word is one, the Qur'an is one 215

کلمہ ایک، قرآن ایک، اللہ ایک، نبی ایک پھر ہم کیوں نہ ہو ں ایک الشیخ ثناءاللہ صادق تیمی

رپورٹ/اعجاز احمد طاہر اعوان(تازہ اخبار پی این پی نیوز ایچ ڈی)

مکہ المکرمہ کلاک ٹاور CLOCK TOWER” ، پی 4 کے حجاج کے خدمت گزار کارکن سید حسنین زیدی’ سید رشیق احمد، مسعود اعظم خان، سید طالب احمد، بھائی اعجاز الحق،جمن خان، محمد شاہین ملک،عمران خان، عامر رضا ،اشفاق بزمی، سید سمیع الزماں، حاجی کفیل احمد وغیرہ نے الشیخ ثناءاللہ صادق تیمی کی تائید کرتے ہوئے عملی طور پر اصلاح کی اپیل کی ھے کہ مضمون سے مستفید ہوکر دوسروں تک پیغام پہنچائیں-آپ اسلام کے کسی بھی رکن یا کسی بھی حکم پر غور کی نظر ڈالیں ، آپ کو اس میں صرف ایک اللہ کی عبادت اور صرف اسی سے منسلک ہونے کا زاویہ روشن نظر آئے گا ۔ کلمہ شہادت تو لفظا و معنی ظاہرا و باطناً اسی کا اظہاریہ ہے ہی ۔ صوم و صلوٰۃ میں بھی یہ زاویہ ایک دم روشن ہے کہ ہم صرف اللہ کے لیے ہی نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں ۔ اسی سے ثواب کی امید رکھتے ہیں اور صرف اسی سے اپنی ضرورتیں مانگتے ہیں۔ زکوٰۃ بھی ہم اسی کے حکم اور اسی کی رضا کے حصول کے لیے دیتے ہیں اور حج کی عبادت بھی اسی کے حکم سے اسی کا ذکر قائم کرنے کو ادا کرتے ہیں ۔

ان تمام ارکان اور احکام پر آپ غور کریں گے تو دوسرا زاویہ بندوں سے ہمدردی اور ان کے ساتھ بھلائی کا روشن ہوتا نظر آئے گا ۔ کلمہ شہادت کے بعد اخوت اسلامی کے بندھن میں بندھ جانا ، نماز با جماعت ادا کرنا اور احباب و اخوان کی خبر گیری کرنا ، غریبوں کو صدقہ و خیرات دینا ، روزہ دار کو افطار کرانے پر اجر پانا ، بھوک پیاس کی شدت سے گزر کر بندوں کی ضرورتوں کے تئیں مزید حساس ہونا اور حج میں کھانا کھلانے اور سلام پھیلانے کے ساتھ اجتماعیت و وحدت کا عملی مظاہرہ کرنا وغیرہ بتلاتا ہے کہ اس دین میں دو زاویے بہت روشن ہیں ۔ ایک اللہ کی خالص عبادت، شرک سے دوری اور خالق سے انتہائی مضبوط رشتہ اور دوسرا بندوں سے ہمدردی اور ان کے ساتھ بھلائی۔

آپ دیکھیں گے کہ بہت سے لوگوں پر پہلا زاویہ روشن نہیں اور وہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی بہت سے مظاہر شرک میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں پر ترس آتا ہے ۔ اسلام کی بنیاد ہی سے نابلد ہیں لیکن جو آگاہ ہیں ان پر جوش مناظرہ سوار ہے اور خیر خواہی کے جذبے سے لگ بھگ عاری ہیں ، اس لیے ان تک پہنچ کر انہیں سمجھانے کا کام کم کم ہی کرتے ہیں ۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ بہت سے لوگوں پر دوسرا زاویہ روشن نہیں ہے ۔ اس میں دو طرح کے لوگ ہیں ۔ ایک تو عبادت کے نشہ میں ایسے چور رہتے ہیں کہ انہیں بندوں سے کوئی مطلب نہیں ہوتا ، خود کو ان سے برتر سمجھتے ہیں اور کبر و فریب کی بنائی ہوئی ایک ایسی دنیا میں جیتے ہیں جسے انہوں نے زبردستی پرہیز گاری کا نام دیا ہوا ہے اور دوسرے وہ کور نگاہ ہیں جنہیں ان ارکان و احکام میں انسانی زاویے نظر ہی نہیں آتے اور وہ انسانوں کی خدمت کی خاطر انہیں ہی بدلنے کی احمقانہ باتیں کرتے رہتے ہیں ۔

درست سمجھ والے صرف ایک اللہ کی عبادت خلوص نیت کے ساتھ کرتے ہیں اور بندوں کے ساتھ ہمدردی اور فائدہ رسانی کا رویہ اپناتے ہیں ۔ دونوں کے بیچ کسی کنفیوژن کے شکار نہیں ہوتے اور یہ روشنی انہیں کتاب اللہ اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتی ہے ۔
(جزاک اللہ خیر)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں