Sri Lankan citizen killed in Sialkot for blasphemy Sri Lankan PM and his wife demand justice 229

سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں سری لنکن شہری کا قتل سری لنکا کے وزیر اعظم اور مقتول کی اہلیہ کا انصاف کا مطالبہ

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )
پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کی جانب سے تشدد کے بعد قتل کیے جانے والے سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کی اہلیہ نے پاکستان کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان سے منصفانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعے کو صوبہ پنجاب میں سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں بطور مینیجر کام کرنے والے پریا نتھا کو ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی تھی.پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ اب تک 100 سے زیادہ افراد زیرِحراست ہیں.اس واقعے پر سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پکشے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھیں یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے.سری لنکا کے وزیر اعظم نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’پاکستان میں شدت پسند مشتعل ہجوم کی جانب سے پریا نتھا دیاودھنہ پر بہیمانہ اور جان لیوا حملے پر صدمہ پہنچا۔ متاثرہ شخص کی اہلیہ اور خاندان کے غم میں شریک ہوں۔ سری لنکا اور اس کی عوام کو یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے واقعے میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے.جبکہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ‘پاکستان کے لیے ایک شرمناک دن’ قرار دیا تھا.ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہا کہ ‘سیالکوٹ میں مشتعل گروہ کا ایک کارخانے پر گھناؤنا حملہ اور سری لنکن مینیجر کا زندہ جلایا جانا پاکستان کے لیے ایک شرمناک دن ہے۔ میں خود تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہوں اور دوٹوک انداز میں واضح کر دوں کہ ذمہ داروں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی۔ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے.
میرے شوہر ایک معصوم انسان تھے.
پریا نتھا دیاودھنہ کی اہلیہ نیروشی دسانیاکے کا کہنا ہے کہ ‘میرے شوہر ایک معصوم انسان تھے۔ میں نے خبروں میں دیکھا کہ انھیں بیرون ملک اتنا کام کرنے کے بعد اب بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے.
دوسری جانب صوبہ پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعہ کی تحقیقات کے لیے فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکار پہلے ہی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کر رہے ہیں.
پاکستان کی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے علاوہ ملٹری انٹیلیجنس اور سویلین خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے اہلکار بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ ہیں.انھوں نے کہا کہ اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اب تک ایک سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو احتجاج میں شامل تھے جبکہ کچھ ایسے افراد بھی حراست میں لیے گیے ہیں جو کہ موقع پر موجود تھے.سیالکوٹ پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں سے ایک درجن کے قریب وہ افراد بھی شامل ہیں جنھیں کچھ عرصہ قبل تحریک لبیک کے احتجاجی دھرنے سے پہلے خدشہ نقص امن کے تحت حراست میں لیا گیا تھا.صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں ان افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں جنہوں نے ہجوم کو سری لنکا کے شہری کو تشدد کرنے پر آمادہ کیا.انھوں نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے بیانات کی روشنی میں ان سے پوچھ گچھ بھی کی جا رہی ہے.ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں مقامی پولیس کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی اور اطلاع ملنے کے 20 منٹ کے بعد پولیس حکام جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے.ایک سوال کے جواب میں راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ تشدد سے ہلاک ہونے والے سری لنکا کے شہری کی لاش ان کے وطن بھجوانے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ سے رابطہ کیا گیا ہے.انھوں نے مزید کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق وزارت داخلہ کے حکام نے وزارت خارجہ سے رابطہ کیا ہے اور انھیں اس ضمن میں سری لنکا کے ہائی کمیشن سے رابطہ رکھنے اور ان سے مقتول کی لاش کو سری لنکا بھیجنے کے بارے میں بات چیت کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے.ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کے محرکات میں توہین مذہب کے ساتھ انتظامی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے.صوبائی وزیر قانون کے مطابق سیالکوٹ اور گردونواح میں گرجا گھروں اور غیر ملکی فیکٹری ورکرز کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے.دوسری جانب لاہور میں آئی جی پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت نے بتایا کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث 118 گرفتار ملزمان میں 13 مرکزی ملزم شامل ہیں۔ ان تمام مرکزی ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے.ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق 160 کیمروں کی فوٹیج لی گئی ہے اور گرفتاریوں کے لیے 10 ٹییمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ واقعے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ آر پی او اور ڈی پی او 24 گھنٹے چھاپوں کی نگرانی کر رہے ہیں.پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث تمام مرکزی ملزمان گرفتار ہیں اور ان کی شناخت بھی ہو چکی ہے جب کہ آئی پنجاب نے پولیس کی کوتاہی کا امکان خارج کر دیا ہے
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کیا ہے؟
پنجاب حکومت کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری مینیجر کے ڈسپلن اور کام لینے کی وجہ سے کچھ ملازمین فیکٹری مینیجر سے نالاں تھے۔ رپورٹ کے مطابق مشتعل ہجوم کی جانب سے سری لنکن شہری پر تشدد کا واقعہ صبح 11بجے کے قریب شروع ہوا۔ واقعے کے وقت فیکٹری مالکان غائب ہو گئے تھے.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ غیر ملکی کمپنیوں کے وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا۔ سری لنکن فیکٹری مینجر نے مشینوں کی مکمل صفائی کاحکم دیتے ہوئے مشینوں سے مذہبی سٹکرز اتارنے کا کہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر جب فیکٹری ملازمین نے سٹکر نہیں ہٹایا تو مینیجر نے خود ہٹا دیا.اس رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزمان سمیت اب تک 112ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جنھوں نے ہجوم کو اشتعال دلایا تھا۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے مرکزی ملزمان ملزمان کو گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری مینیجرز کی معاونت سے واقعہ میں ملوث افراد کی شناخت کی گئی ہے.ملزمان کے خلاف دہشت گردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج،پولیس کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی ملزم کو مبینہ طور پر ویڈیو میں تشدد کرتے اور اشتعال دلاتے دیکھا جا سکتا ہے.پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ کہ انھوں نے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، ‘جن کے کردار کا تعین سی سی ٹی وی فوٹیج سے کیا جا رہا ہے.پولیس کا کہنا تھا کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں.اس سے قبل سیالکوٹ پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت پریا نتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ سیالکوٹ کے وزیر آباد روڈ پر واقع ایک نجی فیکڑی میں بحثیت ایکسپورٹ مینیجر کے خدمات انجام دے رہے تھے.سیالکوٹ میں ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایک انتہائی بری طرح جلی ہوئی لاش لائی گئی تھی.پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک واقعہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں.آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سول ایڈمنسٹریشن کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے.اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے ٹویٹ کی تھی کہ ’سیالکوٹ واقعے میں ملوث 50 درندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آر پی او اور کمشنر گوجرانوالہ سیالکوٹ میں ہیں اور انکوائری کر رہے ہیں.ان کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ 48 گھنٹے میں مکمل کر لی جائے گی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور نادار کے پاس چہرے شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے واقعے کے تمام ذمہ داران کو پکڑا جائے گا.سیالکوٹ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت پریا نتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے.سیالکوٹ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز شیئر کی گئی تھیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ سیالکوٹ وزیر آباد روڈ کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں ایک شخص کی جلی ہوئی لاش کو دیکھا جاسکتا ہے اور کچھ ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص کو جلایا جا رہا ہے.واقعے کے عینی شاید محمد بشیر کے مطابق صبح ہی سے فیکڑی کے اندر یہ افواہیں گرم تھیں کہ پریا نتھا کمارا نے توہین مذہب کی ہے۔ ’یہ افواہ بہت تیزی سے پوری فیکڑی کے اندر پھیل گئی تھی، جس کے بعد فیکڑی ملازمین کی بڑی تعداد نے پہلے باہر نکل کر احتجاج کیا تھا.ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران ہی لوگ بڑی تعداد میں دوبارہ فیکڑی کے اندر داخل ہوئے اور پریا نتھا کمارا پر نہ صرف تشدد کیا بلکہ انھیں آگ بھی لگا دی.
سیکو 1122 کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انھیں تقریباً 11:35 منٹ پر وزیر روڈ پر ہنگامہ آرائی کی کال موصول ہوئی تھی، جس کے چند ہی منٹ بعد ٹیم موقع پر پہنچ چکی تھی.وہ کہتے ہیں کہ جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت تک پولیس کی نفری کم تھی جبکہ مقتول کو فیکڑی کے اندر تشدد کا نشانہ بنایا گیا.امدادی اہلکار کے مطابق ‘ہم لوگ وردی میں تھے۔ لوگ مشتعل تھے۔ ہمارے لیے ممکن نہیں تھا کہ ہم متاثرہ شخص کو کسی بھی طرح کوئی مدد فراہم کرسکیں اور نہ ہی یہ ممکن تھا کہ کوئی مداخلت کریں۔اس دوران وہ لوگ متاثرہ شخص کو تشدد کرتے ہوئے روڈ پر لے آئے تھے.امدادی کارکن کے مطابق جب متاثرہ شخص کو روڈ پر لایا گیا تو اس وقت تک وہ ہلاک ہوچکا تھا.مشتعل لوگوں نے اس شخص کو روڈ پر لا کر نذر آتش کیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔ اس دوران پولیس نے مداخلت کرنے کی کوشش کی مگر پولیس کی نفری بہت کم تھی جبکہ مشتعل عوام بہت بڑی تعداد میں تھے.امدادی کارکن کے مطابق ‘تقریباً ساڑھے بارہ بجے کے قریب ہم لوگ جلی ہوئی لاش کو ہسپتال پہنچانے میں کامیاب ہوئے.موقعے کے ایک اور عینی شاید کے مطابق فیکڑی ملازمین کا احتجاج بہت دیر تک جاری رہا تھا اور اس احتجاج میں اردگرد کے علاقوں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں شامل ہو گئے.احتجاج میں کئی لوگوں نے اشتعال انگیز تقاریر کیں تھیں۔ اس دوران مظاہرین میں سے کسی نے کہا کہ چلو خود قصہ صاف کرتے ہیں تو اس کے بعد ڈنڈوں، لاٹھیوں اور اسلحہ سے لیس لوگ فیکڑی کے اندر داخل ہو گئے تھے.سیالکوٹ سے مقامی صحافی یاسر رضا کے مطابق فیکڑی کے اندر صبح ہی سے یہ افواہیں گرم تھیں کہ توہین مذہب کی گئی ہے، ‘جس کے بعد نہ صرف فیکڑی کے اندر سے حالات کشیدہ ہونے کی اطلاعات آرہی تھیں بلکہ ارد گرد کے علاقے کے لوگ بھی مشتعل تھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں