نمیرہ محسن 224

نمیرہ محسن پی این پی نیوز ایچ ڈی

محبت
وفا ہے
جانے والوں سے ملنے خاطر
جسموں کو اپنی روحوں پہ لادے
خانہ برباد
زمیں کے دھبے
اداس راتوں میں روتے سوتے
آنسو سے اپنے غم کو بھگوتے
دل برباد کو پہلو میں دبائے
آنکھوں کے جلتے عدسوں کے پیچھے
دور چھپ کر
نوحہ کناں رہے ہم
وہ جو چلے گئے
اس پار
ہم سے دامن چرا کے نکلے
انہی سے ملنے
انہی کو تکنے
جگ کے سارے سورج بجھا کر
ہم جو منتظر ہیں
کہ وہ اک بار لوٹے
تڑپ کے اس کو
باہوں میں بھر لیں
کبھی نہ جانا
یہ عہد کر لیں
کیسا عجب ہے کہ
ہم ہی جو چل دیں
اداس شاموں کے کہرے میں گھل کر
گلاب ہونٹوں سے
امرت سے ٹپکیں
پھر سے کہیں ہم
جنم جو لے لیں
اور پائیں ان کو ہنستا
ان کے بدن سے لپٹ ہی جائیں
کیا عجب ہو کہ تھے ہم جس سے سہمے
موت کے نام سے لرزتے
وہ اک نئے جہاں کا
اک حسیں زندگی کا
فقط آغاز ہی تھا
یہاں کے کھوئے
وہاں جا پائیں
کیسا غضب ہو
کہ جب یہ جانیں
بس یونہی روئے
چند آخری پل
یونہی کھوئے
رفاقتوں کی
جاتی ساعتوں کی
قدر کرتے
مل کر ہنستے
خوب ملتے
قصے سناتے
پیار کرتے
شرط وفا نبھاتے
وعدہ کر کے مکر نہ جاتے
ایک پل کا قصہ ہے ہمارا
ادھر سے نکلے
ادھر کو پہنچے
ملنا تو ہوگا
مگر شرط وفا ہے
محبت کا بس اک وفا صلہ ہے
نمیرہ محسن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں