my voice 55

28 مئی 1998 کو پرامن ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر ملک بنا دیا، اور فضا “”اللہ اکبر”” کے پر جوش نعروں سے گونج اٹھی

میری آواز

28 مئی 1998 کو پرامن ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر ملک بنا دیا، اور فضا “”اللہ اکبر”” کے پر جوش نعروں سے گونج اٹھی

کالم نگار/اعجاز احمد طاہر اعوان

آج 28 مئی 1998، قومی تاریخ کا یادگار، ایٹمیبقوت اور پاکستان کی دفاعی تاریخ کی عظمت کا دن ہے، آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں پورے جوش و خروش اور پورے عقیدت و احترام کے ساتھ “”یوم تکبیر”” کا یہ یادگار دن منایا جا رہا ہے۔ ہم سب کی زندگیوں میں 28 مئی 1998 کا تاریخ ساز دن ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ اس روز اس وقت کے وزیراعظم آف پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنی جرآت، دیدہ دلیری، بہادری، اور قومی جذبے کے جزبے کے تحت ہندوستان کے صرف تین ایٹمی دھماکوں کے جواب میں بلوچستان (چاغی) کے مقام پر 6 کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے ہندوستان کا منہ توڑ جواب دے کر، اس کا سر دنیا بھر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جھکا دیا۔ اور پاکستان کی پوری قوم نے اپنی ایٹمی قوت کا لوہا بھی منوا لیا، چاغی کا سیاہ پہاڑ یکدم سرخ ہو گیا، اور پورے علاقہ کی فضا “”اللہ اکبر، اللہ اکبر”” کے نعروں سے گونج اٹھی، پرامن ایٹمی دھماکوں سے مغربی طاقتوں کی طرف سے مسلسل پاکستان۔پر معاشی دباو ڈالا گیا، مگر اس وقت کے وزیراعظم آف پاکستان میاں محمد نواز شریف نے ہر قسم کے اندرونی و بیرونی طاقتوں کے دباو کو قبول کرنے سے نہ صرف انکار کر دیا، بلکہ ان کے دباو کا منہ توڑ جواب بھی دے دیا۔ اور ان سب کی باتوں کا بھی کھل کر انکار کر دیا، اس طرح پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ساتواں اور مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی طاقت رکھنے والا اسلامی ملک بھی بن گیا۔ اور پاکستان نے ایٹمی طاقت رکھنے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔ ایٹمی دھماکوں کا سہرا پاکستان کے ایٹمی قوت کے معروف محب وطن سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ذوالفقار علی بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کو یکساں طور پر جاتا ہے۔ ایٹمی پروگرام کا آغاز 1950 کی دہائی میں پاکستان نے اٹامک انرجی کمیشن قائم کر کے کیا۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ “”پاکستانی قوم گھاس کھا لے گئی، لیکن ایٹم بم ضرور بنائے گی”” اس کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو صدر پاکستان بنے تو انہوں نے حکم دیا کہ تین سال کے اندر یہ ایٹمی طاقت کا منصوبہ مکمل کیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ملکی خدمت اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر وطن واپس آ گئے۔ اور ایٹمی پروگرام پر اپنے رفقاکار کی ٹیم کے تعاون اور ساتھ مل کر اپنا کام شروع کر دیا۔ میاں محمد نواز شریف نے بین الاقوامی دباو اور مخالفت کے باوجود چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان اور پوری قوم کے سر کو پوری دنیا کے سامنے “”ناقابل تسخیر”” ملک بنا دیا۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس وقت پاک فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے مضبوط ہاتھوں میں آج بھی محفوظ ہے۔ اور اس کے ایٹمی منصوبے کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پوری قوم آج اللہ کی نصرت اور فتح کے یادگار موقع پر اللہ پاک کے حضور سجدہ ریز بھی ہے اور دعاگو بھی ہے کہ اللہ پاک اس وطن عزیز کی حفاظت فرماتے ہوئے اسے ایک طاقت ور ملک ہونے کے اعزاز سے ہمیشہ برقرار رکھے، اور ایک سپر طاقت بن کر ہی ہمیشہ دنیا کے سامنے مکمل سربلندی کے ساتھ قائم و دائم رکھے۔
(آمین ثم آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں