جنوبی افریقا سے سامنے آنے والی کرونا 298

جنوبی افریقا سے سامنے آنے والی کرونا کی نئی قسم “اومی کرون” کے حوالے سے جہاں لوگ خوفزدہ ہیں وہیں کچھ چہ مگوئیاں بھی شروع ہوگئیں ہیں

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

جنوبی افریقا میں ایک ہفتے قبل سامنے آنے والی کرونا کی نئی قسم کو عالمی ادارہ صحت نے اب تک کی اقسام کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور متعدی قرار دیا. ایک ہفتے کے دوران کرونا کی یہ قسم اومی کرون 27 ممالک تک پھیل چکی ہے، جس میں بھارت ، سعودی عرب، امریکا، لندن سمیت دیگر ممالک شامل ہیں.
عالمی ادارہ صحت نے اومی کرون کے پیش نظر ایشیائی ممالک کو مزید احتیاط کا مشورہ دیا جبکہ ساؤتھ افریقن میڈیکل ایسوسی ایشن نے مختلف ممالک کی جانب سے عائد کی جانے والی سفری و دیگر پابندیوں کو قبل از وقت قرار دیا۔
اومی کرون وائرس کے حوالے سے اب سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کرونا کی نئی قسم کے نام سے متعلق ’1963‘ میں فلم بن چکی ہے۔ اس حوالے سے صارفین نے فلم کا پوسٹر بھی شیئر کیا جس پر ایک جملہ وہ دن جب دنیا قبرستان میں تبدیل ہوجائے گی درج ہے۔
انویسٹی گیٹیو جرنلسٹ نے بالآخر اُس شخص کو بھی تلاش کرلیا جس نے سب سے پہلے “اومی کرون”فلم کا پوسٹر شیئر کیا.
https://twitter.com/BeckyCheatle/status/1466098296565415956?t=oQRa5Qm5ssKYXLiCEpXIbQ&s=19
اس طرح کے تین پوسٹرز آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹر ہیلی چیٹل نے 28 نومبر کو اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کیے اور بتایا کہ انہوں نے 70 کی دہائی میں بنائی جانے والی فلم ’دا اومی کرون فریز‘ کے پوسٹرز کو فوٹو شاپ کی مدد سے تبدیل (ایڈیٹ) کردیا ہے۔
ہیلی چیٹل نے ان پوسٹرز کو تبدیل کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی البتہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ کچھ لوگوں نے کس طرح اس جھوٹی کہانی کو سچ  قرار دینے کی کوشش کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں