روس اور چین کے تعلقات میں نئی پیش رفت، صدر پیوٹن کا اہم دورۂ چین
سٹاف رپورٹ : پی این پی نیوز ایچ ڈی
ولادیمیر پیوٹن چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے جہاں چینی قیادت کی جانب سے ان کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا۔ اس دورے کو عالمی سیاسی اور معاشی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ روس اور چین حالیہ برسوں میں مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں.
دورے کے دوران روسی صدر نے چینی صدر اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ تعلقات، عالمی سیاسی صورتحال، تجارت، توانائی، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور تزویراتی شراکت داری پر مبنی ہیں، جنہیں مستقبل میں مزید وسعت دی جائے گی.
مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے عالمی سطح پر تعاون بڑھانے اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ روس اور چین نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے، تجارتی حجم میں اضافے اور نئی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بھی اتفاق کیا.
دورے کے دوران کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن کا تعلق توانائی، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، زراعت اور صنعتی تعاون سے بتایا جا رہا ہے. حکام کے مطابق ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا.
صدر پیوٹن نے اس موقع پر کہا کہ روس اور چین کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک عالمی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے مشترکہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔ دوسری جانب چینی حکام نے بھی روس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں.
سیاسی اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اس لیے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات مستقبل کی عالمی سفارت کاری اور اقتصادی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں.




