عالمی برادری کو افغان شہریوں کو ترجیح دینا ہو گی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 258

عالمی برادری کو افغان شہریوں کو ترجیح دینا ہو گی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

افغانستان کو اس کے غیر ملکی زخائر اور عالمی مالیاتی اداروں تک رسائی نہ دینے سے افغان عوام کے مصائب میں مزید اضافہ ہوگا‘قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکتا‘مستحکم اور پر امن افغانستان ہی عالمی برادری کا بہتر شراکت دار بن سکتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بدھ کو امریکہ اور جرمنی کی میزبانی میں افغانستان کے حوالے سے منعقدہ وزارتی رابطہ ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے، گذشتہ چالیس سالوں سے افغانستان میں جاری جنگ و جدل سے شدید متاثر ہوا، افغانستان کا امن و استحکام ہمارے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے، امریکی صدر جو بائیڈن کے 31 اگست 2021 کو دیے گئے پیغام کو سراہتے ہیں،ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ آج افغانستان کی صورتحال یکسر بدل چکی ہیں۔ طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔پاکستان توقع رکھتا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں حاصل کی گئی سماجی و اقتصادی ترقی کے فوائد کو محفوظ بنانے کیلئے تحرک کیا جائے گا۔پاکستان، افغانستان کا قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے اس صورت حال سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان، میں ایک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور وہاں قحط جیسی صورتحال، خوراک کی کمی اور بڑھتے ہوئے افراط زر کے حوالے سے رپورٹس ہم سب کے سامنے ہیں، ہمیں اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ معاشی بحران اس خطرے کو مزید بڑھا سکتا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانوں کی معاشی معاونت کو یقینی بنایا جائے۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے بارڈرز، افغانوں کیلئے کھلے ہیں لیکن دنیا کو ہماری بساط کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ہم پہلے سے ہی دستاویزی اور غیر دستاویزی طور پر 4 ملین افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں، ہمارے وسائل مزید مہاجرین کا بوجھ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔عالمی برادری کو افغان شہریوں کو ترجیح دینا ہو گی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کو اس کے غیر ملکی زخائر اور عالمی مالیاتی اداروں تک رسائی نہ دینے سے ان کے مسائل کا تدارک نہیں ہو سکتا،یہ ہمارے اجتماعی مفاد میں ہے کہ ہم معاشی مشکلات کے باعث افغانوں کو ہجرت کرنے کا موقع فراہم نہ کریں جو بصورتِ دیگر اپنے ملک میں اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کابل سے مختلف ممالک کے شہریوں کو انخلاءمیں بھرپور معاونت فراہم کی اور امریکہ کی درخواست پر بیرونی ممالک میں منتقلی کے خواہش مند افغانوں کے “ٹرانزٹ” کے بندوبست کیے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کابل ہوائی اڈے کا فعال رہنا ضروری ہے،اس طرح ہمارے باڈرز پر موجود دبائو میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سے بڑھ کر کوئی ملک ایسا نہیں جو چاہتا ہو کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کی پھر سے آماجگاہ نہ بنے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی اور ہمارے ملک کو 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،ہمیں تشویش ہے کہ کہیں القاعدہ، آئی ایس آئی ایس‘کے،بی ایل اے، اور تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروہ افغانستان کی سرزمینِ کو اپنے مضموم مقاصد کیلئے استعمال نہ کریں۔یہ صورت حال افغانستان میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔لہذا ضروری ہے کہ ایسا سیاسی خلاء پیدا نہ ہونے دیا جائے جس میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہو۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغانستان کی مستقل معاونت ہی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ہماری بہترین سرمایہ کاری شمار ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں