صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے دورہ برسلز کے دوران یورپی پارلیمنٹ میں اہم ملاقاتیں 231

صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے دورہ برسلز کے دوران یورپی پارلیمنٹ میں اہم ملاقاتیں

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

ملاقات میں یورپین پارلیمنٹ کے ممبر و یورپین پارلیمنٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے رکن جوڈی صولے فرنینڈو(Jodi Sole Ferrnando)اور یورپین پارلیمنٹ کے وائس پریزیڈنٹ فیبیو میسیمو کسٹیلیڈو (Fabio Massimo Castalido)سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی۔ اس موقع پر ملاقاتوں میں صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے یورپین پارلیمنٹ کے ممبر و یورپین پارلیمنٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے رکن جوڈی صولے فرنینڈو(Jodi Sole Ferrnando)اور یورپین پارلیمنٹ کے وائس پریزیڈنٹ فیبیو میسیمو کسٹیلیڈو (Fabio Massimo Castalido) کو مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے انہیں بتایا کہ میں یورپی یونین اور یورپین پارلیمنٹ میں بہت عرصہ سے آ رہا ہوں اور رابطہ میں ہوں۔ یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ نے ہمیشہ کشمیر پر اپنی آواز بلند کی ہے اس سلسلے میں ایماء نکلسن نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر اپنی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی تھی۔ لہذا ہم کشمیریوں کی یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ سے بڑی توقعات ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں یہ دونوں ادارے آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔اس موقع پر جوڈی صولے فرنینڈو(Jodi Sole Ferrnando) نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں اور یورپی پارلیمنٹ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ جبکہ اس موقع پر یورپین پارلیمنٹ کے وائس پریزیڈنٹ فیبیو میسیمو کسٹیلیڈو (Fabio Massimo Castalido)نے کہا کہ دنیابھر میں جہاں جہاں بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے اور ہم اسکے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور ہم کشمیریوں کے حق کے لئے بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے وہاں کی ڈیمو گرافی تبدیل کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بیالیس لاکھ جعلی ڈومیسائل جاری کر کے غیر قانونی طور پر ہندؤوں کی آباد کاری کی جا رہی ہے جس سے وہاں پر سول وار کا خطرہ ہے۔ یورپی یونین کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جو کہ پوری دنیاکے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ لہذا عالمی برادری بلخصوص یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ کو برصغیر میں قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا رول ادا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں