الوداع 2022 325

(جمہوریت اور پاکستانی متنازعہ انتخابی نتائج) قسط ایک سو( بیس ڈاکٹر زین اللہ خٹک)

ڈاکٹر زین اللہ خٹک
جمہوریت کا لفظ دو یونانی الفاظ “ڈیموس” اور “کراٹوس سے بنا ہے۔ ڈیموس کا مطلب ہے لوگ، اور “کراٹوس” کے معنی طاقت۔ لہذا جمہوریت “عوام کی طاقت” کی حکمرانی کے نظام کو کہا جاتا ہے ۔ یہ حکمرانی کا ایک طریقہ ہے جو عوام کی مرضی پر منحصر ہے۔ جہاں عوام اپنی مرضی کے زریعے حکمرانوں کا انتخاب کرتی ہیں ۔ دنیا بھر میں جمہوریت کے مختلف ماڈلز رائج ہیں ۔کوئی دو نظام بالکل ایک جیسے نہیں ہیں اور کسی ایک نظام کو “ماڈل” کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ صدارتی اور پارلیمانی جمہوریتیں ہیں، وہ جمہوریتیں جو وفاقی یا وحدانی ہیں، جمہوریتیں جو متناسب ووٹنگ کا نظام استعمال کرتی ہیں، اور وہ جمہوریتیں جو اکثریتی نظام کا استعمال کرتی ہیں جمہوریتیں جو بادشاہتیں بھی ہیں، وغیرہ۔
ایک چیز جو جمہوریت کے جدید نظاموں کو متحد کرتی ہے، اور جو انہیں قدیم ماڈل سے ممتاز بھی کرتی ہے، وہ ہے عوام کے نمائندوں کا استعمال۔ قانون سازی میں براہ راست حصہ لینے کے بجائے، جدید جمہوریتیں ان نمائندوں کو منتخب کرنے کے لیے انتخابات کا استعمال کرتی ہیں جنہیں عوام اپنی طرف سے حکومت کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ ایسے نظام کو نمائندہ جمہوریت کہا جاتا ہے۔ یہ “جمہوری” ہونے کا کچھ دعویٰ کر سکتا ہے کیونکہ اس نظام میں سب کی برابری (ایک شخص – ایک ووٹ)، اور ہر فرد کا کسی حد تک ذاتی خودمختاری کا حق حاصل ہے 1947 میں تقسیم کے بعد پاکستان جمہوری حکومتوں کے نام پر تجربہ گاہ بنا ہوا ہے ۔موجودہ بحران بائیس مہینوں سے جاری ہے ۔ جب عمران خان کی حکومت کو عدم اعتماد کے زریعے سے ہٹایا گیا ۔خان اور ان کے لاکھوں پیروکاروں کے لیے، ان کی برطرفی پاکستان کی طاقتور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے ساتھ مل کر کی تھی۔عام انتخابات 2024 کے نتائج نے غیر یقینی صورتحال کی صورت اختیار کرلی ہے ۔ کیونکہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات نے ملک کو گھیر لیا ہے۔ اب تک پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار اس دوڑ میں آگے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پارٹی نشان استعمال کرنے سے روک دیا تھا جس کے باعث انہیں مختلف نشانات پر الیکشن لڑنا پڑا۔ ان کو جلسوں اور جلوسوں سے روکا گیا ۔ جو کہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں ۔ لیکن پھر بھی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارں نے ملک بھر میں کامیابیاں حاصل کیں ۔ لوگوں نے تمام رکاوٹوں کے باجود بڑے پیمانے پر تحریک انصاف کو ووٹ دیا ۔پاکستان کا سب سے طاقتور ادارہ فوج ہمیشہ حکومتیں بنانے اور توڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو عوام کی حمایت اور ہمدردیاں حاصل ہے۔ لیکن فوج نے نتائج تبدیل کر کے رکھ دیے ۔ جس کی وجہ سے غیر یقینی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔جس طرح انتخابی نتائج کو تبدیل کر دیا گیا ۔ جس طرح عوام کے مینڈیٹ کو تبدیل کیا گیا یہ جمہوریت اور جمہوری نظام کے ساتھ مذاق کے سوائے کچھ نہیں ۔ جمہوریت میں عوامی ووٹ کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں مضبوط فوج اپنی مرضی کے مطابق نتائج کو مرتب کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری نظام کا جائزہ لینے والے بین الاقوامی ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں رائج طرزِ حکمرانی کو اتھاریٹیریئن یعنی آمرانہ قرار دیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کی رینکنگ میں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے اور اب پاکستان گذشتہ سال کی رینکنگ میں 11 درجوں کی تنزلی کے بعد اقوام عالم میں 118 نمبر پر آ گیا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں