ثنا یوسف قتل کیس میں عدالت کا بڑا فیصلہ، ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی گئی
اسٹاف رپورٹ : پی این پی نیوز ایچ ڈی
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی.
ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے ثنا یوسف قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا.
عدالت نے کہا جرم ثابت ہونے پر ملزم عمر حیات کو سزائے موت کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ ملزم عمر حیات کو دیگر دفعات میں جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ عدالت نے مجموعی طور عمر حیات کو 30 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی.
عمر حیات کو مقدمےکی دیگر 3 دفعات کے تحت 10، 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 اور ملزم کوگھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی.
دوران سماعت عدالت میں ملزم عمر حیات کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس پیش کیے گئے.
مدعی کے وکیل نے ملزم کو 2 بار سزائے موت دینے کی استدعا کی جبکہ ملزم کے وکیل نے کہا ہے کہ ملزم عمرحیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، 2 درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ التوا ہیں، پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینا ہے، زیادتی ہوگی.
عمر حیات کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم کو آرٹیکل 10اے کے تحت فیئر ٹرائل کا موقع دیا جاتا ہے، پورے ٹرائل میں مختصر ترین دلائل دوں گا، آپ ٹرائل جج نہیں بلکہ بطور ریفری دلائل سنیں، وکیل اور جج کے درمیان رنجش پیدا ہوتی ہے تو ملزم کے ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے.




