اور ہم بھول جاتے ہیں۔ اپنی ذات کو.نمیرہ محسن 90

بادلوں کے سینے میں شاعرہ : نمیرہ محسن

بادلوں کے سینے میں
قصے ہیں دور دیسوں کے
پریاں جہاں پہ رہتی ہیں
بڑے بڑے قلعے بھی ہیں
نرم نرم پربت بھی
سورج وہاں پہ بہتا ہے
چندا وہاں بسیرا ہے
تارے ٹہنیوں پہ کھلتے ہیں
دو جہاں جہاں پہ ملتے ہیں
دل بجھا بہت تو لے آو
دیے ہر قدم پہ جلتے ہیں
زمیں پہ رہنے والے پتھر دل
یہاں تم کو چھو نہ پائیں گے
بادل کا نرم پھاہا ہے
جنت کا نرم بستر ہے
نمیرہ محسن جون 2021

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں