ثناء شعیب 204

کھوکھلے رشتے

کالم ، ثناء شعیب جدہ،پی این پی نیوز ایچ ڈی

کھوکھلے رشتے ہاں جی اپ نے سہی پڑھا یہ وہ رشتے ہیں جو سگے تو ہوتے ہیں لیکن اپنے نہیں ہوتے۔میرے تجربے کے مطابق 90 فیصد رشتے کھوکھلے ہوتے ہیں اور 10 فیصد اپنے چاہے وہ کوئی بھی رشتہ ہو میں حیران ہوتی ہوں یہ دیکھ کر آج کل رشتے ہیں پیسوں کے حساب سے جس کے پاس جتنی دولت اس کے اتنے ہے زیادہ رشتے بات تلخ ہے لیکن حقیقت ہے آج کی۔آج کل لوگوں کو یعنی خاص کر کے رشتےداروں کو ہر وقت اسی کی ٹینشن ہوتی کے ہاے فلانا کے گھر میں کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں ۔اگر کسی کے گھر کوئی مسلہ ہوا ہے تو وہ ان کو دلاسہ دینے نہیں بلکے اور ٹینشن دینے جاتے ہیں پھر گھر سے نکلتے ہے مذاق بناتے ہیں کہتے ہیں کے دیکھا اچھا ہوا اس کے ساتھ جو ہوا ۔اور غلطی سے کسی کے گھر کوئی خوشی کا سما بندھ جاے تو حسد جلن یا پھر آج کل نیا ٹرینڈ آگیا ہے کے جادو کروا دو اس کو تباہ کروادو سگے بہن بھائی کو ایک دوسرے کی خوشی برداشت نہیں لیکن ان کو یہ نہیں پتا کے دنیا میں ہے رہ کر وو اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں۔ہوسکتا ہے مجھ سے کچھ لوگ اختلاف کریں لیکن میں نے دیکھا ہے کے ماں باپ کا پیار بھی پیسا دیکھ کر زیادہ اور کم ہوتا ہے میں ایک مثال دیتی ہوں ایک بیٹا ہے وو اتا بیمار ہے کے ڈاکٹر نے کہا ہے کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے اس کو اور اس کی ماں دوسرے شہر میں ہے لیکن وہ اس کو فون کر کے پوچھ بھی نہیں رہی جبکہ یہ وہی اولاد تھی جس نے پورے گھر والوں کی زمیداری اٹھائی ہی تھی اور یہی ماں اس وقت کالیں کر کر کے اسکی تصویر دیکھ کر روتی رہتی تھی ۔اب جب اسی اولاد کو اس کی ماں کی ضرورت ہے تو وہ بلکل بےحس بن گئی ہے جیسے وو اس کو جانتی ہی نہیں ہے ۔جب میں نے یہ سب سنا تو میں سوچنے پر مجبور ہوگی کہ واقعی یہ دولت سگے رشتوں پر حاوی ہو چکی ہے ۔ایک کہانی تو یہ تھی اب یہ سنیں سنیں کے ایک بھائی اپنے ہی دوسرے بھائی کے خون کا پیاسا بن گیا وہ بھی جائیداد کے لیے۔اب تو کوئی رشتہ بھی اپنا نہیں رہا سارے رشتے ہے کھوکھلے ہوگئے ہیں۔ایک اور رشتے کی کہاں سناتی ہوں میاں بیوی کا رشتہ ۔میں نے ایک ایسے شوہر بھی دیکھیں ہیں جو اپنے بزنس کو چمکانے کے لیے اپنی ہی بیوی کو نمائش بنا کر اب کے سامنے پیش کرتے ہیں اور بولتے ہیں بیوی کو کے اس سے دوستی بناؤ اور بزنس لے کر آو میں نے جب یہ چیز اتنے پاک رشتے میں دیکھی تو میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔ایسے اور بھی بہت قصّے ہیں جو روزمرہ زندگی میں دیکھنے کو ملتے میں تو کہتی ہوں واقعی قیامت قریب ہے ابھی بھی ہم توبہ کر لیں تو آخرت سنور جاۓگی۔ میں نے بھی اپنی زندگی میں بہت غلطیاں کی ہیں انسان ہوں غلطی مجھ سے بھی ہوئی ہیں اور میں نے بھی توبہ کی ہے کاش کے ہر انسان اپنی غلطی کی توبہ کر لے اس دنیا اور آخرت دونو ہی سنور جاۓگی ۔ذرا سوچیے اس بات پر اور اپنے رشتوں کو اپنا بنائیں مضبوط کریں جلن حسد سب نکال دیں اپنے اندر سے اور ایک خوبصورت زندگی کا آغاز کریں اپنوں کے سنگ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں