آج کے کالمزبین الاقوامیفیچر کالمزکالمز

ریٹائرمنٹ یا اجارہ داری؟ سرکاری میڈیا میں بند ہوتے دروازے اور ٹوٹتے خواب

تحریر : کامران اشرف :پی این نیوز ایچ ڈی

یہ سوال محض دو ناموں یا دو شخصیات تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے قومی اداروں، بالخصوص سرکاری میڈیا کے اس مزاج کی عکاسی کرتا ہے جہاں ریٹائرمنٹ ایک رسمی لفظ تو ہے مگر عملی حقیقت نہیں۔ شائستہ زید ہوں یا عشرت فاطمہ، دونوں نے بلاشبہ اپنے اپنے شعبے میں طویل عرصہ خدمات انجام دیں، آواز اور چہرہ بنیں، پہچان حاصل کی، اور سرکاری میڈیا کی تاریخ کا حصہ رہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر روشن باب کو وقت پر بند نہ کیا جائے تو وہ بوجھ بن جاتا ہے؟

پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو جیسے ادارے کسی فردِ واحد کی جاگیر نہیں، یہ قومی اثاثے ہیں۔ یہاں ہر آنے والی نسل کا حق ہے کہ اسے اپنی صلاحیت آزمانے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ مگر جب ایک ہی چہرہ دہائیوں تک اسکرین پر موجود رہے، جب ریٹائرمنٹ کے بعد بھی “کسی بڑے آدمی” کے سہارے نوکری برقرار رہے، تو یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں رہتا، یہ ادارہ جاتی ناانصافی بن جاتی ہے۔

43 سال، 45 سال، یا پچاس سال—یہ کوئی معمولی مدت نہیں۔ یہ ایک مکمل پیشہ ورانہ زندگی سے بھی زیادہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ میڈیا اداروں میں تجربہ قابلِ احترام ضرور ہوتا ہے، مگر وہاں نظام فرد سے بڑا ہوتا ہے۔ وہاں سینئر لوگ وقت آنے پر عزت کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں، مشعل نئی نسل کے ہاتھ میں دیتے ہیں، بطور استاد، ٹرینر یا مینٹور اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ کرسی چھوڑنا شکست سمجھا جاتا ہے، اور مائیک چھوڑنا گمنامی کا خوف۔

یہ منظر نوجوانوں کے لیے کیا پیغام دیتا ہے؟ وہ نوجوان جو صحافت، نیوز پریزنٹیشن، اینکرنگ یا پروڈکشن میں آنے کے خواب دیکھتے ہیں، جو جدید تعلیم، نئی زبان، نئی ٹیکنالوجی اور تازہ سوچ کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے ہیں—ان کے سامنے راستہ بند نظر آتا ہے۔ انہیں صاف پیغام ملتا ہے کہ قابلیت سے زیادہ تعلق، محنت سے زیادہ سفارش، اور صلاحیت سے زیادہ عمر کام آتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حوصلے ٹوٹتے ہیں اور ادارے جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ بات بھی تلخ حقیقت ہے کہ ادارے تازہ خون کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ نئی نسل سوال اٹھاتی ہے، تجربے کو چیلنج کرتی ہے، نئے آئیڈیاز لاتی ہے۔ اگر ہر نشست پر وہی چہرے، وہی آوازیں، وہی انداز موجود رہیں گے تو ادارے وقت کے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ دنیا میڈیا میں تیزی سے بدل رہی ہے، مگر ہم ابھی تک ماضی کے سہارے حال چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہاں اصل سوال نیت کا بھی ہے۔ اگر عشرت فاطمہ صاحبہ یا دیگر سینئر شخصیات پچاس برس کی شاندار سروس کے بعد شکریہ کے الفاظ کے ساتھ رخصت ہوتیں، نئے نیوز ریڈرز کو خوش آمدید کہتیں، ان کی حوصلہ افزائی کرتیں، تو کیا یہ منظر زیادہ باوقار، زیادہ خوبصورت اور زیادہ یادگار نہ ہوتا؟ کیا تاریخ میں ان کا نام مزید احترام کے ساتھ نہ لکھا جاتا؟ عزت کے ساتھ الوداع کہنا بھی ایک فن ہے، جو بدقسمتی سے ہم سیکھ نہیں پائے۔

یہ وقت ہے کہ تجربے اور توانائی کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ سینئرز کو دیوار سے لگانا حل نہیں، مگر نوجوانوں کا راستہ روکنا بھی جرم ہے۔ پالیسی سطح پر واضح ریٹائرمنٹ نظام، کنٹریکٹ کلچر کی شفاف حدود، اور نئے ٹیلنٹ کے لیے کوٹہ وقت کی ضرورت ہے۔ تجربہ رہنمائی کرے، مگر اسکرین اور مائیک نئی آوازوں کو ملے۔

ادارے افراد سے چلتے ہیں، مگر افراد اداروں سے بڑے نہیں ہوتے۔ اگر ہم واقعی مضبوط ادارے چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کڑوا سچ قبول کرنا ہوگا کہ ہر دور کی ایک مدت ہوتی ہے، اور ہر روشن چراغ کو وقت پر اگلے چراغ کو جلانے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ یہی اداروں کی بقا ہے، اور یہی قوموں کی ترقی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے