آج کے کالمزبین الاقوامی کالمزفیچر کالمزکالمز

میں تیرے صدقے جاوں

کالم نگار سیدہ نمیرہ محسن شیرازی : پی این پی نیوز ایچ ڈی

آج ماوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پہلے تو سوچا کہ اس بارے میں کیا لکھنا۔ کیونکہ میری کیا، ہم سب کی پوری زندگی ہماری ماوں کے ایسے احسان سے عبارت ہے کہ اس کا بوجھ ہمیں اس کے سامنے تا عمر جھکائے رکھتا ہے۔ ہمارا تو ہر دن ماں کا دن ہے۔
لیکن پھر سوچا کہ ایسی کوئی تحریر شاید ان بہت سی ماوں کے لئے زندگی کا باعث ہو جائے جن کی اولادیں ان کی قدر نہیں کرتیں۔
عورت کو اللہ نے مرد کی بائیں پسلی اور وہ بھی سب سے ٹیڑھی والی سے بنایا۔ ہم لوگوں نے تو بہت بعد میں جا کر جانا کہ گھی کبھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلتا۔ اور اس صنف نازک نے بہت سے مردوں کو سیدھا کرنا تھا۔ ان کی تربیت اور حفاظت کرنی تھی۔اپنے جیسی کئی اور ذمہ دار مائیں تیار کرنا تھیں۔
تو اللہ نے ایسی کجی کو وہ صراط مستقیم بخشی کہ وہ اس ہدایت کے باعث اور اپنی اسی خوبصورتی کی وجہ سے ہر درد سہہ گئی۔ خواہ وہ درد ولادت ہو، تربیت اولاد میں رت جگوں سے دکھتی آنکھوں کا، بہت سی جگہوں پر شکست کھانے کا، اپنی اولاد کے حقوق کی خاطر بے آبرو ہونے کا، دعاوں میں اپنے جگر گوشوں کے لئے اللہ کے سامنے دل رکھ کر بلکنے کا، یااپنی اولاد کی بیوفائی کا کڑوا گھونٹ ہنس کر حلق میں انڈیل لینے کا۔ وہ ٹیڑھی میڑھی جسے ایک وصف الہی کہاں سے کہاں لے گیا سب سے گزر گئی ۔ کئی آگ کے دریا جنت سے ٹپکے ایک قطرہء حیات نے پاٹ لئے۔ فقط ایک صفت نے اسے تن تنہا دنیا کے لق و دق صحرا میں آب زمزم پھوٹنے کا باعث بنا ڈالا۔
ایک خوبی ودیعت کر کے اس مظلوم و محکوم و معتوب جنس کو رحم کا بوجھ سہارنے کے عوض مرد سے تین گنا بلند کردیا۔
سوہنے اللہ کے من موہنے محبوب ، میرے اور آپ کے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں باپ کو جنت کا دروازہ کہا وہاں ماں کے پیروں تلے جنت بتادی۔
سعید بن ابو بردہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا کہ
"ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کے پاس ایک یمنی شخص کو دیکھا جو اپنی ماں کو پیٹھ پر اٹھا کر طواف کروا رہا تھا۔ وہ شخص یہ شعر پڑھ رہا تھا:”میں اس (ماں) کے لیے تابع دار اونٹ ہوں، اگر اس کی سواری ڈر جائے تو میں نہیں ڈرتا”۔طواف کے بعد اس شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "اے ابن عمر! کیا میں نے اپنی ماں کا حق ادا کر دیا؟”ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:”نہیں، ایک سانس (اس کی زچگی کی ایک تکلیف) کا بھی بدلہ نہیں، لیکن تو نے بہت اچھا کام کیا ہے اور اللہ اس تھوڑی سی خدمت پر تجھے بہت بڑا اجر دے گا” ( رواہ بخاری الادب المفرد کتاب الوالدین، حدیث نمبر 11) ۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سی ان عورتوں کو بھی اپنی اولاد کے حقوق کے لئے لڑتے اور بحث کرتے دیکھا جو کبھی بالکل خاموش طبع اور سیدھی سادھی سمجھی جاتی تھیں۔
میرا اور میری امی کا رشتہ بڑا مختلف رہا۔ آج سوچتی ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو میری سب سے پکی والی سہیلی تھیں۔
مضبوط، حسین، بلند حوصلہ اور علم دوست۔ انہوں نے ہم تینوں بہنوں کو عملا اپنے بہترین کردار سےمتاثر کیا۔
نہ تو انہوں نے ہمیں زمانے یا مرد سے ڈرایا نہ ہی ابا نے۔ بس ایک ہی بات سکھائی، ڈر اور در اللہ کا، باقی سب خیر ہے۔ انسان دوستی، عاجزی، انکساری، خدمت خلق اور مظلوم کے حقوق کے لئے ڈٹ جانا۔ ظالم کا ہاتھ ظلم سے روکنا۔ زندگی ایک مشن کے ساتھ گزارنا۔ خود کو اور خالق کو پہچاننا۔ اپنی جڑوں سے مضبوطی سے وابستہ رہنا۔ ہمدردی، جرآت اور ہمت یہ سب وہ خصائص ہیں جن کی عملی تفسیر ہم نے اپنے والدین میں پائی۔
2 سال کی عمر میں سری نگر کشمیر کے ایک مجاہد کی بیٹی ماں کی گود میں سمٹی پھلوں کے ٹرک میں چھپ کر پاکستان آئی۔ باپ سری نگر پر ہندو کے ناجائز قبضے کے صدمہ سے جانبر نہ ہو سکا اور وہیں اپنی دھرتی ماں میں پیوند خاک ہوا۔
نانی اماں اپنے 9 بچوں کے ساتھ عدت کے دنوں میں ملک بدر ہوئیں۔ سب چھوٹے بچے اور ایک جوان بیوہ۔ ان مجاہدوں نے اپنے وطن پر بہت کچھ قربان کردیا تھا۔
نیا وطن، نئے مسائل اور وقتی مگر شدید مالی مشکلات۔
ان سب میں اماں بہت برے طریقے سے پس کر رہ گئیں۔ جذباتی طور پر شدید تنہا بھی۔ بڑے بہن بھائیوں کے احسانات کا شدید بار، ماں پر بوجھ ہونے کا دکھ، بھائیوں کا ساتھ نہ دے پانے اور ان کے تنہا روزگار اور تعلیم کے لئے مسلسل کوشش یہ تمام عوامل ایسے تھے جنہوں نے ایک چھوٹے بچے کو جذباتی طور پر تنہا مگر مضبوط بھی کیا۔ بہت سے لوگوں، رویوں اور حالات کے بارے میں کچی پکی رائے بنتی گئی۔
اماں اکثر مجھ سے کہا کرتی تھیں۔ ” جب تیرا باپ میری زندگی میں آیا تو میں جو ایک سیلاب تھی، منہ زور پانی کی طرح، میں پر سکون دریا بن گئی۔ میرے زندگی کے ساتھی نے مجھے شفقت، محبت، اعتماد اور خود شناسی جیسے تجربات سے متعارف کروایا۔ میں نے اس انسان سے فرشتوں جیسی عبادت اور پیغمبروں جیسی عاجزی سیکھی۔
اماں کا ہماری دادی سے بھی بہت پیارا رشتہ رہا۔ ان کے آنے سے ایک ماہ پہلے گھر دلہن کی طرح سجایا جاتا۔ ہر تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹائی جاتی کہ ان کو ٹھوکر نہ لگ جائے۔ ہماری درویش صفت دادی کے لئے نئے جوتے، جوڑے، منقش چھڑی بنوائی جاتی جو وہ اللہ کی ولیہ مشکور ہو کر وصول کرتیں اور پھر کسی پوتی یا نواسی کو دے دیتیں کہ وہ دو جوڑوں اور دو ہی جوڑے جوتوں سے سوا کچھ اپنے پاس نہ رکھتیں۔ ہجرت انہوں نے بھی کی تھی، شوہر ان کے بھی ہجرت کے بعد چل بسے مگر ان کے بچے بہت با اختیار اور قائدانہ صلاحیتوں کے مالک بنے۔ دادی جان نے اماں کو ہماری تائی جان کے ساتھ چراغ لے کر ڈھونڈا تھا۔ ایک طرف ممتا اور دوسری طرف لاڈلے، ہر فن مولا محبت کرنے والے دیور اور ماموں زاد کا پیار تھا جو اماں کو دلہن بنا کر اس خاندان میں لے آیا۔ دلہن بھی ایسی کہ جس کے سرو قد، صورت اور سیرت کا چرچا چاروں اور ہوا۔
میرے تایا جان جو اپنے علاقے کے روحانی، سیاسی اور عوامی لیڈر تھے اماں کی شخصیت کے بہت بڑے مداح تھے۔ اکثر سیاسی فیصلہ کرنے سے پہلے اماں کو پردے کے پیچھے سے وہ شخصیت دکھائی جاتی اور پھر رائے لی جاتی۔ بات اتنی سی ہے کہ باوجود چھوٹے بھائی ہونے کے ابا کی عزت ان کے بے داغ کردار اور عقل و دانش کے باعث اپنے گھر میں بہت تھی۔ ابا نے اماں کو ہر لحاظ سے مضبوط اور خود مختار کیا۔ پندونصائح کے انبار نہیں لگائے بس ساتھ کھڑے رہے اور مواقع دیتے رہے۔ جہاں کجی دیکھی وہاں اپنی راست بازی سے اسے چھپا لیا۔ اماں کہتی تھیں کہ یہ نام کا محسن نہیں اس شخص نے مجھے سر سے پیر تک ڈھک دیا۔ یہ میرا عزت والا لباس بن گیا۔
ہمیں ابا سے محبت اور خاموش ریاضت سی خدمت بھی اماں نی سکھائی۔ بلا شبہ یہ وہ عملی اظہار تشکر تھا جو ایک عورت نے اپنے کفیل کو پیش کیا۔ جب ہم ابا سے لپٹتے اور ان کوچومتے، ان کے ساتھ پہروں باتیں کرتے تو خاموشی سے تکتی رہتیں پھر چپکے سے مجھ سے پوچھتیں، ” کیسا محسوس ہوتا ہے، کیا باپ سے بھی پیار ہوسکتا ہے؟ میں نے تو صرف ماں کو دیکھا تھا مجھے محسوس نہیں ہوتا یہ رشتہ!” میری دعا ہے کہ اللہ ان کو اپنے باپ سے وہاں اپنی فردوس الاعلی میں ملوادے۔ آمین

اپنے بچپن کی ایک رات مجھے بھولتی نہیں۔ دسمبر کی یخ بستہ رات تھی، بارش اور طوفان۔ اچانک آدھی رات کو گھر کا گیٹ کسی نے اپنی پوری قوت سے دھڑدھڑایا۔ ابا کسی کام سے گھر پر نہیں تھے۔اماں نے گہری بھوری اونی چادر لپیٹی اور برآمدے میں کھڑی ہو کر چوکیدار کو بھیجا کہ دیکھے کیا معاملہ ہے۔ اس نے آکر بتایا کہ مالی نے اپنی بیوی کا پیر کلہاڑی سے زخمی کردیا ہے اور اس کو بری طرح پیٹ رہا ہے۔
اماں اونچی لمبی اور مضبوط بدن کی تھیں۔ یوں باہر کو لپکیں جیسے کوئی بجلی کا کوندا۔ میں بھی اماں کی پیچھے بھاگتی مالی کے کوارٹر میں گرتی پڑتی ذرا دیر سے پہنچی تو دیکھا کہ اماں نے اس کا ہاتھ مروڑ کر اس کے کمر سے لگا رکھا ہے۔ کلہاڑی اماں کے ہاتھ میں ہے اور وہ گرج رہی ہیں۔
اس کی بیوی بیچاری زمین پر بیہوش پڑی تھی۔ خون ہی خون بکھرا تھا۔ کمپاونڈرکی بیوی اس کے زخم پر اپنی چادر رکھے خون روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اماں کے ہونٹوں پر بس ایک ہی بات تھی۔ ” تو نے ایک باہر کے آدمی پر یقین کیا؟ اپنی بیوی کی نہ سنی؟ تو ساتھ نہیں رکھ سکتا تو اس کو چھوڑ دے مگر مارا کیوں؟ ” مالی ڈرا سہما معافیاں مانگ رہا تھا۔ میری ہیرو ماں نے غصے سے پاگل آدمی کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر بے بس کر رکھا تھا۔ اور کلہاڑی اب ان کے ہاتھ میں تھی اور پوچھ رہی تھیں کہ ” بتا اب میں تیرا کونسا پیر کاٹوں کہ تو نے نا حق بہتان لگایا اور بے بس عورت پر ہاتھ اٹھایا۔”
اور بہت سے شجاعت کے قصے ہیں۔ اگر بیان کروں تو آپ پڑھتے جائیں گے اور میں لکھتی جاوں گی۔
ہمارا گھر کئی لاوارث اور بے بس عورتوں کا گھر بھی تھا۔ وہ کسی قریبی گاوں سے آتیں۔ مختلف مسائل، کورٹ کچہری کے چکر، اولاد کی کفالت کے مقدمات ہوں یا نوکری پیشہ اپنے گھر کی واحد کفیل خواتین، سب دوپہر کا کھانا کھاتیں ، سستاتیں، روتیں، دکھ سکھ کرتیں، ڈاکٹر صاحب (ابا) کو اپنی کتھا سناتیں، ابا ان کے لئے دنیا سے لڑنے نکل جاتے اور اماں ان کو سینے سے لگا کر سہلاتیں۔ ہنساتیں، امید دلاتیں۔
بھائی سیاسی قیدی ہوئے تو زندگی سے بیزار ہوئیں جب تک کہ ابا ماموں کو گھر نہ لے آئے۔ تین سے چار سال کا دور ابتلاء تھا۔ اسی غم میں نانی دنیا سے منہ موڑ گئیں۔ وہ تو اپنا دیس چھوڑ کر سلطنت اسلامیہ میں آئی تھیں۔ اب یہاں کون دشمن بنا یہ ان کا لہو اگلتا دل نہ سمجھ سکا اور نہ ہی سہہ سکا۔
پھر ہماری زندگیوں میں ابا کی بیماری کا دور آیا۔ اماں سر سے پیر تک بدل گئیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسی عورت دیکھی جو جیتے جی اپنے شوہر پر قربان ہو گئی۔ نفسیاتی طور پر بہت سے وسوسوں کے سانپ پھن لہراتے حصار باندھ کر کھڑے ہو گئے اور یہ اپنی مخروطی انگلیوں سے اپنے محسن کے گرد خدمت و وفا شعاری کی محفوظ فصیلیں اٹھاتی گئیں۔ ایک ہی کوشش کہ میری بچیاں میری طرح یتیم نہ کہلائیں۔
آخر کار ابا بھی چلے گئے۔ ان کے ساتھ کا وہ آخری دن کبھی نہ بھولنے والا تھا۔ابا کو میرے سینے سے لپٹے خون اگلتے دیکھ کربیہوش ہو کر گر گئیں۔ ابا کے ہونٹ کانپے، ” ہوش کرو فرحت! میں ٹھیک ہوں!” میں ابا کو خود سے لپٹائے کھڑی تھی ، ایک خون کا تالاب تھا جس میں میں اور ابا نہا رہے تھے۔ میرا گل لالہ مجھے اپنا آخری خراج دے رہا تھا۔ میں نے تڑپ کر کہا، ” امی اٹھیں!” جسم میں حرکت ہوئی اور کھڑی ہوگئیں۔ اور یوں ان کی زندگی سےابا کا باب بھی ختم ہوا۔
اکثر کہتیں مجھے مرد راس ہی نہیں۔ باپ نہ دیکھا، اللہ نے بیٹا نہ دیا اور پھر شوہر بھی چلا گیا۔
اپنی بیوگی کے 22 سال بھرپور عزت اور خود مختاری سے گزارے۔ کسی بیٹی کو کبھی کوئی ذمہ داری دینا تو کجا کبھی ہم سے اپنی کسی تکلیف کا ذکر بھی نہ کیا۔ محلے کی کئی عورتوں کی غم خوار، محبت کا مرکز، ہمدردی کا سوتا ، ہماری اماں تھیں۔
آخری دنوں میں میرے پاس تھیں۔ یہ میری خوش بختی تھی۔ سرطان ان کی ہڈیوں تک کو چاٹ گیا تھا۔ اچانک مجھےبخار ہوگیا۔پورے جسم میں شدید درد تھا۔ میں اماں کو کھانا کھلانے لگی تو چہرے سے ہی پہچان لیا کہ میں ٹھیک نہیں۔ چھو کر محسوس کیا اور اپنے کمزور ہاتھوں سے مجھے اپنے استخوانی سینے سے لگا کر دبانے لگیں۔ اف وہ جو درد جدائی میرے سینے میں اٹھا، کیا احساس شرمندگی تھا!!!!
ایسے عظیم جذبے کو کیسے سراہا جائے۔ موت سامنے کھڑی ہے مگر اب بھی اولاد ہی کی حفاظت ہو رہی ہے۔ ایک دن کہنے لگیں” میں تیرے صدقے جاوں!” اور میں ان کے مٹتے وجود کو دیکھ رہی تھی۔اور سوچ رہی تھی کہ میں کیسے اپنی ماں کی رگوں میں اتر جاوں کہ وہ پھر سے بھلی چنگی ہو جائیں۔ اماں میں کیسے تیرے صدقے جاوں؟
رب ارحمھما کما ربینی صغیرا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے