بین الاقوامیبین الاقوامی خبریںپاکستانتعلیم

قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے صحافیوں کو قونصلیٹ کی نئی شاندار عمارت کا دورہ کرایا اور وہاں پاکستانیوں کے لیے ہر شعبے میں فراہم کردہ سہولیات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے صحافیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام شعبوں اور سہولیات کی تفصیلی وضاحت کی اور سوالات کے جوابات دیے۔

رپورٹ عالم خان مہمند :پی این نیوز ایچ ڈی

قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے صحافیوں کو قونصلیٹ کی نئی شاندار عمارت کا دورہ کرایا اور وہاں پاکستانیوں کے لیے ہر شعبے میں فراہم کردہ سہولیات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے صحافیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام شعبوں اور سہولیات کی تفصیلی وضاحت کی اور سوالات کے جوابات دیے۔

قونصل جنرل نے بتایا کہ یہ نئی عمارت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت اور امید کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے اوورسیز پاکستانی، خاص طور پر سعودی عرب کے مغربی علاقے میں رہنے والے لاکھوں افراد، قونصل خانے کی محدود سہولیات اور پرانی عمارت کی وجہ سے مختلف مشکلات جھیلتے رہے۔ اب نئی عمارت کی تکمیل کے بعد یہ مسائل بڑی حد تک کم ہونے کی توقع ہے۔

یہ نئی عمارت ایک جدید اور باقاعدہ سفارتی مرکز کے طور پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں دفاتر کو بہتر انداز میں ترتیب دیا گیا ہے، جبکہ عوامی سہولیات کو بھی خاص مدِنظر رکھا گیا ہے۔ وسیع و عریض ہالز، منظم سروس کاؤنٹرز، بہتر سکیورٹی نظام اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ماحول اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت پاکستان نے اوورسیز پاکستانیوں کی ضروریات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

قونصل جنرل کے مطابق سعودی عرب میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی مقیم ہیں، جن میں سے اکثر جدہ اور اس کے گرد و نواح میں رہتے ہیں۔ یہ افراد پاسپورٹ، ویزا، شناختی کارڈ، قانونی دستاویزات اور دیگر قونصلر خدمات کے لیے قونصل خانے پر منحصر ہیں۔ ماضی میں پرانی عمارت میں جگہ کی کمی، طویل قطاریں اور غیر منظم نظام جیسے مسائل عام شکایات کا سبب بنتے تھے۔ نئی عمارت کا ایک بڑا مقصد انہی مسائل کا خاتمہ ہے۔

نئی چانسری میں عوام کے لیے انتظار کی بہتر جگہیں فراہم کی گئی ہیں، جس سے ہجوم اور بے ترتیبی میں کمی آئے گی۔ نیز، مختلف خدمات کے لیے الگ الگ کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔ اگر ان سہولیات کو مؤثر طریقے سے چلایا گیا تو یہ قونصل خانے کے مجموعی نظام میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔

قونصل جنرل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ عمارت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاس ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے سفارتی سہولیات کی فراہمی اور پاکستان کی جانب سے اپنی کمیونٹی کے لیے بہتر اقدامات دونوں ممالک کے باہمی تعاون کا مظہر ہیں۔

انہوں نے اختتام پر 5 مئی کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں سے مل کر انہیں خوشی ہو رہی ہے کیونکہ یہ دن پاکستان کے لیے اہم ہے — جس روز معرکہ حق میں بہادر افواج نے کامیابی کی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے بتایا کہ کوشش ہے کہ 10 مئی کو اس دن کے حوالے سے کمیونٹی کو قونصلیٹ میں دعوت دی جائے۔

صحافیوں نے قونصل جنرل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ نیا قونصلیٹ بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تصور کی ایک تصویر ہے، جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے