Protocol Syed Fayaz Hussain Gilani 150

پروٹوکول

پروٹوکول
تحریر : سید فیاض حسین گیلانی

میری ذندگی کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک گزرا اور دنیا کےاکثر دوسرے ممالک کے لوگوں سے میرا براراست تعلق رہا۔ مگر پروٹوکول کےنام پر جو بدمعاشی اور بیغیرتی ہمارےملک میں ہے میرا نہیں خیال کہ دنیا کے کسی اور ملک میں ہو۔ عام عوام کو پروٹوکول حفاظتی اقدامات اور گرین بک کے نام پر جی بھر کرذلیل کیا جاتا ہے۔ اس پر نہ صرف عوام کے ٹیکسوں سے وصول شدہ کروڑوں روپیہ ضائع ہوتا ہے بلکہ عوام کا بےتحاشا وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور بے عزتی مفت میں۔ اسکے ساتھ جن لوگوں کو پروٹو کول دیا جاتا ہے وہ ان کے اندر بلاوجہ غرور و نخونیت کا باعث بنتا ہے۔ اس موضوع پر آگے کچھ بیان کرنے سے پہلے ایک واقعہ سن لیں جو کہ آج کل سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ جو انگریز افسران ہندوستان میں ملازمت کرنے کے بعد واپس انگلینڈ جاتے تو ان کو وہاں پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتی دلیل یہ تھی کہ تم ایک غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہوجس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہےیہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے گی تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گےاس پر بطور مثال یہ کہانی اور اس طرح کےبشمار دوسرے واقعات ہیں۔ ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھاخاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارےواپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی ایک بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی خاتون نے لکھا ہے کہ میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھےڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور خدمت تھےروز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پروگرام بنتے تھے ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھےکہ برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھےٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھاجب ہم ٹرین میں سوار ہوتے توسفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتااور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتااجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی ایک بار ایسا ہوا کہ ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھااُس نے ڈرائیور سے کہا کہ ٹرین نہیں چلانی ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ جو حکم چھوٹے صاحب کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھالیکن بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوابالآخربڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہواچند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے
ہماری منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھابیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیاجب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگاوقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیاوہ زور زور سے کہہ رہا تھایہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہےہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہےمیں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گامیرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ یہ اُس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہےیہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیاوزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکےآج یہ واضع ہے کہ ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہےالبتہ غلامی کو دیس سے نہیں نکال سکےیہاں آج بھی کئی1- ڈپٹی کمشنرز 2- ایس پیز 3- وزرا مشیران 4- سیاست دان5- جرنیل صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سٹرکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالا طاق رکھ کر ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہئیے
ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئیے کہ ہم آزاد ہیں اب جب میں نے مندرجہ بالا واقعہ پر غور کیا اور اس کو تھوڑا گہرائی میں جا کر سمجنے کی کوشش کی تو مجھے اپنا ہی لکھا ہوا ایک بیورو کریسی پر کالم یاد آگیا کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ جو آج اس ماڈرن دور میں بھی وہی پرانے اینگلو سیکسین قوانین پر چل رہے ہیں۔ وہ نظام جو انگریزوں نے بطور آقا تشکیل دئے تھے ہم اسی پر چل رہے ہیں۔ وگرنہ ہمارے ساتھ جو دوسرے غلام ممالک تھے انہوں نے اس کو کلی نہیں تو جذوی تبدیل کر دیا ہے۔ التہ کہ سری لنکا نیپال اور بھارت جیسے ممالک بھی اس کو ختم کر چکے ہیں۔ جب کہ کینڈا آسٹریلیا نیوزیلینڈ جنوبی افریقہ وغیرہ میں تو اس کا تصور بھی محال ہے۔ بلکہ میری ذندگی کا بڑا حصہ عرب ممالک میں گزرا ہے جہاں خاندانی بادشاہتیں ہیں لیکن وہاں بھی اس طرح کا کلچر نہیں۔ آج سے چند سال قبل وہ لوگ بادشاہ کی آمد پر بھی بس چند منٹ واسطے ٹریفک روکتے کہ جب شاہ کی سواری آچکتی اور جونہی شاہی بیڑہ نکل جاتا وہ تمام ٹریفک کھول دیتے۔ جبکہ اب تو انہوں نے شاہی محلات و ہوائی اڈوں سے براراست ہیلی کاپٹر کے نظام بنا دئے کہ وی وی آئی پی شخصیت سیدھا ہیلی کاپٹر سے متعلقہ جگہ پہنچ جاتی ہے اور نیچے تمام ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے۔ نہ ہٹو بچو نہ ہوٹر نہ روڈ بند۔ لیکن یہاں الاایمان الحفیظ صدر وزیراعظم تو رہے ایک طرف صوبائی وزراء فوج اور بیورو کریسی کے عام سے آفیسرز واسطے اس طرح روٹ لگتا ہے کہ بارش ہو یا گرمی عام لوگ سخت تکلیف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سکول کے بچوں کی گاڑیاں التہ کہ ایمبولیس واسطے راستے بند کر دئے جاتے ہیں۔ اور پھر اس سخت ہیجانی کیفیت میں عوام اپنے منتخب حکمرانوں اور سرکاری ملازمین کی شان میں جو کلمات ادا کرتے ہیں کاش ہمارے حکمران وہ کبھی سنیں۔ ہم نے ایک بار اپنا خاندانی فریضہ سمجھ کر یہ خوب صورت الفاظ سابق وزیراعظم محترم یوسف رضا گیلانی صاحب کی خدمت عالیہ میں لکھ کر بھیجے تھے اب معلوم نہیں یہ خط ملتان کے سید ذادے کو کسی نے پڑھنے واسطہ دیا یا نہیں۔ لیکن آج ہم ایک بار پھر بذریعہ روزنامہ آزادی ارباب اختیار کو متوجہ کرتے ہیں کہ حضور کسی دن اپنے واسطے روٹ لگوا کر خود بھیس بدل کر ذراء عام عوام میں بس چند منٹ واسطے کھڑے ہو جائیں پھر اپنی مقدس سماعت کی قوت سے وہ اعلی شان تعریفی کلمات بذات خود سماعت فرمائیں جو آپ کی اعلی شان مبارک میں عوام مکمل خشوع کے ساتھ بطور عدیہ تبرک پیش کرتی ہے۔ ہم پورے یقین سے کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنی شان میں چند الفاظ سماعت کر لیں اور آپ میں غیرت کا ادنی سا عنصر بھی باقی ہو تو پھر یا تو آپ مستفعی ہو جائیں گے یا پھر بیشک آپ کو پیدل سفر کرنا پڑھے آپ کبھی نہ تو روٹ لگوائیں گے اور نہ ہی آگے ہوٹر والی گاڑی کے ساتھ ہٹو بچو کی صدا کے درمیان منزل مقصود تک جانے کی جسارت کریں گے۔لیکن قطع نظر اس کے کہ عوام کے اس مکروہ حرکت پر جذبات کیا ہوتے ہیں کیا آپ اس کو اصول کی بنیاد پر نہیں لے سکتے کہ آخر مجبوری کیا ہے۔ یا اس قسم کا پرانے بادشاہوں جیسا رویہ کیوں ضروری ہے۔ ایک ایسا غیر ضروری اور بس کسی ایک شخصیت کی انا کی تسکین واسطے عام آدمی کا وقت کیوں برباد کیا جائے۔ اسکی عزت نفس کو کیوں مجروع کیا جاتا ہے۔ اور پھر اس فضول حرکت پر ریاست کا خزانہ کیوں لٹایا جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ ہمارے قوانین ساز ادارے اس پر اسمبلیوں میں بحث کریں اور فوری طور پر اس پر مناسب قانون سازی کریں۔ اور یہ جو سبز کتاب جس کو یہ لوگ گرین بک کہتے ہیں اس کے الفاظ کو حرف غلط کی طرح درست کر لیں۔ وگرنہ وہ وقت قریب ہے جب عوام آپ کو اس گرین بک سمیت اٹھا کر باہر کریں گے۔ ابھی ماضی قریب میں اس کا عملی مظاہرہ لیبیا میں نظر آیا جب لیبیا کا سابق آمر کرنل معمر قذافی روز یہ سبز کتاب لیکر ٹی وی پر آتا اور عوام کو ڈراتا کہ خاموشی سے گھر بیٹھو وگرنہ اس گرین بک کے مطابق تم پر مقدمات بن سکتے ہیں لیکن عوام نے اس گرین بک کو اپنے قدموں تلے روند کر قذافی کو خود بغیر کسی مقدمے کے قتل کر دیا۔دوسرا اب ہمارے عوام میں بھی شعور اور آگہائی کا معیار پہلے جیسا نہیں۔ ایک تو اب کی نئی نسل نسبتاً تعلیم یافتہ ہے اور اوپر سے ای ٹیکنالوجی خصوصا سوشل میڈیا نے ہر جگہ ایک انقلاب بھرپا کر دیا ہے۔ اب لوگ دیکھتے ہیں برطانیہ جیسے امیر ملک کا وزیراعظم عام مسافروں کی طرح ٹرین میں سفر کرتا ہے۔ کینڈا کا وزیراعظم خود اپنا سامان اٹھا کر بنا پروٹوکول چلتا ہے۔ تو ہمارے ہاں ایک معمولی کمیشنر کے ٹھاٹھ باٹھ قدیم رومن بادشاہوں کی طرح کیوں۔ سو اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے منتخب نمائیندے ہوں یا سرکاری افسر وہ خادم بنیں نہ کہ عوام کو کمی کمین سمجھ کر ان کے آقا۔ whatsapp no ” 03155226805

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں