وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات مشترکہ مفادات کے تحفظ کے ضامن ہیں۔ 366

وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات مشترکہ مفادات کے تحفظ کے ضامن ہیں

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

مقامی اخبار الریاض کو دورہ سعودی عرب کے دوران دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ “ہم سعودی عرب کے انتہائی ممنون ہیں جس نے پاکستان میں تین ارب ڈالرز جمع کروا کے معیشت کی مدد کی ہے”وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہر مشکل وقت میں مدد کی ہے۔
سعودی عرب کی طرف سے یہ امداد دونوں ممالک کی گہری اور مستحکم دوستی کی عکاسی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے آخر تک سعودی عرب پاکستان کو 1.2 بلین ڈالرز کا تیل بھی فراہم کرے گا۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نئے شعبوں میں ہمہ گیر شراکت داری پر کام کریں گے تاکہ دونوں ملکوں کا فائدہ ہو۔
انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی گہرے تعلقات کو سٹرٹیجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔
مستحکم سیاسی تعلقات کو تجارتی اور سرمایہ کاری کی بنیادوں پر بدلنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت ہر شعبے میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ سعودی قیادت کے ساتھ وژن 2030 کے تحت ترقیاتی شعبوں میں کام کرنے پر بات چیت ہوئی ہے۔
ہم نیا پاکستان وژن پر کام کر رہے ہیں جبکہ “سعودی عرب وژن 2030” پر کام کر رہا ہے اور دونوں وژن ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم مشترکہ جدوجہد کرکے مشترکہ مفادات کا حصول یقینی بنا سکتے ہیں۔ ہم وژن 2030 کو حقیقت بنانے کے لیے سعودی عرب کو ہنر مند افراد کے علاوہ مختلف شعبوں میں تجربات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطیٰ پروجیکٹس کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پورے خطے کے ماحولیات کی بہتری کے لیے سعودی عرب کا انیشی ایٹو قابل قدر ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی ہم سب کے لیے خطرناک ہے۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ماحولیات کی بہتری کے لیے مل کر کام کریں۔پاکستان بھی اسی طرح کے انیشی ایٹو پر کام کر رہا ہے جس کے تحت ملک میں ایک ارب درخت لگائے جائیں گے۔گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطی کے ضمن میں بھی ہم ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
عمران خان نے کہا ہے کہ مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد ویکجہتی کے ساتھ ساتھ درپیش مسائل کے حل کے لیے سعودی عرب نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
او آئی سی کے تحت وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جو 2020 میں منعقد ہوا تھا، او آئی سی نے پاکستان کی طرف سے اسلامو فوبیا کے متعلق تجویز کو منظور کیا تھا۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ہونے والی ملاقات کو شاندار قرار دیتے ہوئے عمران خان نے پاکستان کی معیشت کی مدد کرنے پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں