روس کا یورپ پر تنقید، یوکرین تنازع میں دباؤ کی پالیسی ناکام قرار
اسٹاف رپورٹ : پی این پی نیوز ایچ ڈی
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یورپی ممالک یہ سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں کہ روس یوکرین جنگ کے باعث کمزور ہو رہا ہے، اسی لیے وہ ماسکو پر دباؤ ڈالنے اور الٹی میٹم دینے کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ایسی تمام توقعات ناکام ثابت ہوں گی.
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ یوکرین بحران پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور روس اس مؤقف پر قائم ہے کہ تنازع کے کسی بھی حل میں انصاف اور تمام فریقوں کے جائز مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے.
انہوں نے کہا کہ روس یوکرین میں روسی النسل آبادی کے حقوق کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ ماسکو کے مطابق کیف حکومت گزشتہ کئی برسوں سے ان کے حقوق محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے.
روسی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ہفتے روسی وزارت خارجہ میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے سفیروں کے ساتھ ملاقات کے دوران کوئی نئی تجویز سامنے نہیں آئی. ان کے بقول مغربی سفارت کار وہی پرانے مؤقف دہراتے رہے جن سے روس پہلے ہی آگاہ ہے، تاہم وہ یوکرین سے متعلق مذاکراتی عمل کا حصہ رہنا چاہتے ہیں.
سرگئی لاوروف نے کہا کہ ماسکو کو امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی کاروباری شخصیت جیرڈ کشنر کے متوقع دورۂ روس کے دوران واشنگٹن یوکرین سے متعلق طے شدہ سمجھوتوں پر عملدرآمد کے اپنے منصوبے سے آگاہ کرے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ روس گزشتہ سال الاسکا میں ہونے والے معاہدوں اور مفاہمتوں کا پابند ہے اور توقع رکھتا ہے کہ امریکی فریق بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا.
روسی وزیر خارجہ نے روس اور بیلاروس کے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور عوامی سطح پر تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے.
انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ متعدد مشترکہ ثقافتی، تاریخی اور سفارتی تقریبات منعقد ہوں گی، جبکہ روسی وزیراعظم میخائل مشوستین اور بیلاروسی وزیراعظم الیگزینڈر تورچن بھی آئندہ دنوں میں ملاقات کریں گے.
سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ روس اور بیلاروس کے درمیان مضبوط سیاسی، معاشی اور عوامی روابط دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی بنیاد ہیں اور یہ تعاون مستقبل میں مزید مستحکم ہوگا.




