شکریہ ٹیم پاکستان / شاباش ویرات کوہلی تحریر / ذکاءاللہ محسن 211

بیچارا پاکستان

تحریر / ذکاءاللہ محسن
اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان ہمیشہ اسلام کے نام سے ہی مذہبی جماعتوں کے نعروں، سیاسی جماعتوں کے مذہبی کارڈز اور ڈکٹیٹر کی جانب سے جہادی نعروں سمیت مختلف مسالک کی جانب سے کافر کافر کے نعروں اور فتووں کی زد میں ہی رہا ہے بدقسمتی سے پاکستان میں اسلام کی کوئی خاص خدمت تو نہیں کی گئی مگر اسکے نام پر وہ کچھ کیا جاتا رہا ہے کہ اپنے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا کر بھی سکھ کا سانس نہیں لیا جاتا اور گاہے بگاہے اسلام کے نام پر وہ سب کچھ کیا جاتا ہے جس کا صرف نقصان بطور پاکستانی اور بطور مسلمان ہمارا اپنا ہوتا ہے یہاں مجھے معروف کالم نگار اور اینکر حسن نثار کی ایک بات بہت پسند آتی ہے جسکا میں کئی بار تذکرہ بھی کرتا ہوں کہ حسن نثار نے کہا تھا ” اگر اسلام کو زبان مل جائے تو وہ اللہ میاں سے یہ ضرور کہے میری ایناں پاکستانیوں توں جان چھڑا دے ” اسلام کا بنیادی تشخص اور اسکی تعلیمات کے ساتھ جس طرح کا کھلواڑ ہم نے کیا ہے شاید ہی اسلام کے ساتھ کہیں ایسا ہوتا ہو، اسلام کے نام پر اپنے ہی ملک میں حکومتوں اور مظاہرین کے درمیان کھینچا تانی ،مار کٹاو کوئی نئی بات نہیں ہے قیام پاکستان کے بعد سے لیکر آج تک یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور دین کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ” ہم پاکستان محض ایک زمین کا ٹکڑا بنانے کے لئے نہیں بنا رہے بلکے ایک ایسی تجربہ گاہ بنا رہے ہیں جس میں اسلام کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے ” اس وقت کے مسلمانوں کو لگا کہ آج ہم ہندو کی غلامی میں ہیں یقیناً اسلامی تعلیمات کو پاکستان کی صورت میں بہتر انداز میں فروغ دے سکیں گے اور یکجان ہوکر پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پر لے آئے قائد اعظم تو اس عظیم کارنامے کو سرانجام دیکر ہمیں چھوڑ کر چلے گئے مگر اسکے بعد پاکستان ایسا یتیم ہوا کہ نا اس ملک میں لوگ ایک قوم کی طرح یکجان ہوسکے اور نا ہی وہ تجربہ گاہ بن سکی جس سے اسلام کے تقاضے پورے ہونے تھے اور اسلام نے پاکستان میں عملی نمونہ بن کر ہمارے اندر سے ایک مہذب پاکستانی اور ایک اچھا مسلمان نکالنا تھا گزشتہ دو ہفتوں سے ملک ایک بار پھر سے اسلام کے نام پر تباہی اور بربادی کی جانب گامزن ہے اور یہ سب کچھ ہمارے ملک کے ایسے ارباب اختیار کی بدولت ہے جھنوں نے ماضی میں قوم کو اس ڈگر پہ چلایا اور مطلب نکلنے پر ایسی تحریکوں کو چھوڑ کر اپنا راستہ ناپا اور گھیر لو، جلا دو جیسے نعرے لگا کر قوم کو اشتعال دلایا مگر جب خود پہ محاذ آرائی ہوتی نظر آئی تو ملک یاد آگیا اور حکومتی رٹ یاد آگئی لوگوں اور مریضوں کا درد جاگ اٹھا ہائے میرے ملک کے ناپختہ ذہن کے سیاست دان اور ناپختہ ذہن کے مقتدر حلقوں کی بدولت عوام بھی نا پختہ ذہنوں کے ساتھ زندگی گوں نا گوں کی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور ہمارے سیاست دان اور ہمارے مقتدر حلقوں کے پاس اسلام سمیت دیگر ایسے کئی کارڈز موجود ہیں جن کو استعمال کرکے قوم نما ہجوم کو اپنے فاہدے کے لئے کسی بھی جانب دھکیلا جا سکتا ہے مگر اسکا نقصان اکیلا ” اسلام اور پاکستان ” اٹھاتا ہے دو ہزار اٹھارہ سے قبل تحریک لبیک موجودہ حکومت کی آنکھ کا تارا تھی مگر آج یہی تحریک لبیک آنکھ میں کھٹک بھی رہی ہے ایک جانب پاکستان میں ارطغرل ڈرامے میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا سین بھی دیکھایا جاتا ہے اور اسی طرز پر تحریک لبیک سے معاہدہ بھی کر جاتا ہے مگر پھر معاہدے سے پیچھے ہٹ کر تحریک لبیک کے ساتھ محاز آرائی بھی شروع کر لی جاتی ہے فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنا اور سفارت خانہ بند کرنا واقعی مناسب عمل نہیں ہے وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ سمیت دیگر فورم پر اس حوالے سے مدلل گفتگو کرکے مغرب کو اساس بھی دلایا ہے ایسے میں تحریک لبیک کو بھی چاہئیے کہ وہ تحمل مزاجی سے کام لے اور حکومت کو بھی چاہئیے کہ وہ طاقت کا استعمال نا کرے اور صورت حال کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرے آخری بات یہ ہے کہ مذہبی کارڈ اور لسانی کارڈز سے نکل کر ایک ایسا پاکستان بنائیں جس میں واقعی اسلام کی خدمت ہوسکے اور اسلام کی بہتر انداز میں ترویج ممکن بنائی جاسکے اور پاکستان میں اسلامی تعلیمات کے سائے میں ایک بہتر معاشرہ تشکیل پا سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں