وزیر اعظم عمران خان وفد کے ہمراہ ریاض پہنچ گئے ہیں۔ 320

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے تین روزہ سرکاری دورہ کے دوسرے مرحلے پر ریاض پہنچ گئے، شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے شاہی ٹرمینل پر شہزادہ محمد بن عبدالرحمان بن عبدالعزیز نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

وزیراعظم ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے سعودی عرب کے دورہ پر ہیں۔ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے وفد میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر توانائی حماد اظہر اور معاون خصوصی برائے ماحولیات ملک امین اسلم بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سربراہ اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کو درپیش چینلجوں کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے۔وزیراعظم عمران خان کے دورہ کے حوالہ سے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے تجربات سے بھی شرکا کو آگاہ کریں گے۔یہ سربراہ اجلاس مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا اقدام ہے، یاد رہے کہ گرین سعودی عرب اور گرین مڈل ایسٹ انیشیٹو کا آغاز ولی عہد نے مارچ 2021 میں کیا تھا جس کا مقصد فطرت اور کرہ ارض کی حفاظت کرنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ان دونوں اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے کلین و گرین پاکستان اور دس ارب سونامی ٹری منصوبوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی بھی پیش کش کی ہے۔دورہ کے دوران وزیراعظم سعودی قیادت کے ساتھ دوطرفہ امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے جس میں خاص طور پر معاشی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی اس کے علاوہ سعودی عرب میں پاکستانی افرادی قوت کیلئے مزید مواقع پیدا کرنے اور پاکستانی تارکین وطن کی فلاح سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دورہ کے دوران وزیراعظم پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالہ سے منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے اور سعودی عرب میں پاکستانی سرمایہ کاروں اور تاجروں سے بات چیت کریں گے۔پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اور تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں جن کی جڑیں مشترکہ عقیدے ، تاریخ اور باہمی تعاون سے جڑی ہوئی ہیں،سعودی عرب بیس لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے جو دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان تعلقات کو اعلیٰ سطح کے دوروں، تمام شعبوں میں قریبی تعاون، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر باہمی تعاون، اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ میں جموں و کشمیر پر باہمی تعاون سے مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کا دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کی مثبت رفتار کو مزید وسعت دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں