1373 / 5000 Translation results US court acquits two Muslim defendants in 56-year-old Malcolm X murder case 264

امریکا میں انسانی حقوق کے علمبردار “میلکم ایکس” قتل کیس دو مسلم ملزمان کو 56 برس کے بعد ایک عدالت نے بے قصور قرار

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

جج وینس نے تسلیم کیا کہ محمد عزیز اور خلیل اسلام کو غلط سزائیں سنائی گئی تھیں۔ وہ دونوں بے قصور تھے اور یہ دونوں افراد ‘انصاف کی تاریخی موت’کا شکار ہو گئے۔وینس نے بعد میں نیویارک ٹائمز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، یہ دونوں جس انصاف کے مستحق تھے وہ انہیں نہیں ملا۔ ہم اس کے علاوہ اور کیا اعتراف کرسکتے ہیں کہ غلطی ہوئی، ایک سنگین غلطی.
خلیل اسلام 12برس قبل ہی وفات پا چکے ہیں۔ محمد عزیز نے فیصلے کے بعد کہا کہ انہیں ایسے بدعنوان نظام کا سامنا کرنا پڑا جسے امریکا میں سیاہ فام بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عدالتی نظام اس نقصان کی بھی ذمہ داری قبول کرے جو انہیں 55 برس تک بھگتنا پڑا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق مینہیٹن ڈسٹرکٹ جج کے دفتر اور وکلاء نے 22 ماہ تک مشترکہ طور پر اس کیس کی تفتیش کی۔ انہوں نے پایا کہ استغاثہ، ایف بی آئی اور نیویارک محکمہ پولیس نے ایسے شواہد کو چھپا یا جن کی بنیاد پر یہ دونوں افراد بے قصور قرار پاتے۔

امریکا میں انسانی حقوق کے علمبردار میلکم ایکس کا سن 1965میں قتل کر دیا گیا تھا۔ محمد عزیز اور خلیل اسلام کو ان کے قتل کا قصور وار قراردیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔ اب 56 برس بعد نیویارک کے ڈسٹرکٹ جج سائرس وینس نے گزشتہ روز اپنے فیصلے میں کہا کہ شواہد کی بنیاد پر وہ ان دونوں ملزمین کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں