یو اے ای نے پاکستان کا 2 ارب ڈالر قرض صرف ایک ماہ کیلئے رول اوور کر دیا، ایک سالہ توسیع کیلئے مذاکرات جاری
اسٹاف رپورٹ :پی این نیوز ایچ ڈی
متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے قرض کو صرف ایک ماہ کیلئے رول اوور کر دیا ہے، جس کے تحت یہ قرض جنوری میں میچور ہونے کے بعد فروری تک عارضی طور پر توسیع دی گئی ہے، تاہم پاکستان نے یو اے ای سے اس قرض کو ایک سال کیلئے دوبارہ رول اوور کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق 2 ارب ڈالر کے اس قرض کی میچورٹی جنوری میں مکمل ہو رہی تھی، جس کے پیش نظر پاکستان کو قلیل مدت کیلئے فوری ریلیف فراہم کرتے ہوئے فروری تک توسیع دی گئی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قرض کی طویل المدتی توسیع کیلئے وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ کی جانب سے یو اے ای حکام سے مسلسل رابطے جاری ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اس وقت متحدہ عرب امارات کے 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بطور سیف ڈپازٹ موجود ہیں، جن میں سے ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط جولائی میں میچور ہونے والی ہے، جسے رول اوور کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران یو اے ای کی جانب سے پاکستان کو ان ڈپازٹس کے رول اوور کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق یو اے ای کے قرض پر شرح سود 6.5 فیصد سے زائد ہونے کا امکان ہے، جبکہ قرض کی شرائط اور مدت سے متعلق حتمی فیصلہ باہمی مشاورت کے بعد متوقع ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ رول اوور کی منظوری سے زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملے گا اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں وقتی کمی آئے گی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے رول اوور کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس مقصد کیلئے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سیف ڈپازٹس اور قرضوں کے رول اوور سے متعلق جامع پلان تیار کیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں کے رول اوور سے قلیل مدت میں زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ضرور ملتا ہے، تاہم طویل مدت میں بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں بیرونی فنانسنگ پر دباؤ کم کیا جا سکے۔




