Prime Minister Shehbaz Sharif 161

عوامی فلاح و بہبود کے جعلی نعرے اور مگر مچھ کے آنسو بہانے والے وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی غلامی کا پٹہ

رپورٹ /حاجی محمد ناصر قادری (تازہ اخبار پی این پی نیوز ایچ ڈی)

گفتگو کرتے ہوئے شاہد میر ایڈووکیٹ سابق صدر بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ
عملی طور پر ڈال کر 20 روپے پٹرول مہنگا کر دیا غریب عوام بچے بیچنے اور خواتین اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہو چکی ہیں مسٹر وزیر اعظم خودکشیاں معمول بنتی جا رہی ہیں اگر جواز یہ ہے کہ ملک ڈیفالٹ کے نزدیک تھا تو اس کرپٹ بیوروکریسی کیلئے کڑرورں کی گاڑیاں خریدنے کا کیا جواز تھا خضرت ابوبکر صدیق نے تو مزدور اور اپنی تنحواہ برابر مقرر کی تھی اس ملک کے کرپشن میں لتھڑے وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج کے ٹی اے ڈی سے اور تنحواہیں کس اسلامی ظابطہ کے تخت دی جا رہی ہیں مسٹر وزیر اعظم آپ سمیت ساری سیاسی جماعتوں کے سربراہ اپنی عمر پر غور کریں یقین کریں عزرائیل آپکے گھروں کے نزدیک ہی گھوم رہا ہے اب بہت ہوگیا قوم جعلی درد والی تقریریں اب قوم نہیں سننا چاہتی بچوں کو غربت میں زنگ آلود بھری سے ذبح کرنے والی ماں اور ذبح ہونے والا بچہ روز قیامت آپکا گریبان پکڑ کر رب کے حضور چیخے گا کہ یہ ظالم اور کرپٹ حکمرانوں کو ہم جنت میں نہیں جانے دیں گے
اب بھی وقت ہے کہ آپ سمیت سارے سیاستدان اپنی جائز و ناجائز دولت قومی خزانے میں جمع کروا کر قوم سے معافی مانگیں اور خلفاے راشدین کا دور تازہ کریں اگر کسی سیانے سے مشورہ کیا ہوتا تو یہ 20 روپے پٹرول مہنگا آنے والی نگران حکومت پر چھوڑ دیتے آج بھی بیغیر اپوزیشن کے پارلیمنٹ میں یہ بل بھی منظور کروا لیتے کہ کوئی بھی پارلیمنٹرین تنحواہ سمیت کوئی مراعات نہیں لے گا مگر کیا کریں کرپشن آپ کریں حرامکاریاں آپ کریں ٹیکس غریب عوام دے آج فیصل مسجد کے باہر قلفی بیچنے والا گرفتار ہو اور کئی کئی سالوں کے اشتہاری قوم کی دولت لوٹنے والوں کو آپ وزیر بنا دیں قوم آپکی اور سارے سیاستدانوں کی معافی اور لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کا اعلان سننا چاہتی ہے یورپ کا فنڈ کھانے والی انسانی حقوق کی تنظیموں جاگو ملک کے علمائے کرام اب تو اٹھو کملی والے آقا کو قیامت کو کیا شکل دکھاؤ گے
ورنہ قیامت بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری تھی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں