2025 پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے لیے تاریخی سال ثابت ہوا، سفیر پاکستان احمد فاروق
ریاض : رپورٹ عالم خان مہمند ، پی این نیوز ایچ ڈی
سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے ریاض میں پاکستانی صحافیوں سے ملاقات اور پریس بریفنگ کے دوران سال 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی نمایاں اور تاریخی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سال دونوں برادر ممالک کے لیے اسٹریٹجک، معاشی اور سفارتی سطح پر غیر معمولی اہمیت کا حامل ثابت ہوا.
سفیر پاکستان نے بتایا کہ سال 2025 کی سب سے اہم پیش رفت ستمبر میں اسٹریٹجک نیوٹرل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کی صورت میں سامنے آئی، جو وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں طے پایا۔ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے گزشتہ پانچ سے چھ دہائیوں پر محیط دفاعی تعلقات کو ایک نئی اور مضبوط جہت دیتا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو مشترکہ خطرہ تصور کیا جائے گا، جو خطے میں استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کی واضح مثال ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاہدے کے ایک ماہ بعد وزیر اعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کی ملاقات کے نتیجے میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کے فریم ورک پر اتفاق ہوا۔ اس فریم ورک کا مقصد دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ معاشی روابط کو بھی مضبوط بنانا ہے، جس پر عملی کام جاری ہے اور اس کے مثبت نتائج جلد سامنے آنے کی توقع ہے.
سفیر احمد فاروق کے مطابق سال 2025 میں اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل برقرار رہا۔ وزیر اعظم پاکستان نے چار مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کیا، جبکہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے دورے بھی عمل میں آئے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا جانا دونوں ممالک کے درمیان گہرے دفاعی اعتماد کی علامت ہے.
وزیر خارجہ کی سطح پر بھی سال بھر میں متعدد ملاقاتیں اور آٹھ اہم ٹیلی فونک رابطے ہوئے۔ اکتوبر میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران اس بات کے واضح اشارے ملے کہ زیرِ تکمیل معاہدوں کی تکمیل کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آئندہ سال کے پہلے یا دوسرے کوارٹر میں پاکستان کا دورہ کریں گے.
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے بتایا کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے نہایت مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔ سعودی قیادت کی سفارتی کوششوں نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جسے پاکستان نے سراہا.
بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کا تعاون مضبوط رہا۔ پاکستان 2025-26 کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے، جہاں اسلامی دنیا خصوصاً غزہ سے متعلق معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی مشاورت اور تعاون جاری رہا۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی حمایت اسی تعاون کا مظہر ہے.
معاشی میدان میں پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر پاکستان نے بتایا کہ جنوری میں فیوچر منرلز فورم، فروری میں جدہ میں پاکستان کی پہلی سنگل کنٹری نمائش، آئی ٹی کانفرنسز اور سرمایہ کاری فورمز میں پاکستانی وفود نے بھرپور شرکت کی۔ آئی ٹی سروسز کی برآمدات 43 ملین ڈالر سے بڑھ کر 74 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو تقریباً 68 فیصد اضافہ ہے، جبکہ رواں سال یہ حجم 100 ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے.
انہوں نے بتایا کہ سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل کی نئی تشکیل عمل میں آ چکی ہے، جبکہ 33 ایم او یوز میں سے 20 مکمل معاہدوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔ ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور زراعت سمیت آٹھ اہم شعبوں میں تجارت کو سرپلس کی جانب لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے.
ثقافتی شعبے میں بھی نمایاں سرگرمیاں ہوئیں، جن میں نیشنل ڈے ریسیپشن، پاکستانی فلم کی نمائش، انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے ایونٹ اور ٹرک آرٹ کی نمائش شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے پاکستانی ثقافت کو سعودی عوام کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا، جبکہ ثقافتی تعاون کے ایم او یو کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے.
پریس کانفرنس کے اختتام پر سفیر پاکستان نے اعلان کیا کہ پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے ویب بیسڈ الیکٹرانک اپوائنٹمنٹ سسٹم عنقریب لانچ کیا جا رہا ہے، جس کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ یہ نظام ابتدائی طور پر مشین ریڈایبل پاسپورٹ سروس کے لیے پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرایا جائے گا، جس کے بعد دیگر قونصلر خدمات تک اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، تاکہ بالخصوص مصروف پروفیشنلز سمیت تمام افراد کم سے کم وقت میں خدمات حاصل کر سکیں.
سفیر پاکستان نے بتایا کہ سعودی عرب میں تقریباً 30 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور ان کی خدمت سفارت خانے کی اولین ترجیح ہے۔ سال 2025 کے دوران ہزاروں ریپیٹری ایشن کیسز کامیابی سے پروسیس کیے گئے. قیدیوں کی رہائی کے لیے 12 لاکھ سعودی ریال کے جرمانے کمیونٹی کے تعاون سے ادا کیے گئے.قونصلر ہالز کی مکمل تزئین و آرائش کی گئی، جس کا افتتاح نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کیا.
انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ سفارت خانہ کمیونٹی سروسز میں بہتری اور اصلاحات کے لیے مسلسل کوشاں ہے.
آخر میں سفیر پاکستان نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مزید مضبوط ہوں گے اور آنے والا وقت دونوں ممالک کے لیے نئی کامیابیوں کا پیامبر ثابت ہوگا.




