Incident of Christian women being paraded naked in India 140

بھارت میں عیسائی خواتین کو برہنہ کر کے پریڈ کروانے کا واقعہ

سٹاف رپورٹ (تازہ اخبار پی این پی نیوز ایچ ڈی)

بھارت میں دوخواتین کو برہنہ کر کے پریڈ کرانے اور پھر ہجوم کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے انسانیت سوز واقعے کی پوری دنیا میں گونج ہے،اب انہیں مظلوم خواتین میں سے ایک کے شوہر نے اہم بیان جاری کیا ہے جس نے بھارتی حکومت کی اصل سوچ کو سب پر عیاں کر دیا۔ بھارتی ویب سائٹ “انڈیا ٹائمز ‘‘کے مطابق بھارتی ریاست منی پور میں 2 عیسائی خواتین کو نسلی فسادات کی آڑ میں ہندو ہجوم نےبرہنہ کر کے پریڈ کرائی اور پھر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا ، ہجوم کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی 2 خواتین میں سے ایک خاتون کا شوہر سابق بھارتی فوجی،اپنے دل دہلا دینے والے بیان میں متاثرہ خاتون کے شوہر نے کہا کہ میں نے ساری عمر اپنے ملک کی حفاظت کی لیکن افسوس میں اپنی بیوی اور گھر والوں کی حفاظت نہ کر سکا.
خاتون کے شوہر نے کہا کہ میں نے کارگل میں ملک کے لیے جنگ لڑی جبکہ سری لنکا میں بھی بھارتی فوج کا حصہ تھا، میں نے قوم کی حفاظت کی لیکن افسوس ہے کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد میں اپنے گھر، اپنی بیوی اور گاؤں والوں کی حفاظت نہیں کرسکا، سابق بھارتی فوجی نے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے وقت پولیس وہاں موجود تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی ،میں چاہتا ہوں کہ ان تمام لوگوں کو جنہوں نے گھروں کو جلایا اور خواتین کی تذلیل کی انہیں مثالی سزا دی جائے.
بھارتی آرمی کے سابق صوبیدار اور ہجوم کے ہاتھوں ظلم کا نشانہ بننے والی خاتون کے شوہر نے مزید بتایا کہ لوگ ہمارے گاؤں میں آئے اور گھروں کو جلانے لگے، تمام گاؤں والوں نے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے کی کوشش کی، اس دوران میری بیوی مجھ سے الگ ہو گئی، میری بیوی اور چار دیگر گاؤں والے جنگل میں چھپ گئے لیکن پھر کچھ حملہ آور پیچھا کرتے ہوئے آئے اور انہوں نے میری بیوی اور دیگر افراد کو ڈھونڈ کر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں