Sympathizer of the poor 140

غریبوں کا ہمدرد/مظلوم کی مضبوط آواز/عظیم انسان/غریبوں کا مسیحا

غریبوں کا ہمدرد/مظلوم کی مضبوط آواز/عظیم انسان/غریبوں کا مسیحا
تحریر /عاشق حسین قریشی سابق صدر پریس کلب کہروڑپکا

پروردگار نے بہت سے لوگوں کو بے پناہ دولت سے نوازا ہے ان میں سے اکثر دولت سمیٹ سمیٹ کر جائیداد بنا کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں دولت ان کے کسی کام نہیں آتی لیکن کچھ ایسے افراد بھی معاشرے میں موجود ہیں جو حقیقی معنوں میں دولت مند ہیں جن کی دولت ہر غریب کو فائدہ دینے کے ساتھ ساتھ زندگی کے بعد بھی فائدہ دیتی ہے۔ غریبوں کا مسیحا مستحق افراد کی امداد، غریب مریضوں کا علاج٫ غریب کے گھر راشن سے لے کر سیلاب زدگان کی مدد تک٫گھروں میں صاف پانی کے لیے فلٹریشن پلانٹ سے لے کر٫غریبوں کو روزگار فراہم کرنے تک٫بے سہارا لوگوں کو رکشے دے کر روزگار کا سہارا دینے تک٫علاقے میں مریضوں کے لیے ایمبولینس دینے تک کے حوالے سے کہیں اگر تذکرہ ہو وہاں فرزند کہروڑپکا مسیحا کہروڑپکا اوورسیز پاکستانی سردار غلام حسین بلوچ کا ذکر ضرور آتا ہے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں داخل غریب ڈائیلاسز کے مریضوں کی احوال پرسی کے لیے جائیں تو مریضوں کی زبانوں سے غلام حسین بلوچ کیلئے دعائیں نکلتی ہیں٫کسی گاؤں میں غریب مزدور کے گھر سے پوچھیں جن کا پورا گھر روزگار دینے پر جھولیاں اٹھا کر دعائیں دے رہا ہوتا ہے بے شک سردار غلام حسین بلوچ نے اداس چہروں میں مسکراہٹ لانے کی ایک قابل رشک کوشش جاری رکھی ہوئی ہے اس لیے شاعر کہتا ہے
تو اگر اہل بصارت ہے تو حساس بھی بن
دیکھ تصویر کی گہرائیاں تصویر نہ دیکھ

اس دنیا میں ہر کوئی اپنے کام میں مصروف ہے۔ غربت، افلاس، دکھ اور محرومی کسی کو بھی پسند نہیں۔ سب ان سے بچنا چاہتے ہیں سب کو زندگی کی دوڑ میں آگے بھاگنا ہے لیکن اس تیز رفتار معاشرے میں عظیم اور حیرت انگیز شخصیت غلام حسین بلوچ ہے،جس نے اپنی زندگی کی دوڑ کے ساتھ ساتھ اوروں کو بھی سہارا دیا میری نظر میں غلام حسین بلوچ کہروڑپکا کا ایدھی ہے جنہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور مساکین کی خدمت میں صرف کی ہوئی ہے اور دن رات ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی بھرپورکوششش کر رہے ہیں
اوورسیز پاکستانی سردار غلام حسین بلوچ آج پھر خدمت انسانیت کو فروغ دیتے ہوئے اپنے ڈیرے پر 20 غریب خاندانوں میں لوڈر رکشے تقسیم کررہے ہیں یقینن یہ روزگار ان خاندانوں کے لیے مفید ثابت ہو گا
یقینن جو شخص لوگوں کو روزگار دے، علاج فری کروائے، بھوکوں کو کھانا کھائے، دُکھیوں کے پاس پہنچ کر ان کے دُکھ بانٹنے اور اپنے شہر کے لوگوں کے لیے روزگار بڑھانے کے مواقع پیدا کرے تو وہ شخص مسیحا ہی کہلائے گا کیونکہ اللہ شاید اس لئے بھی اس کو دے رہا ہے کہ یہ غریبوں کی مدد کرے میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اوورسیز پاکستانی سردار غلام حسین بلوچ کو ایمان اور جسمانی صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور بقیہ افراد کو بھی ان کی طرح اپنی دولت کو صحیح معنوں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں