انٹرویواہم خبریںبین الاقوامیبین الاقوامی خبریںپاکستانتصاویر اور مناظردلچسپ و عجیبسیاستکاروبارملٹی میڈیا

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، ترقیاتی منصوبے روکنے اور کفایت شعاری تیز کرنے کا عندیہ

اسٹاف رپورٹ: پی این پی نیوز ایچ ڈی

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں وفاق اور صوبوں کو ہدایت دی ہے کہ جو ترقیاتی منصوبے فی الحال روکے جا سکتے ہیں، انہیں مؤخر کر دیا جائے تاکہ وسائل کو ہنگامی ضروریات اور غریب طبقات کے تحفظ پر صرف کیا جا سکے.

وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں عسکری و سیاسی قیادت سمیت چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں خطے کی صورتحال، توانائی بحران کے خدشات اور معاشی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا.

وزیراعظم نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور پاکستان اس کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر متحرک ہے اور اس ضمن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور عسکری قیادت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو یقینی بنانے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں.

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پہلے ہی کفایت شعاری مہم کے تحت اہم فیصلے کیے ہیں، جن میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) میں 100 ارب روپے کی کٹوتی شامل ہے۔ کابینہ ارکان نے دو ماہ کی تنخواہیں رضاکارانہ طور پر واپس کیں جبکہ پارلیمنٹیرینز نے بھی ایندھن کی بچت کے اقدامات کیے.

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی جبکہ کمزور طبقات کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ بچائے گئے وسائل کو مہنگائی کے اثرات کم کرنے اور عوامی ریلیف پر خرچ کیا جائے.

اجلاس میں توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، جن میں ایندھن کی بچت، سبسڈی کے معاملات اور قیمتوں کے تعین سے متعلق امور شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کی درخواست کی ہے جبکہ قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی.

اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ دورہ چین پر بریفنگ دی اور ایران-امریکا مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا.

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام چیلنجز کے باوجود ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن رکھا جائے گا، اور اس کے لیے سیاسی استحکام کو ناگزیر قرار دیا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے