نیشنل کمانڈ اتھارٹی(این سی اے) کا پچیسواں اجلاس بدھ کو وزیر اعظم عمران کی زیر صدارت منعقد ہوا۔وفاقی وزراءخارجہ امور،دفاع،خزانہ اور داخلہ،چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی،نیوی،ائر فورس کے سربراہان ،ڈی جی آئی ایس آئی سمیت این سی اے کے تمام ارکان نے اجلاس میں شرکت کی 277

نیشنل کمانڈ اتھارٹی(این سی اے) کا پچیسواں اجلاس بدھ کو وزیر اعظم عمران کی زیر صدارت منعقد ہوا۔وفاقی وزراءخارجہ امور،دفاع،خزانہ اور داخلہ،چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی،نیوی،ائر فورس کے سربراہان ،ڈی جی آئی ایس آئی سمیت این سی اے کے تمام ارکان نے اجلاس میں شرکت کی

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

این سی اے نے پاکستان کے سٹریٹجک اثاثوں کی جامع سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ این سی اے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر جوہری سلامتی اور جوہری عدم پھیلائو کے اقدامات کو بہتر بنانے کی عالمی کوششوں میں بامعنی کردار ادا کرتا رہے گا۔این سی اے کو خطے میں تنازعات کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
این سی اے نے روایتی اور سٹریٹجک شعبوں میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے عدم توازن پر تشویش کا اظہارکیااور کہا کہ این سی اے اس پیش رفت کو امن اور سلامتی کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں داخل ہوئے بغیر خطے میں اسٹریٹجک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔
این سی اے نے کم سے کم ڈیٹرنس کی پالیسی کے مطابق فل سپیکٹرم ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے کا اعادہ کیا اور سٹریٹجک صلاحیتوں کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔این سی اے نے تربیت کے اعلی معیار اور سٹریٹجک فورسز کی آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور ان سائنسدانوں اور انجینئروں کی تعریف کی جن کی مسلسل کاوشوں نے پاکستان کو مطلوبہ مقاصد کے حصول میں کامیاب بنایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں