طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ خواتین کو وہ تمام حقوق ملیں گے جو شریعت نے ان کو دیے ہیں 463

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ خواتین کو وہ تمام حقوق ملیں گے جو شریعت نے ان کو دیے ہیں

(سٹاف رپورٹ ،تازہ اخبار ،پاک نیوز پوائنٹ)

طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان قوم کو بہت جلد قابل قبول سیاسی قیادت دیں گے۔
‏خواتین ڈاکٹر اپنی طبی خدمات اور میڈیکل طالبات اپنے اداروں میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ان کے وقار کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے۔ طالبان کی خواتین ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹوڈنٹس کو یقین دہانی۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ خواتین کو وہ تمام حقوق ملیں گے جو شریعت نے ان کو دیے ہیں اور ان سے امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔
منگل کو کابل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ سب گواہ ہیں کہ بیس سال کی جدوجہد کے بعد افغانستان کو آزاد کروایا۔
ترجمان نے کہا کہ افغانستان آزاد ہو گیا ہے سب کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری کو یقین دلایا کہ سفارت خانوں اور امدادی اداروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی خبریں ہمیں بدنام کے لیے پھیلائی گئیں کہ طالبان گھروں میں داخل ہوتے ہیں۔ بقول ان کے افغان فورسز ہم کو بدنام کرنے کے لیے عام لوگوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے اشرف غنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ وہ اتنی نااہل تھی کہ اس کی فورسز کچھ نہ کر سکیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ میڈیا اسی طرح کام کرتا رہے گا تاہم ہماری ثقافتی اقدار کا خیال رکھا جائے۔
ذبیع اللہ مجاہد نے کہا کہ اسلامی اصلوں کے مطابق خواتین کو کام کرنے کی اجازت ہو گی، طالبان کوئی انتقام نیہں لیں گے۔ عوام سے امید ہے کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔
اشرف غنی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’اشرف غنی لاپتہ ہیں، ہم کو ان کا کچھ پتہ نہیں۔
میڈیا آزاد ہے لیکن قواعدو وضوابط کی پابندی کرے۔ میڈیا بھارئی چارے کو فروغ دے۔‘
ان کے مطابق خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ سب کے عقائد کا احترام کیا جائے گا، کابل کے تمام شہری مطمئن ہیں، تمام مخالفین کو عام معافی دے دی ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ امریکی ترجمانوں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کرتے ہیں۔
سربراہ طالبان کے حکم سب کو معاف کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کابل کو غیر محفوظ بنا کر چلے گئے۔ شرپسندوں کی وجہ سے طالبان نے کابل میں مداخلت کی۔
انہوں نے کہا کہ سب کو تسلی دیتے ہیں کہ سب کو تحفظ دیا جائے گا۔ ضمانت دیتے ہیں کہ سفارت کاروں کو تحفظ دیا جائے گا۔
ذبیع اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ سیاسی نظام کے لیے مشاورت جاری ہے۔ دنیا ہمارے شرعی قوانین کا احترام کرے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے نام پر بعض مقامات پر لوٹ مار کی گئی، ہم لوگوں کی حفاظت کے لیے مجبوراً کابل میں داخل ہوئے، بہت جلد عوام کو قابل قبول قیادت دیں گے۔ دنیا افغانستان کی ترقی کے لیے ساتھ دے

انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ اسلامی اقدار کے خلاف بھی کچھ نہیں ہو گا۔ بقول ان کے میڈیا بہت اہم ہے، اس کو غیر جانب دار ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے معاشرے اور قوم کے مفاد کے لیے اقدامات کریں گے۔ آزادی ہر قوم کا حق ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ اب افغانستان آزاد ہے، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز کی جانب سے شہریوں کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے کابل میں مداخلت کی۔ان کے مطابق امن قائم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں