نمیرہ محسن 203

میرے گھر کی بالکونی (شاعرہ نمیرہ محسن)

میرے گھر کی بالکونی

میرے گھر کی بالکونی، میرا وہ جادوئی آئینہ ہے جو مجھے ہر روز اک نئی دنیا دکھاتا ہے۔بالکل جادوگر کے جادوئی گیند جیسا۔
جو کہانیاں میں آپکو سناتی ہوں شاید اگر آپ اس کو دیکھنے آئیں تو سب ایسا نہ پائیں۔ یہ وہ خفیہ دروازے ہیں جدھر کو میرے خیال کی کھڑکی کھلتی ہے۔
کہتے ہیں کہ قدرت کے نامورعاشق و شاعر، ورڈز ورتھ کی شہرہء آفاق نظم ” آبی نرگس” پڑھنے کے بعد ایک ہمارے جیسے صاحب جذبات سے مغلوب ہو کر اس جگہ کی یاترا کرنے گئے مگر کیچڑ سے بھرا تالاب دیکھ کر مایوس واپس لوٹے۔
اصل زاویہ ہماری آنکھ بناتی ہے۔ کسی کو کچھ نظر نہیں آتا اور کسی کی آنکھ اسے نظاروں کی دھڑکن تک سنوا دیتی ہے۔
دمام آج کل پھر سے مسکرا رہا ہے۔ جناب کا پارہ اتر رہا ہے۔ جھوم رہا ہے اور پھول بھی لٹا رہا ہے۔ اگر آپ دمام آنا چاہیں تو تیز گرمی اور کٹیلی سرد ہواوں سے محفوظ رہنے کا یہی ایک مہینہ ہے یعنی نومبر۔
جب ہم اس گھر میں آئے تب اس کے سامنے ایک ریتلا میدان اور کچھ بونے قد کی کھجوریں تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ منے منے درخت لگائے گیے۔ سالوں کی منزلوں سے گزر کر اب وہ سب تناور پیڑ بنے مجھے روز محبت سے دیکھتے ہیں۔ بالکل میرے بچوں کی طرح۔ اپنا خوبصورت، شاندار بدن دکھاتے ہیں، ہنستے ، کھلکھلاتے اور پرند چرند کو گھر بانٹتے ہیں۔
ان میں سے ذیادہ تر امریکی برگد ہیں جو نہ صرف قد آور بلکہ جسیم بھی ہیں۔ پتے نوکیلے اور خوب سبز۔ ہوا میں جھومتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے دس بارہ سال کے بچے جب نئی نئی دوستیاں کرتے ہیں تو ہنستے ہنستے اپنے دوستوں پر نرمی سے گرتے ہیں اور بہت شاداں ہوتے ہیں۔ میں ان کی خوشی دیکھتی ہوں اور جب بھی صبح کی سیر کو جاتی ہوں تو ان کے تنوں پر محبت سے ہاتھ پھیرتی ہوں۔ یہ بالکل میرے بچوں جیسے ییں۔
دو ہفتے پہلے شدید طوفان آیا تو ان میں سے ایک کا کافی بڑا بازو ٹوٹ گیا۔ آپ بھی ہنستے ہوں گے کہ میں کیا انکو بیان کر رہی ہوں! مگر وہ تنا بازو جیسا ہی تھا۔ مجھے بہت رنج ہوا۔ میں اس درخت سے ملنے گئی۔ مجھے بالکل ایسے لگا جیسے اس نے سسکی بھری ہے۔ بازو ٹوٹیں یا بچے بڑھاپے میں چھوڑ جائیں یا کسی وجہ سے کوئی بڑا ہی پیارا جدا ہو جائے، دکھ تو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ کچھ دیر محبت سے اس کے پاس کھڑی رہی ۔
اوپر نظر اٹھائی تو ڈھیروں اور طاقتور تنے نظر آئے۔ ایک چڑیا تندہی سے اپنا گھونسلہ ایک اور شاخ پر بنا رہی تھی۔ گلہریاں بھاگ بھاگ کر ہلکان ہورہی تھیں۔ چیونٹیوں کی ایک قطار درخت کی جڑوں میں بنے راستے پر اتر رہی تھی۔
اچھا ہے جو چلا گیا اس کو یاد رکھنا چاہئے مگر جو موجود ہے اس کا خیال بھی رکھنا ہے۔ دکھ، افسوس، رنج یہ سب وہیں کھڑے رہتے ہیں، سانحہ بھلایا نہیں جا سکتا مگر جینا بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ آج میں وہاں سے گزری تو چند ہری ،کومل شاخیں اسی ٹوٹے بازو سے نکل رہی تھیں۔ ہر زخم، نقصان ایک روزن کی طرح ہے جہاں سے آپ ایک نیا سورج پھوٹتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اور پھر زخم تو ہوتے ہی بھرنے کے لیے ہیں بس ادھر، وہاں، آپ کے بہت اندر ایک مشک کی شیشی ہوتی ہے جسے اس چوٹ نے کھولنا ہوتا ہے۔ پھر آپ اپنی نئی خوبی سے آشنا ہوتے ہیں، ایک نیا خزانہ آپ کی ذات میں دریافت ہوتا ہے۔
ان دیوہیکل درختوں کے درمیان دو املتاس کے حسین درخت بھی ہیں۔ ان نٹ کھٹ برگدوں کی اٹھکھیلیاں دیکھ کر دانشمند بزرگوں کی طرح زیر لب اپنی مسکراہٹ دبائے رکھتے ہیں۔ ہوا ان کو بھی گدگداتی ہے مگر یہ پورے وقار سے صرف مسکراہٹ ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔
ان درختوں میں بہت پرندے رہتے ہیں۔ اور سائبیریا سے ہجرت کرتے پرندے بھی سمندر کا کنارہ ہونے کے باعث ان کو ملنے ضرور آتے ہیں۔
کبھی یوں لگتا ہے کہ وہ مہاجر پرندے دور دیس کے قصے ان کے کانوں میں کہہ جاتے ہیں اور یہاں کی کہانیاں ان کے سینے سے نکال کر لے جاتے ہیں۔
ابھی میں نے تھوڑا باجرا پرندوں کو ڈالا ہے۔ کچھ کبوتر، فاختائیں اور دو ہدہد بھی مہمان ہو گئے ہیں۔ ابابیلیں ہیں تو بہت مگر کچھ نک چڑھی ہیں تو شامل نہیں ہوتیں۔
چند خوش رنگ چڑیاں بھی آبیٹھی ہیں۔ سڑک سے پار باغ میں صبح کچھ سمندری بگلے بھی ملے تھے۔ نہ وہ میری سمجھے اور نہ میں ان کی۔ بہرحال بہت پیارے اور اجلے تھے۔
ایک پہاڑی کوا بھی سامنے والے کھمبے پر بیٹھا ہمارے سیاسی قائدین کی طرح کوئی بھاشن دے رہا ہے مگر مجال ہے کہ مجھے تو کیا کسی اپنے ہم قبیل کو بھی متوجہ کر پایا ہو۔سورج اب ان درختوں کی چوٹیوں کو اپنی سنہری کرنوں سے سنوار رہا ہے۔ میں مبہوت ہوں۔
سارا عالم اک دھڑکن کی طرح ایک سنہرے سیال میں ڈھلتا یکجا ہو رہا ہے۔ درخت، سورج، ہوا، آسمان، پرندے ، دمام، سمندر، اور میں سب کا دل ایک جیسا ہے۔ میرا دل درختوں کی طرح خوش ہے، محبت کا سورج گہنا رہا ہے، ہوا کی طرح غم سے آزاد ہے، پرندوں سا چہک رہا ہے، دمام میری رگوں میں سمندر کی طرح اتر رہا ہے۔ اور ہم سب ایک ہوگئے ہیں۔ بہت مطمئن، بہت خوش اور اپنے رب کے شکرگزار۔
نمیرہ محسن
نومبر 2023

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں