہ دے سکے۔ پہلے ہم سب ماموں کے تھے اور اب ہر بچہ اپنے والدین کا اور ایک دن صرف اپنا ہو کر رہ جاتا ہے۔
سونے سے پہلے سب جوان محفل کی صورت بیٹھتے، ہر مسئلہ زیربحث لایا جاتا اور باہمی مشورے سے لائحۂ عمل کوئی ایک بڑا طے کرتا جس پر عمل ہوتا اور کسی پنچائیت یا تھراپسٹ کے بغیر سب معاملات خوش اسلوبی سے انجام کو پہنچتے۔
گھر کے بڑے کو ہر چھوٹا بڑا سمجھتا اور دل سے احترام ہوتا۔
پھر باری آتی شعر و شاعری اور گانوں کی۔ منجھلے ماموں کی گنگناہٹ اور کینیڈا والی خالہ کی میٹھی راگنیوں میں نیند کی پری ہاتھ پکڑے ہمیں ستاروں کے دیس لے جاتی۔
اس وقت موبائل کا عفریت نہ طاری ہوا تھا۔ ماموں نانی جان اور بڑی خالہ کو لے کر اچانک آدھی رات کو آجاتے۔ آواز بدل کر امی کو ڈرانے کی کوشش کرتے مگر ہر دفعہ پکڑے جاتے۔ وہ رات شب برات ہو جاتی۔ ہمارے ساتھ پوری کالونی اٹھ جاتی۔ خدمتگار بھاگ بھاگ کر سونے اور امی خانساماں کے ساتھ کھانے کا انتظام کرنے میں مصروف ہو جاتے۔
نہ کوئی بیزاری اور نہ کوئی شکوہ کہ بغیر اطلاع کیے کیوں آئے؟؟؟؟
ہماری تو نیند ہی اڑ جاتی۔ بس نہ چلتا کہ ماموں کو اپنے دل میں چھپا لیں۔
میری تحریر میں اگر کچھ اچھائی نظر آتی ہے تو اس میں بھی میرے ماموں کا بڑا حصہ ہے۔ میٹرک سے انہوں نے مجھے معیاری خط لکھنے کو کہا اور جوابی خطوط میں تصحیح بھی کی۔
مجھے ایک سال کی عمر میں ٹوئسٹ سکھانے، اپر چناب میں بے خوف و خطر اتر جانے، اور شادی کے بعد میرا گھر بسانے تک ہر مقام پر میرے ساتھ کھڑے رہنے والے میرے ہیرو ماموں میری کردار سازی میں میرے والدین کے ساتھ شامل ہیں۔ میں نے کبھی کسی سپر مین کی نہ کہانی پڑھی اور نہ خواہش کی کیونکہ میری زندگی میں ماموں جیسا ایک حقیقی ہیرو تھا اور ہے جس کے پاس میرے سارے دکھوں کا تریاق ہے۔ ایک ایسا سورج مکھی جو میرے رخ پر اپنا رخ روشن اٹھائے رہتا ہے۔
شکریہ ماموں مجھے زندہ اور بہادر رکھنے کے لیے۔
شکریہ اس بات کا کہ آپ نے مجھے خود سے ملوایا، میرا عکس مجھ پر واضح کیا اور میرے بہترین دوست رہے۔
یاد رہے کہ میرے ماموں صرف اپنوں ہی کے نہیں بلکہ بہت سے غیروں کے بھی اپنے اور ہیرو ہیں۔ سیالکوٹ کی ایک نامی گرامی شخصیت اور ایک نایاب اثاثہ۔
اللہ میرے ماموں کو لمبی صحت والی زندگی عطا فرمائے اور ان کی دین دنیا و آخرت سب سنوار دے۔ آمین
نمیرہ محسن
اپریل 2024

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں