نمیرہ محسن 337

اصول محبت (شاعرہ : نمیرہ محسن)

اصول محبت
ہم جب نفسیات کے ایم ایس سی کے تکمیلی مراحل میں تھے تب ہمیں ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں پیدا ہونے والے پیچیدہ ذہنی مسائل کے بارے تعلیم دی جا رہی تھی۔
وہ وقت ایسا نہ تھا کہ ہم اس کو قابل توجہ سمجھتے، ذیادہ زور ذہنی معذوری اور بچوں کے تعلیمی مسائل، گھبراہٹ اور مایوسی پر ہی تھا۔
بہر حال وقت ہماری آنکھیں کھولتا ہے اور سب دھندلا و غیر واضح بالکل صاف دکھنے لگتا ہے۔
والد کی بیماری نے بہت چھوٹی عمر میں خدمت، محبت اور قربانی سکھائی۔ ابو نے ہر حال میں ہمارا ساتھ دیا، اگر کچھ دن کو نڈھال ہوئے تو دوسرے دنوں کو پہلے سے بھی ذیادہ بلند حوصلہ۔ آج تک سمجھ نہ آئی کہ کیسی جرآت والے تھے کہ اتنی شدید علالت کے باوجود کبھی ہمت نہ ہاری اور محکمے کے تمام امتحانات جو مزید ترقی کے لیے ضروری تھے اسی بیماری میں پہلی پوزیشن کے ساتھ پاس کیے۔ ابو نے جتنی ترقی اپنی بیماری کے بعد کی پہلے نہ تھی۔ ابو سے مجھے دلیری، جرآت، ہمت، انسانی درد دل کے ساتھ نسب میں ملی۔ میں نے سیکھا کہ بیماری سوہنے ، عالی رب کا تحفہ ء پیمبری ہے تو ہنس کر قبول کرو اور دوسروں کے کام آو۔ دوا اوردعا دونوں جاری رکھو۔ خود پر نہ تو خود ترس کھاو اور نہ ہی کسی اور کو کھانے دو۔ اپنی تکلیف اللہ، طبیب اور ان پیاروں سے کہو جو اس بارے کچھ کر پائیں ورنہ۔۔۔۔۔
مصیبت کا ایک اک سے احوال کہنا
مصیبت سے ہے یہ مصیبت ذیادہ
آخر کار ایک سردیوں کی سنہری صبح فجر کے وقت میرا محبوب، محبوب حقیقی سے ملنے کو راہی ء عدم ہوا۔
درد بہت تھا، دل کسی صحرا کی مانند لق و دق بنجر میدان آنکھوں میں سمائے مجھے تکتا تھا اور میں چپ چاپ ، کسی قوت گویائی سے محروم انسان کی مانند اپنے دل کو سکتے کے عالم میں دیکھتی تھی۔ بہت کام تھے، بڑی بیٹی تھی نا تو ابو بہت نصیحت کر کے گئے تھے۔ ایک رات قبل بتایا کیا کچھ کرنا ہو گا۔ تھوڑا اداس بھی تھے کہ وقت رخصت جلد آ پہنچا مگر ہمیشہ کی طرح کسی سپاہی کی مانند اپنے مالک کے حکم پر لبیک کرنے کو تیار تھے۔ ساری رات محبت و الفت بھری باتیں درد کے وقفوں میں ہوئیں۔ یار غار مرحوم و مغفور چچا شیروانی بستر سے لگے بیٹھے تھے۔ لاڈلے مرحوم و مغفور چھوٹے چچا تحسین جو کہ اسم بامسمی تھے تڑپ رہے تھے۔ اس کمرے میں صرف ایک ہی شخص ایسا تھا جس کی آنکھیں خوشی سے دمک رہی تھیں، ایک قطرہ آنسو نہ تھا،میرے محسن کی آنکھوں میں۔
وقت رخصت ایک محبت بھری نظر ڈالی اور وہ نظر میرے دل میں عشق کی نئی ابدی بستیاں بسا گئی۔ کیا کوئی اتنی محبت کر سکتا ہے اور وہ بھی اپنی بیٹیوں سے۔ اور ابا مسکراتے ، میرا خیال ہے کہ کھلکھلاتے کا لفظ ذیادہ مناسب ہو گا، اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

بلاشبہ اس پس منظر میں اماں کھڑی تھیں۔ بہت مضبوط، بلند قامت، حسین اور بلا کی ذہین۔ لیکن پیچھے رہ جانے والے ایسے شجر سایہ دار کے کٹنے سے اجڑ جاتے ہیں۔ ابا کے جانے سے بھی صرف ہم ہی نہیں اور بہت سے بچے اصل میں یتیم ہو گئے تھے۔ اماں نے ان کے بعد 13 سال بڑی ہمت سے گزارے، ابو ان کا بہترین انتظام کر کے گئے تھے مگر ابا کی کمی اور رفاقت چھننے کا غم اماں کو قطرہ قطرہ پگھلا رہا تھا۔ دل روتے روتے تھک گیا اور 2017 میں پہلا دل کا دورہ آیا۔ اللہ نے زندگی بڑھائی اور ہماری بہادر اماں پھر سے حالات کے سامنے ڈٹ گئیں۔
بیٹیوں کے پاس شاید رہتیں اگر معاشرے نے ایسے کڑے پیمانے نہ بنائے ہوتے۔ اللہ نے ابا اماں کو الحمدللہ بیٹوں سے بڑھ کر داماد دیے مگر زمانے کی زبانوں نے فاصلے ختم نہ ہونے دیے۔ اللہ نے یہ سعادت صرف مجھے دی کہ ہم نے ان کی رفاقت میں اکٹھے حج کیا اور ان گنت عمرے۔ باقی وہ کم ہی کسی بیٹی کے گھر رہتیں۔ میرے بیچ والے بہنوئی جو کہ باوجود ایک بیوروکریٹ ہونے کے بہت نرم دل انسان ہیں اور امی سے محبت اور ان کی خدمت بھی بہت کرتے ہیں، میرے بعد ان کے گھر کچھ عرصہ بطور مہمان رہتیں اور جلد واپس آجاتیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اسی دوران دل کا ساتھ دینے کو اور جسمانی اعضاء بھی تھکنے لگے۔ اور اماں اپنے گھر میں سب سے چھپ کر بیٹھ رہیں۔ کچھ نے کہا خود سر ہیں، کچھ بولے کسی کو کچھ سمجھتی ہی نہیں اور کوئی کہنے لگاکہ اپنی آزادی میں مخل نہیں ہونے دیتیں کسی کو۔
پھر تنہا رہنا اور وہ بھی پاکستان میں تو رویہ تلخ ہو تا گیا۔
وجہ تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ اکیلی عورت کسی بھی عمر کی ہو اسے کس انواع و اقسام کے حوادث سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ اماں نے ان تمام معاشرتی رویوں سے اعلان جنگ کیا اور اپنے اصولوں پر زندگی گزارنے لگیں۔
بہر حال، مجھے سب دکھائی بھی دے رہا تھا اور اماں کے ان کہے لفظ بھی سنائی دے رہے تھے۔
میں جب بھی جاتی تو اماں کو سال بعد ڈاکٹر کے پاس لے جاتی۔ پہلے یہ کام منجھلی بہن کرتی رہی مگر شعبہء تعلیم میں پی ایچ ڈی کرنے 2019 میں امریکہ چلی گئی اور پھر کرونا آگیا، سرحدیں بند کر دی گئیں۔ اماں اکیلی رہ گئیں۔ ذہنی و جسمانی ہردو طرح سے صحت کو نقصان ہوا۔
میرا 2022 میں جانا ہوا تو دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ کمزوری اپنی انتہا پر تھی۔ خود کچھ پکایا نہ جاتا تھا۔ ابا نے بہت لاڈ سے رکھا تھا تو عام کام والی کے ہاتھ کا کچھ کھاتی بھی نہ تھیں۔ فریزر کھول کر دیکھا تو ایک لوکل برانڈ کی کھانے کے لیے تیار اشیاء سے بھرا ہوا تھا۔ فریج میں اولاد کے بھجوائے مہنگے میوہ جات، طاقت کی دوائیاں اور پھل بھرے تھے مگر ہم سب غائب۔ دل درد سے پھٹنے لگا۔ کیا ہمارا معاشرہ بیٹیوں کی بیوہ ماوں کو اس طرح مصلوب کرتا ہے؟
اماں کی سوچ اور آہنی ہو چکی تھی کہ بیٹیوں کے گھر نہیں جاتے ، ہاں اگر کوئی بیٹا ہوتا تب رہتی اس کے ساتھ۔
خون خون دل کے ساتھ واپسی ہوئی۔ سب نے بتایا بہت چڑچڑی ہو گئیں ہیں اور سب سے سخت کلامی کرتی ہیں۔ میں سوچتی رہی کہ اس کا گناہ بھی ہم تینوں کے سر ہوا کہ لڑکیاں کیوں پیدا ہوئیں۔ ساری عمر اماں سے نظریں چراتے، مجرم بنے گزر گئی۔ سب موجود تھا اور انہی کا تھا ، اللہ نے پورا حق دے رکھا تھامگر سوچ بہت قوی تھی جس نے تنہائی کا عذاب دے رکھا تھا۔
(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں