توشہ خانہ کیس؛سابق وزیراعظم عمران خان کی سزا معطلی و ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی 42

تحریک انصاف سے قبل کونسی بڑی سیاسی جماعتوں سے انتخابی نشان چھینے گئے تھے

سٹاف رپورٹ (تازہ اخبار،پی این پی نیوز ایچ ڈی)
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے انٹرا پارٹی انتخابات میں مبینہ طور پر خامیوں کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ’کرکٹ بلا‘ کا مشہور انتخابی نشان واپس لے لیا، جس نے ملک کے انتہائی منقسم (پولرائزڈ) سیاسی ماحول میں ہلچل مچا دی اور مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شعلہ بیان بحثیں شروع ہوگئیں.
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سرکردہ پاکستانی سیاسی جماعت سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا ہو۔ 29 مئی 2018 کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 41 سال طویل قانونی جنگ کے بعد اپنے انتخابی نشان کے طور پر ’تلوار‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی حالانکہ اس سارے عرصے میں کسی اور سیاسی جماعت کو یہ نشان نہیں دیا گیا.
2018 میں، ʼتلوار کے نشان کے لیے چار دعویدار تھے جن میں پی پی پی، صفدر عباسی کی قیادت میں پی پی پی- ورکرز، غنویٰ بھٹو کی سربراہی میں پی پی پی- شہید بھٹو اور ڈاکٹر تنویر زمانی کی زیر قیادت پیپلز موومنٹ آف پاکستان شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں 1970 اور 1977 کے انتخابات تلوار کے نشان سے لڑے تھے.
یہ نشان سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1977 کے انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کی فہرست سے حذف کر دیا گیا تھا اور پھر 2013 میں اسے بحال کر دیا گیا تھا.
دو دیگر علامتیں – ہل اور ترازو – کو بھی 1977 میں ہٹا دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 1977 میں ’ہل‘ پاکستان نیشنل الائنس (PNA) کا نشان تھا، جو نو سیاسی جماعتوں کا اتحاد تھا، جس نے پیپلز پارٹی کے خلاف ایک بلاک کے طور پر سیاسی مہم چلانے پر اتفاق کیا تھا.
پیپلز پارٹی نے 2018 کے عام انتخابات ʼتیر کے نشان پر بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی اور سابق صدر آصف علی زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی-پارلیمینٹیرینز (PPP-P) کے درمیان اتحاد کے بینر تلے لڑے تھے۔ پیپلز پارٹی نے 1988، 1990، 1993 اور 1997 کے انتخابات تیر کے نشان سے لڑے تھا.
2018 میں، پاکستان مسلم لیگ-قائد (پی ایم ایل ق) نے اپنے روایتی نشان ʼسائیکل سے دستبردار ہو کر ʼٹریکٹر کو اپنے انتخابی نشان کے طور پر درخواست کی.
’ٹریکٹر‘ کے نشان کے لیے ایک اور دعویدار پاکستان کسان پارٹی تھی، جس نے ناکام درخواست کی تھی کہ یہ نشان اس کے نام اور منشور کے مطابق ہے.
ایک اور تنازع میر حاصل بزنجو کی نیشنل پارٹی اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی بلوچستان نیشنل موومنٹ کے درمیان ’آری‘ کے نشان پر تھا۔ یہ نشان بلوچستان نیشنل موومنٹ کو الاٹ کیا گیا جیسا کہ گزشتہ انتخابات میں ہوا تھا.
وامی لیگ اور پاکستان تحریک انسانیت کے درمیان ’ہاکی‘ کے نشان پر تنازعہ تھا، اگرچہ عوامی لیگ کی درخواست کو پورا کیا گیا تھا۔ پاکستان تحریک انسانیت کو کنگھی کا نشان دیا گیا۔ ڈیلی ڈان نے اپنے 30 مئی 2018 کے ایڈیشن میں لکھا تھا کہ متحدہ قومی پارٹی کو ’پگڑی‘ اور عوامی لیگ کو ’انسانی ہاتھ‘ کا نشان الاٹ کیا گیا.
جب چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا اور کمیشن کے دیگر ارکان جانے والے تھے تو متحدہ قومی موومنٹ پی آئی بی کالونی کے ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو ایم بہادر آباد کے عامر خان نے ایم کیو ایم کے انتخابی نشان کے بارے میں سوال کیا۔ سی ای سی نے کہا کہ کمیشن نے ایم کیو ایم کو پتنگ کا نشان الاٹ کیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں