اوورسیز پاکستانیوں کا مستقبل۔ زندگی کی جمع پونجی جعلی منصوبوں کی نظر رپورٹ (الدمام سردار صغیر برقی، تازہ اخبار ، پاک نیوز پوائنٹ) 259

اوورسیز پاکستانیوں کا مستقبل۔ زندگی کی جمع پونجی جعلی منصوبوں کی نظر

رپورٹ (الدمام سردار صغیر برقی، تازہ اخبار ، پاک نیوز پوائنٹ)

2008 میں پاکستان کے اخبارات میں ایڈن گروپ، جو کہ رئیل اسٹیٹ میں اپنے پروجیکٹس، خاص طور پر بیدیاں روڈ پر ایڈن ایونیو، گلبرگ مین بلیوارڈ پر ایڈن ٹاور وغیرہ کی وجہ سے اپنا نام بنا چکے تھے، نے اشتھار دیا جس میں کچھ ایسے منصوبوں کی تشہیر کی گئی جو کہ متوسط طبقے کی پہنچ میں تھے۔ چونکہ ایڈن گروپ اپنا اچھا نام بنا چکا تھا اور نئے پروجیکٹس میں کوئی دھوکا یا فراڈ نظر نہیں آ رہا تھا، لوگوں نے ان کے نئے منصوبوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یہ منصوبے ساڑھے تین مرلے کے پلاٹس اور گھروں سے لے کر، پانچ مرلے اور دس مرلے کے پلاٹس اور گھروں کے تھے جن میں انویسٹرز نے تین سے پانچ سال کے عرصے میں رقم قسطوں میں جمع کروانی تھی، ایڈن گروپ نے اس رقم سے لوگوں کے پلاٹس اور گھروں کی تکمیل کرنی تھی اور منصوبے کی مدت کے اختتام تک لوگوں کو ان کی انوسٹمنٹ کے حساب سےپلاٹس یا گھروں کی ملکیت دینی تھی۔
جو ٹائم لائن ایڈن کی طرف سے مہیا کی گئی تھی، اس میں چار سال میں ملکیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور پانچ سال میں اقساط جمع کروانے کا موقع دیا گیا تھا۔
منصوبہ شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد شورو غوغا بلند ہونا شروع ہو گیا جس میں میں ایڈن گروپ پر الزام لگایا گیا کہ وہ منصوبے میں تاخیر کر رہے ہیں۔ جب ایڈن والوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پنجاب گورنمنٹ کےلاہور رنگ روڈ کے منصوبے کی وجہ ایڈن کی کچھ زمین رنگ روڈ میں آ رہی ہے جس کی وجہ سے پلاٹس میں کمی ہو گئی ہے اور منصوبہ تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔
پنجاب گورنمنٹ سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ ایڈن کی جو بھی زمین رنگ روڈ منصوبے میں آ رہی ہے اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے رقم ایڈن گروپ کو ادا کر دی گئی ہے اور رنگ روڈ کے نام پہ ایڈن کی طرف سے منصوبے کی تاخیر کا کوئی جواز نہیں۔
وہ دن اور آج کا دن، ایڈن نے نہ تو لوگوں کے پیسے واپس کیا نہ ہی لوگوں کو ان کے پلاٹس یا گھر دیے گئے۔ اس اثناء میں کئی مراحل آئے۔ کچھ لوگوں نے مقتدر قوتوں کو استعمال کر کے اپنے مسائل ذاتی سطح پر حل کروائے۔ کچھ لوگوں نے منصوبے میں تعین کیے گئے پیسوں سے زیادہ پیسے دے کر پلاٹس یا گھر لے لیے، کچھ لوگوں نےاپنے ہی دیے ہوئے پیسے کچھ کمی بیشی سے واپس لے لیے۔ لیکن یہ لوگ بہت کم تھے۔ تقریبا 13000 لوگوں کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔
اس اثناء میں کچھ لوگ اپنی شکایت لے کر نیب میں چلے گئے۔ نیب میں جانے کے بعد تھوڑے بہت لوگوں کے مسائل جو حل ہو رہے تھے وہ بھی حل ہونا بند ہو گئے۔ 2020 کے اختتام تک عدالت نے ایڈن کے خلاف فیصلہ دے دیا اور نیب کو ایڈن کی جائیدادیں بیچ کر ان کی رقم متاثرین میں تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ نیب نے اس حکم پر عملدرآمد کرنے کے بجائے ایڈن سے پلی بارگین شروع کر دی۔
چند دن پہلے ایڈن کے مالک ڈاکٹر امجد کی وفات ہو گئی، نیب کے چیئرمین کی مدت ملازمت ختم ہونے والی ہے اور متاثرین جنہوں نے اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی لگا دی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ ان متاثرین میں کچھ ایسی خواتین بھی شامل ہیں جن کے شوہر وفات پا چکے ہیں اور جن کے پاس سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو خود وفات پا گئے ہیں اور بچے در بدر بھٹک رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں، جو کرائے کے گھروں میں رہتے تھے اور اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی ایڈن میں اس امید پہ لگا دی کہ ان کے بچوں کو محفوظ ٹھکانہ مل جائے گا لیکن وہ آج بھی کروائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
ہمیشہ کی طرح اوور سیز پاکستانیز نے بھی ان منصوبوں میں بڑھ چڑھ کو انویسٹمنٹ کی۔ غیر ممالک میں میں جاب ہمیشہ غیر مستحکم ہوتی ہے۔ پتا نہیں ہوتا کسی دن جاب سے نکال دیا جائے اور آپ کو بوریا بستر سمیٹ کر اپنے ملک واپس جانا پڑے۔ تمام خلیجی ممالک خاص طور پر سعودیہ میں شہریوں کو فوقیت دینے کا قانون آ گیا ہے۔ کتنے ہی غیر ملکیوں کی نوکریاں سعودیزیشن کی وجہ سے ختم ہو گئی ہیں۔ فیملی ٹیکس لگنے کی وجہ سے کتنے ہی غیر ملکیوں نے اپنے اہل خانہ کو اپنے ملک واپس بھیج دیا ہے۔ ارادہ یہ تھا کہ جیسے ہی ایڈن کے پلاٹس یا گھرملیں گے، ہم لوگ مستقلاً پاکستان میں سکونت اختیار کریں گے، اب حال یہ ہے کہ فیملی ٹیکس کی وجہ سے ہم فیملیز کو ساتھ رکھنے کے قابل نہیں اور پیچھے ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں جہاں ہم اپنی فیملیز کو بھیج سکیں۔ کیا اوور سیز پاکستانی، جن کی پاکستان بھیجی گئی رقوم اور پاکستان میں کی گئی انویسٹمنٹ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادار کرتی ہے، کہ سننے والا کوئی ہے؟ کیا اسلام کے نام پہ بنے ملکِ پاکستان میں ہم 13000 متاثرین کو کوئی انصاف دلائے گا؟
ہم جواب کے منتظر ہیں اور انصاف کی تلاش میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں