Knowledge and public information 426

علم اور معلوماتِ عامہ تحریر :- ظہیر اے چوہدری

عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم درسگاہوں یعنی اسکولز، کالجز یا یونیورسٹیز سے علم حاصل کرتے ہیں، صرف اپنے ملک پاکستان کی بات نہیں ہو رہی، آپ جس مرضی ملک میں چلیں جائیں وہاں پر بھی یہی خیال کیا جاتا ہے کے تعلیم مذکورہ بالا درسگاہوں سے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واقعتاً سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل ہو رہی ہے؟ اسکے جواب میں کچھ اہل علم لوگ آپ کو یہی بتائیں گے کے چند لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں باقی تمام صرف معلومات عامہ اکٹھی کرتے ہیں۔ ہمیں یہاں تعلیم اور معلوماتِ عامہ میں فرق کرنا پڑیگا، کیونکہ معلومات عامہ تعلیم کا حصہ ہے نا کہ تعلیم معلومات عامہ کا۔ راقم معلومات عامہ سے انکاری نہیں بلاشبہ ایک تعلیم یافتہ انسان کے معلومات کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بہرحال تعلیم کے صحیح معانی کو جاننا بھی بہت ضروری ہے۔ تجربات یا تعلیم کے ذریعے سے حاصل کردہ حقائق کو علم کہتے ہیں، کسی تجربے کے مشاہدے کو جاننا اور تعلیم کے ذریعے حقائق کی جانکاری رکھنا بھی علم ہے، پھر معلومات اور مہارتوں پر دسترس رکھنا بھی علم ہے۔ اس کے علاوہ موضوعات کا نظریاتی یا عملی فہم رکھنا بھی علم کے زمرے میں آتا ہے۔ یعنی ہر تعلیم یافتہ اپنے ذہن کے مطابق کسی بھی جانکاری کے حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے تعلیم کی تعریف کر سکتا ہے۔ اسی طرح معلومات عامہ کی علحیدہ سے تعریف ہے۔ معلومات کو غیر یقینی صورتحال کے حل کے طور پر سوچا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہ فلاں ملک کہاں ہے؟ اسکی کتنی آبادی ہے؟ کتنا رقبہ ہے؟ وغیرہ وغیرہ کے سوالات کا جواب دیتی ہے اور جواب میں معلومات کی خصوصیات کی نوعیت دونوں کی وضاحت بھی پائی جانی چاہیے۔ معلومات کے تصور کے مختلف حوالہ جات سے مختلف معنی بھی ہیں، جیسے مواصلات، اعداد و شمار، علم، فہم، ذہنی محرکات، نمونہ جات، تاثر، تجویزات اور نمائندگی وغیرہ کے تصورات، ان سب کو معلومات عامہ کے مترادفات میں بھی لیا جا سکتا ہے۔انسان کے کچھ خیالات بھی علم یا معلومات پر مبنی ہوتے ہیں، جب وہ انسانی ذہن میں آتے ہیں تو بعض اوقات فقط اس لیے دور چلے جاتے ہیں کہ انکو بروقت قلم بند نہیں کیا جاتا، جسکی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے کہ آپ کے پاس قلم نہیں اور خیالات آ گئے، آپ کسی کا تھوڑے وقت کے لیے انتظار کر رہے ہیں تو کچھ خیالات آگئے، اتنی دیر میں جسکا انتظار کر رہے ہیں وہ بھی آگئے تو پھر خیالات دور چلے گئے، علی ہذا القیاس آپ سفر میں ہوں، لیٹے ہوں یا پھر محو درشن ہوں تو خیالات کا آنا عام سی بات ہے۔ تاہم خاص بات یہ ہے کہ ایسے خیالات کو یاد رکھنا اور یاد رکھ کر قلم بند کرنا۔ دور حاضر میں لکھنے کے لیے مواد کی کمی نہیں مصدقہ و غیر مصدقہ علوم و معلومات عامہ کی بہتات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اسی میں سے جاندار مواد نکال کر اپنے خیالات کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اور ایک خاص اپنے انداز کی ترکیب بنا کر قاری کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔ باقی وہ قارئین پر منحصر ہے کہ وہ تحریر کو پسند کرتے ہیں یا نہیں، خاکسار کتابی مطالعے کے ساتھ ساتھ معاشرتی مطالعے کے لیے سوشل میڈیا کے مثبت مواد کو بھی پسند کرتا ہے۔ مثبت بات ہو رویہ ہو یا تحریر ہو بہرحال اثر رکھتی ہے۔ اس ہفتے بھی محو مطالعہ تھا کہ اس بار اپنی تحریر میں کیا مثبت پیغام دیا جائے؟ تو ہند کے ایک بیوروکریٹ کا واقع نظروں سے گذرا، سوچا کہ علم کے ضمن میں اسی کو تحریر کی زینت بنانا چاہیے، کیونکہ اس کے اندر ایک بہت ہی خوبصورت علمی پیغام ہے۔ واقع کچھ یوں ہے کہ ایک بار سابق انڈین الیکشن کمشنر شری ٹی این سیشان، اتر پردیش کے دورے پر روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ بھی تھیں۔
راستے میں، وہ ایک باغ کے قریب رک گئے۔ باغ کے درختوں پر پرندوں کے بیشمار گھونسلے تھے۔ ان کی اہلیہ نے خواہش ظاہر کی کہ باغ کے کسی درخت سے کوئ گھونسلا لیتے چلیں، تاکہ میں انہیں گھر میں سجاؤں. سیشان جی نے اپنے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں سے کوئی گھونسلہ اٹھا کر لانے کو کہا۔ پولیس والوں نے ایک لڑکے سے کہا جو قریب ہی ایک گائے چرا رہا تھا، دس روپے دیتے ہوئے کوئی ایک گھونسلہ درخت پر سے لانے کے لیے کہا، لیکن وہ لڑکا گھونسلہ لانے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ ٹی این سیشان نے پولیس والوں سے اس لڑکے کو دس کے بجائے پچاس روپے دینے کو کہا، پھر بھی لڑکا تیار نہیں ہوا۔
لڑکے نے سیشان سے کہا:
“جناب! گھونسلے میں پرندوں کے بچے ہیں، جب پرندے شام کو کھانا لیکر لوٹیں گے تو، انھیں اپنے بچوں کو نہ دیکھ کر بہت دکھ ہوگا. اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ مجھے اس کام کے لیے کتنا معاوضہ دیتے ہیں. میں کسی گھونسلے کو توڑ کر نہیں لا سکتا۔”
اس واقعے کا ٹی این سیشان کو زندگی بھر افسوس رہا کہ ایک چرواہا بچہ ایسی سوچ کا حامل بھی ہو سکتا ہے اور اپنے اندر بڑی حساسیت رکھتا ہے جبکہ میں اتنا تعلیم یافتہ اور آئی اے ایس ہونے کے بعد بھی اس بچے جیسی سوچ اور احساس اپنے اندر پیدا نہیں کرسکا.
وہ ہمیشہ ہی رنجیدہ رہے کہ ان میں وہ حساس فطرت کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ تعلیم کس نے حاصل کی؟ میں نے یا اس بچے نے؟ اس وقت سیشان کو تعلیم یافتہ وہ لڑکا لگنے لگا اور اپنے آپکو صرف معلومات عامہ کی اک ڈیوائس سی سمجھنے لگا، اسے شدت سے احساس رہا کہ اس چھوٹے لڑکے کے سامنے اس کا مؤقف اور آئی اے ایس ہونا بالکل ہیچ ہے۔
گویا اس کا قد اس بچے کے سامنے سرسوں کے دانے کی مانند گھٹ گیا ہے۔ تعلیم، سماجی مقام اور معاشرتی حیثیت، انسانیت کا معیار نہیں ہے۔ محض بہت سی معلومات جمع کرنے کو علم نہیں کہا جاسکتا! زندگی تبھی خوشگوار ہے جب آپ کی تعلیم انسانیت کے تئیں حکمت، شفقت اور ذہانت کا پتہ دیتی ہو۔
علم یا معلومات کی روشنی میں معاشرے کے لیے تعمیری پیغام تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں، ہم اپنے اردگرد یا خاندان اور دوستوں میں نظر دوڑائیں تو ہمیں ان سے سیکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ مثبت ضرور مل سکتا ہے۔ بس اپنی عینک کو ذرا مثبت نمبر سے بڑھانا ہوگا۔ پھر ہم اپنے اندر ایک مثبت تبدیلی ضرور محسوس کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں