ریڈ پاکستان اور انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیو مینولوجی کی جانب سے دوروزہ سیمینار کا انعقاد 289

ریڈ پاکستان اور انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیو مینولوجی کی جانب سے دوروزہ سیمینار کا انعقاد

رپورٹ (الدمام سردار صغیر برقی، تازہ اخبار ، پاک نیوز پوائنٹ)

انسانوں کی اپنی منفرد شخصیت ، نقطہ نظر ، جذبات اور ، زندگی گزارنے کے مختلف طریقے ہوتےہیں اور ان تمام خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ، ‘ہیومینولوجی’ سائنس کی ایک نئ شاخ ہے۔ ہیومینولوجی انسانوں کو ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر بااختیار بنا کر اپنی زندگی کو با مقصد بنانے میں مدد کرتی ہے۔

اس نئے تصور کو کمیونٹی سے متعارف کرانے کے لیے ، ریڈ پاکستان اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومینولوجی کے تعاون سے 28-29 اگست 2021 کو پہلا تعارفی 2 روزہ سیمینار منعقد کیا۔

سیمینار کا مرکزی موضوع کتب کے ذریعے ہونے والے مثّبت انسانی ارتقاہ پر مبنی تھا کیونکہ مطالعہ ہمارے نظریات میں وسعت پیدا کرتا ہے، ہمیں دوسرے لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطہ قائم کرنے اور ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور قبول کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جس کے ذریعے ہمیں انسانیت کے تصورات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ اس تقریب میں ہیومینولوجی کی مفصل آگاہی ،اس کے طریقے ، حکمت عملی ، تکنیک اور فلسفے شامل تھے۔ کچھ معروف ادیبوں اور ماہرین انسانیات کو مدعو کیا گیا۔

ریڈ پاکستان کی بنیاد 2012 میں مطالعے کو فروغ دینے کے لیے رکھی گئی تھی۔ تنظیم کے بانی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل آف پاکستان جناب فرخ ڈال ہیں اور شریک بانی سیدہ فاطمہ گیلانی ہیں۔ دونوں افراد خاص طور پر نوجوانوں میں پڑھنے کی عادت کی حوصلہ افزائی کے لیے پرعزم ہیں۔ آر پی کا وژن اور مشن کتب کے ذریعے ذہنوں کو بااختیار بنانا ہے۔ ریڈ پاکستان نے پاکستان میں 1 لاکھ کتب خانےقائم کرنے کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی مہم شروع کی ہے۔
اس سیمینار کو نائب صدر بین الاقوامی باب ریڈ پاکستان جویریہ اسد اور صدر بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ آف ہیومینولوجی اور پاناما سےریڈ پاکستان کی سفیر جیسکا جے لاک ہارٹ نے بڑی خوب صورتی سے ترتیب دیا اور میزبانی کے فرائض بھی انجام دیئے ۔دونوں دنوں کے پروگرام کا ایجنڈا مختلف موضوعات پر بنایا گیا تھا تاکہ ہیو مینولوجی کے مضمون کو گہرائی سے سمجھا جا سکے۔

سیمینار کا پہلا دن ’’ دریافت اور تفہیم ‘‘ کے موضوع پر تیار کیا گیا تھا۔ مقررین میں پاناما سے بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ آف ہیومینولوجی کے معروف
کوچ جیمز سول ، سو ئٹزرلینڈ سے تخلیقی ڈائریکٹر
اور کوچ الیگزینڈرا فلپونا ، پاناما سے ہیومنولوجسٹ ، مصنف اور صدر بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ آف ہیومینولوجی۔
اور ریڈ پاکستان کی سفیرجیسیکا لاک ہارٹ تھیں۔
مقررین نے ہیو مینولوجی کےبنیادی فلسفےکی وضاحت کی اور بتایا کہ سائنس کی یہ شاخ ہمیں ہماری شخصیت کو گہرائی سے سمجھنے میں مددکرتی ہے۔ یہ ہماری زندگیوں میں چھپے کئ جوابات تلاش کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے تاکہ ہم اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ تعلقات کو بہتر بنا سکیں۔

دوسرےدن کا موضوع ’’ ترقی اور تبدیلی ‘‘ پر مبنی تھا۔ معروف مصنفین ، ادبی معلم اور مصنف جینیفر ڈی کلین ، دی گلوبل ایجوکیشن گائیڈ بک کی مصنف ، للیانا ٹینوکو باکارٹ ، صحافی اور مصنف ڈیرن فنک ،سائیکو تھراپسٹ اور فریجائل پاور کے مصنف ڈاکٹر پال ہوکی مئیر نے سیشن میں شرکت کی۔
تمام مصنفین نے مطالعے کی اہمیت پر زور دیا اورکہا کے زندگی میں آگے بڑھنے اور مثّبت تبدیلی لانے کےلئے انسانی سوچ کا ایک خاص سمت میں مرکوز ہونا ضروری ہے اور ہیومینولوجی اس مقصد کو حاصل کرنے میں مدد گارثّابت ہوتی ہے۔
دونوں دن سوالات وجوابات کا مرحلہ بھی رکھا گیا جسمیں کمیونٹی کی جانب سے سوالات پوچھے گئے،مقررین کی جانب سے مفصل انداز میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
آخر میں جویریہ اسدنے مستقبل میں کئے جانے والے ماہانہ پروگرامز اور ہیو مینو لوجی بک کلب کے حوالے سے معلومات سے حاظرین کو آگاہ کیا تاکہ یہ سلسلہ تعمیری طور پرجاری رہ سکے۔
مجوعی طور پر دونوں اداروں کی جانب سے کتب بینی کو فروغ دینے اور ہیومینولوجی کومتعارف کرانےکےلئے ایک عمدہ اور قابل ستائش کوشش تھی جسے کمیونٹی کی جانب سے بہت سرہایاگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں