آج بانی پاکستان ،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا یوم وفات منایا جارہا ہے۔حمزہ شہباز شریف 240

آج بانی پاکستان ،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا یوم وفات منایا جارہا ہے۔حمزہ شہباز شریف

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

جنہوں نے اپنی تعلیمات میں ہمیشہ پاکستانیوں کو وطن سے وفا کا درس دیا،آپ نےحصول پاکستان کے لئے قانونی جنگ اور مستقل مزاجی کو اپنا موٴثر ہتھیار بنایا اور قیام پاکستان کے بعد ملکی ترقی کے لئے رہنماء اصول مرتب کئے کہ ہمیں پنجابی،سندھی،بلوچی، پٹھان بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچنا ہے لیکن انا پرستی اور سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے قائد کا پاکستان تنزلی کا شکار ہے۔ موجودہ حالات میں تحریک پاکستان کے کارکن بھی ملکی ترقی کے لئے قائد کے فرمودات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہیں۔ قائد کا فرمان ہے کہ دنیا کی کوئی قوم جمہوریت میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی، جو اپنے مذہب میں بھی جمہوری نقطہ نظر رکھتے ہیں۔آجکل غیرسنجیدہ اور منفی سیاست ایک بار پھر قوم کے مستقبل اور جمہوریت پر کالے بادل بن کر منڈلا رہی ہے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ قائد کے بتائے ہوئے جمہوری اصولوں کی ایک بار پھر ورق گردانی کی جائےخوددار، خوشحال، خودمختار پاکستان کے لیے پوری قوم کو سیاسی گروہ بندی سے بالا تر ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی اخوت اور امن کے رشتے کی بدولت ہی ایک پرامن اورمستحکم پاکستان کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔
آج محسن پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کےیوم وفات پر ہر محب وطن دعاگو ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی آپ پر بےشمار رحمتیں نازل فرمائے ،جنت الاعلٰی میں بلندیء درجات پر فائز فرمائے پاکستانی قوم کو آپ کے بتائے ہوئے رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو اقوام عالم میں سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین
اس موقع پر پاکستانی قوم کو حاصل اس عظیم ترین شخصیت اور ان کی خدمات پر بین الاقوامی راہنماؤں کے چند تاثرات فقط یہ احساس دلانے کے لیئے کہ میں اور آپ کس قوم کے فرزند اور کن درخشاں روایات کے وارث ہیں۔
مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینی
قائدِ اعظم دسمبر 1946ء میں لندن سے واپسی پر قاہرہ میں ٹھہرے۔یہیں پر اخوان المسلمون کے عظیم رہنما امام حسن البنا شہید بھی آپ سے ملے اور آپ کو قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی پیش کیا یہ نسخہ اب بھی مقبرہ قائد کے ساتھ واقع میوزیم کی زینت ھے۔ انہی دنوں مفتی اعظم قاہرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک تقریب میں آپ نے قائد کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا۔
” میں نے محمد علی جناح سے گفتگو کی ہے۔ مجھ سے زیادہ برطانوی ملوکیت کا دشمن شاید ہی کوئی ہو۔ میں نے محمد علی جناح کے خیالات کو انگریز دشمنی کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ وہ حقیقتاّ آزادی چاہتےہیں اور آزادی کے لیے انگریز سے مقابلے کا عزم رکھتے ہیں۔ میں ان سے گفتگو کے بعد اس نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ جناح صاحب نہ صرف دستوری اور آئینی شخصیت کے حامل ہیں بلکہ انقلابی رہنما بھی ہیں۔ انقلابی افکار و خیالات ان کے دل و دماغ میں راسخ ہو چکے ہیں۔ مجھے اس امر کا یقین ہو گیا ہے کہ ہندوستان کے عوام اپنی آزادی کے لیے برطانوی شہنشاہت اور ہندو سرمایہ داری دونوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے ہیں”۔
پاکستان بننے کے بعد جناب مفتئ اعظم نے فرمایا، “اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلسطین کے بدلے میں پا کستان کا خطہ عنایت فرمایا ہے۔”
مولانا ابوالکلام آزاد
“قائدِ اعظم محمد علی جناح ہر مسئلے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے تھے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے” ۔
فخر الدین علی احمد (سابق صدر بھارت)
“میں قائدِ اعظم کو برطانوی حکومت کےخلاف لڑنے والی جنگ کا عظیم مجاہد سمجھتا ہوں” ۔
کلیمنٹ اٹیلی (سابق وزیرِ اعظم برطانیہ )
“نسب العین “پا کستان” پر ان کا عقیدہ کبھی غیر متزلزل نہیں ہوا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے جو انتھک جدو جہد کی وہ ہمییشہ یاد رکھی جائے گی “۔
مسولینی (وزیرِ اعظم اٹلی )
“قائدِ اعظم کے لیے یہ بات کہنا غلط نہ ہو گی کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت تھے جو کہیں صدیوں میں جا کر پیدا ہوتی ہے” ۔
بر ٹرینڈ رسل (برطانوی مفکر)
“ہندوستان کی پوری تاریخ میں کوئی بڑے سے بڑا شخص ایسا نہیں گزرا جسے مسلمانوں میں ایسی محبوبیت نصیب ہوئی ہو” ۔
مہاتما گاندھی
“جناح کا خلوص مسلم ہے ۔ وہ ایک اچھے آدمی ہیں ۔ وہ میرے پرانے ساتھی ہیں ۔ میں انہیں زندہ باد کہتا ہوں” ۔
پنڈت جواہر لال نہرو
“اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا “۔
ماسٹر تارا سنگھ (سکھ رہنما)
“قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی ۔ اگر یہ شخص سکھوں میں پیدا ہوتا تو اس کی پوجا کی جاتی”۔
سر ونسٹن چرچل
برطانوی وزیرِ اعظم “مسٹر جن…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں