داعش سے چھٹکارے کیلئے طالبان واحد اور بہترین آپشن ہے، افغانستان کو تنہا کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے، افراتفری اور انسانی بحران جنم لے گا،وزیر اعظم عمران خان 217

آرمی پبلک سکول حملہ کیس میں وزیراعظم عمران خان کی عدالت طلبی

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )
سپریم کورٹ میں آرمی پبلک سکول پر ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کر رہا ہے اور فی الحال سماعت میں وقفہ ہے، دوبارہ سماعت کا آغاز 11:30 بجے ہو گا.
آرمی پبلک سکول ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے طلب کیے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیش ہو گئے ہیں.
سپریم کورٹ نے آرمی پبلک سکول از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم عمران خان کو آج ہی طلب کیا تھا.
خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے تشکیل پانے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کو “سکیورٹی کی ناکامی” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس واقعے نے ملک کے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے.
بدھ کی صبح ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعطم عمران خان کو ذاتی حثیت میں طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ معاملات ایسے نہیں چلیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کرنا ہو گا.
جب اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل خالد جاوید سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کی گذشتہ سماعتوں کے دوران دی گئی ہدایات سے آگاہ کیا تھا، جس کا جواب اٹارنی جنرل نے نفی میں دیا اور کہا کہ وہ ابھی اس ضمن میں وزیر اعظم سے ہدایت لے کر عدالت کو آگاہ کریں گے.
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کا رد عمل آئے گا، سب سے نازک اور آسان ہدف اسکول کے بچے تھے، یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے مدد نہ ملی ہو.
دوران سماعت عدالت میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں