Prime Minister Imran Khan and Foreign Minister Shah Mehmood Qureshi refuse to shake hands with Indian Foreign Minister 224

وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بھارتی وزیرخارجہ سے ہاتھ ملانے سے انکار

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )
عمران خان نے بھارتی وزیرخارجہ سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر سے ہاتھ ملانے سے انکار تاشقند میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر کیا گیا ، جہاں وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے علاوہ تمام شرکاء سے ہاتھ ملائے ، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے فرداً فرداً تمام سربراہان مملکت اور وزرائے خارجہ سے مصافحہ کیا لیکن بھارت کے وزیر خارجہ سے ہاتھ نہیں ملایا جب کہ جے شنکر کے ساتھ کھڑے روسی وزیرخارجہ سے وزیراعظم عمران خان نے غیر رسمی گفتگو بھی کی۔
اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ پہلے کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرو پھر بات کریں گے اور کشمیر کے ایجنڈے کے بغیر بھارت سے کوئی بات نہیں ہو سکتی اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ جس کی رنگوں میں پاکستانی خون دوڑتا ہے اس عمران خان نے آج ہندوستان کے وزیرخارجہ سے ہاتھ تک نہ ملایا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے مسلم لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ رگوں میں کشمیری خون دوڑنے والے مریم کے پاپا نے اوفا ڈیکلریشن سے کشمیر کو منفی کردیا ، حریت رہنماؤں سے ملاقات سے بھی انکار کیا جب کہ نواسی کی شادی پر مودی سے پگڑی پہنی ، ان کی ماں کیلئے ساڑھی لی اور اپنے بیٹے کے لئے جندال سے کاروبار کیا۔ رہے کہ وسطی و جنوبی ایشیائی رہنما روابط کانفرنس میں 60 ممالک کے سربراہان اور مندوبین شرکت کررہے ہیں ، کانفرنس میں شرکت کیلئے آمد پر ازبک صدر شوکت علیوف نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا ، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب طالبان کو فتح نظر آرہی ہے تو وہ کسی کی بات کیوں سنیں گے ، خدشہ ہے افغانستان میں بدامنی سے مہاجرین کی ایک نئی لہر آئے گی ، پاکستان مزید افغان مہاجرین کی آمد کا متحمل نہیں ہوسکتا ، افغانستان کے حالات سے ہم براہ راست متاثر ہوتے ہیں ، افغان جنگ کے دوران 15 سال میں 70 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے ، خطے کی امن و سلامتی سب سے اہم ہے ، گزشتہ سالوں سے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قربانیاں دیں ، 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں