ذوالحج: قربانی، صبر اور ایک امت کی کہانی
تحریر: جویریہ اسد
ذوالحج کے یہ دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بے حد بابرکت اور فضیلت والے دن ہیں۔ ان دنوں میں کی جانے والی عبادت عام دنوں کی عبادت سے کہیں زیادہ افضل ہے۔ انہی دنوں میں ایک درس کے دوران ہماری عالمہ کی ایک بات میرے دل میں بہت گہرائی تک اتر گئی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر بڑا مقصد ایک بڑی قربانی مانگتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ نے اپنے قبیلے اور وطن کو چھوڑا، اللہ کے حکم پر ہجرت کی۔ پھر حضرت ہاجرہؓ سے نکاح، حضرت اسماعیلؑ کی پیدائش، اور اس کے بعد بے آب و گیاہ صحرا میں حضرت ہاجرہؓ کا پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا… ایک ماں کی بے بسی، ایک ماں کا یقین، اور پھر زم زم کا جاری ہو جانا۔ یہ سب صرف واقعات نہیں تھے، بلکہ آنے والی امت کے لیے صبر، یقین اور قربانی کی عظیم مثالیں تھیں۔
پھر مکہ کا آباد ہونا، خانہ کعبہ کی تعمیر، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانیاں… یہ سب اس لیے تھا تاکہ قیامت تک آنے والے مسلمان ایک مرکز پر جمع ہو سکیں۔ آج بھی دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں لوگ حج کے لیے مکہ پہنچتے ہیں، اور جو وہاں نہیں جا پاتے وہ ان دس دنوں میں عبادت، ذکر، روزے اور قربانی کے ذریعے اس روحانی قافلے کا حصہ بنتے ہیں۔ عرفہ کے دن روزہ رکھتے ہیں اور دس ذوالحج کو پوری دنیا کے مسلمان قربانی کرتے ہیں۔
میں سوچتی ہوں کہ اگر حضرت ابراہیمؑ اور ان کے خاندان نے اتنی عظیم قربانیاں نہ دی ہوتیں، اتنا صبر نہ کیا ہوتا، تو شاید آج امتِ مسلمہ اس عظیم مقصد اور اجتماع سے محروم ہوتی۔
پھر میں اپنی زندگی کی طرف دیکھتی ہوں…
کیا میں نے ایک مسلمان ہونے کے ناطے دین کے لیے کوئی مقصد بنایا ہے؟
کیا میری زندگی صرف تعلیم، نوکری، شادی، بچے اور پھر ایک دن دنیا سے چلے جانے تک محدود ہے؟
کیا میں نے اپنے بچوں کو صرف دنیاوی کامیابی کا راستہ دکھایا ہے؟
یا انہیں یہ بھی سکھایا ہے کہ ان کی زندگی کا اللہ کے دین سے بھی کوئی تعلق ہے… کوئی ذمہ داری ہے… کوئی مقصد ہے؟
ہم اپنے بچوں کے لیے بہترین اسکول، بہترین کپڑے اور بہترین مستقبل چاہتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ان کے دل میں اللہ کی محبت، امت کا درد اور دین کی خدمت کا جذبہ کیسے پیدا ہوگا؟
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایمان صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ قربانی، صبر، یقین اور مقصد کے ساتھ جینے کا نام ہے۔ شاید ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں کچھ خواہشات، کچھ آرام، کچھ انا اور کچھ دنیاوی دوڑ قربان کرنا ہوگی تاکہ ہماری آنے والی نسلیں صرف کامیاب انسان نہیں بلکہ مقصد رکھنے والے مسلمان بن سکیں۔
اور شاید سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی قربانیوں کو صرف ایک دور تک محدود نہیں رکھا، بلکہ قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کی عبادت کا حصہ بنا دیا۔ آج جب کوئی ماں اپنے بچوں کو دین سکھاتی ہے، جب کوئی باپ حلال رزق کے لیے جدوجہد کرتا ہے، جب کوئی نوجوان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، جب کوئی انسان اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہش قربان کرتا ہے، تو وہ دراصل اسی ابراہیمی راستے پر چل رہا ہوتا ہے۔
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، قربانی اپنے نفس کی بھی ہوتی ہے۔
اپنی انا کی بھی ہوتی ہے۔
اپنی خواہشات کی بھی ہوتی ہے۔
اپنی نیند، آرام، وقت اور کبھی کبھی اپنے خوابوں کی بھی ہوتی ہے تاکہ اللہ راضی ہو جائے۔
آج ہماری نسل کو صرف کامیاب لوگ نہیں چاہیے، مقصد والے لوگ چاہیے۔
ایسے لوگ جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کو نہ بھولیں۔
ایسے بچے جو صرف ڈگریاں نہ لیں بلکہ اپنے کردار سے امت کا فخر بنیں۔
ایسے گھر جو صرف خوبصورت نہ ہوں بلکہ ان میں سجدوں کی خوشبو بھی ہو۔
شاید ہمیں اپنے بچوں سے یہ سوال پوچھنا چاہیے:
تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟
صرف ڈاکٹر، انجینئر یا بزنس مین؟
یا اللہ کے ایسے بندے بھی جو انسانیت کے لیے آسانی پیدا کریں، دین کا نام روشن کریں اور اپنی زندگی کو ایک مقصد کے ساتھ گزاریں؟
کیونکہ زندگی صرف گزار دینے کا نام نہیں…
زندگی وہ ہے جو مرنے کے بعد بھی کسی خیر، کسی دعا، کسی تربیت اور کسی نیکی کی صورت میں باقی رہ جائے۔
ذوالحج کے یہ دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں دی گئی کوئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی۔
حضرت ابراہیمؑ نے ایک خاندان کی قربانی دی تھی…
اور اللہ نے اسے پوری امت کی نسبت بنا دیا۔
آج اگر ہم واقعی حضرت ابراہیمؑ کی سنت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف رسمیں ادا نہیں کرنی ہوں گی، بلکہ اپنے دلوں کو بھی بدلنا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں میں دین کو زندہ کرنا ہوگا، اپنی اولاد کو صرف دنیا کمانا نہیں بلکہ انسانیت، اخلاق، صبر اور اللہ سے تعلق بھی سکھانا ہوگا۔
کیونکہ ایک دن ہماری ڈگریاں، عہدے، مال اور شہرت سب ختم ہو جائیں گے…
مگر ہماری تربیت، ہماری دعائیں، ہماری نیتیں اور اللہ کے لیے دی گئی قربانیاں باقی رہ جائیں گی۔
یہی ذوالحج کا اصل پیغام ہے۔
کہ انسان اپنی زندگی کو صرف اپنے لیے نہ جئے…
بلکہ ایک بڑے مقصد، ایک بڑی بھلائی اور اللہ کی رضا کے لیے جئے




