عدنان تابش ۔ جدہ سعودی عرب، کالم نگار پی این پی نیوز ایچ ڈی 410

“نمک حلال”

عدنان تابش ۔ جدہ سعودی عرب، کالم نگار پی این پی نیوز ایچ ڈی

کئ دوستوں کے ساتھ گفتگو کے تناظر میں ان کے ذہن میں سعودی عرب کی ترقی کو دبئ کے طرز پر سمجھا گیا تھا۔ جہاں درہم کی ریل پیل روشنیوں اور یورپی طرز زندگی سے جوڑا جاتا ہے۔
مملکت العربیہ السعودیہ میں 2011 سے رزق حلال کما رہا ہوں۔ اس لئے سوچا، کہ کم از کم اپنے نمک کو سعودی عرب کے ساتھ حلال کرنے کا یہ ایک موقع ہے، کہ لوگوں کے ذہنوں میں سعودی عرب کے بارے میں پائے جانے والے غلط فہمیوں کا ازالہ کرسکوں تو یہ میرے لئے ایک فخر کی بات ہوگی۔ ۔ ۔ ۔

سعودی جس میں ہم دو ہزار گیارہ میں آئے تھے۔ اور آج کے سعودی عرب میں فرق کیا ہے؟ درحقیت اس وقت اور آج کے سعودی عرب میں زمین و آسمان کا فرق ہے، ذیل میں مختلف حقائق کی روشنی میں اس فرق کا احاطہ کرنے کی کوشش کروں گا۔
آمدن کے لحاظ سے پہلے سعودی عرب کا واحد بڑا ذریعہ تیل اور گیس کا تھا۔ کہ جہاں سے سعودی عرب کی مکمل بجٹ چلتی تھی۔ لیکن دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور 50 سال بعد کے حقیقت کے ادراک میں جہاں دنیا صرف تیل کے اوپر نہیں چلے گی، سعودی عرب نے دوسرے حل کے طور پر اپنے بجٹ کو 2030 تک تیل سے ہٹاکر دوسرے ذرائع پر کرنے کا اعلان کیا۔ اور اس کے لئے عملی طور کوششیں شروع کردیں۔ سب سے پہلے مملکت کے اندر جہاں تیل کی قیمت پانی سے بھی کم تھی، اسے باقی دنیا کے ساتھ متوازن بنانے کا فیصلہ کیا گیا، اور اس کے لئے ماہانہ کے بنیاد پر ریویو کمیٹی بنائی گئ، جو ہر مہینے عالمی منڈی کے حساب سے پٹرول کی قیمتوں کو دیکھ مملکت کے اندر اس کے قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔ البتہ ڈیزل کو لاجسٹک سپورٹ کا ایک بڑا ذریعہ ہونے کی وجہ سے ایک حد سے زیادہ بڑھانے نہیں دیا گیا۔ 2011 میں پٹرول کی قیمت 45 پیسے فی لٹر ہوتی تھی، جبکہ اب کے موجودہ وقت کے حساب سے اس کی فی لٹر قیمت 2 ریال اور 18 پیسے ہے۔ اس سے حکومت کو آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ میسر ہوا۔ مستقبل کے انرجی منصوبوں میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے طور پر سولر پلانٹس میں کافی سرمایہ کاری گئی، جس سے سعودی عرب قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ترقی کر رہا ہے، بلکہ کاربن کے اخراج اور ماحول کو محفوظ رکھنے کے اپنے وعدے کی طرف تیزی سے گامزن ہوگیا ہے۔
ٹیکس ریفارمز کے لئے ہر شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کی گئی، ہر شعبے کو موبائل ایپس کے ذریعے سہل بنایا گیا۔ پہلے مد میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے طور پر 5 فیصد ٹیکس نافذ کردیا گیا، جسے بعد میں 15 فیصد کردیا گیا، جو تاحال اسی طرح چل رہی ہے۔ ٹیکس کے بہترین نظام اور ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے ٹیکس چوری کی گنجائش یہاں پر بہت ہی کم ہوتی ہے۔
سعودی میڈ (Made in Saudi) نامی منصوبے سے سعودی شہریوں کہ وہ امپورٹ کی گئی اشیاء پر مقامی طور پر تیار کردہ اشیا کو ترجیح دیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف پروموشنز، اور مقامی کاروباروں کو تعاون دیا جارہا ہے۔ جس میں سعودی برآمد کنندگان کو بین الاقوامی منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھانے، مارکیٹ ریسرچ، تجارت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی برآمدی معاہدوں اور ضوابط کی تعمیل میں مدد شامل ہے۔ اس منصوبے کا سب سے اہم مقصد سعودی عرب کو مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کے لیے دنیا میں ایک اہم مقام کے طور پر پوزیشن دینا ہے۔
ٹورازم کسی بھی ریاست کے آمدن میں ایک بہت ہی اہم رول ادا کرتی ہے، بلکہ دنیا کے بعض ممالک کا تو واحد ذریعہ آمدن ہی ٹورازم ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے سب سے مقدس مقامات مکہ اور مدینہ کے ہوتے ہوئے سعودی عرب کی اندرونی پالیسی کی وجہ سے وہاں پر بہت کم لوگ آسکتے تھے۔ مذہبی ٹورازم سپاٹ کے طور پر سعودی عرب کی یہ ایک بہت بڑی کمزوری تھی۔ عمرے کا سیزن رمضان کے آخری عشرے میں بند ہوتا تھا اور حج کے بعد محرم میں کھلتا تھا۔ اس کے علاوہ حاجیوں کو مکہ اور مدینہ سے باہر کسی دوسری جگہ جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اپنے عمرہ پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرتے ہوئے سعودی عرب نے نہ صرف حج کے مخصوص ایام کے علاوہ سارا سال عمرہ سیزن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، بلکہ عمرہ زائرین کو مملکت کے کسی بھی شہر میں جانے کی مکمل آزادی دے دی۔ جس سے عمرہ زائرین کے تعداد ہزاروں سے لاکھوں میں پہنچ گئی۔ مذہبی ٹورزم کے علاوہ سعودی عرب کے اندر تاریخی طور پر بہت سارے مقامات پائے جاتے ہیں، جنہیں دیکھنے کے لئے دنیا سے ہزاروں ٹورسٹ بیتاب تھے، تاہم وہ سعودی عرب کے سخت ویزا اور اندرونی پالیسی کی وجہ سے مملکت آنے سے گریزاں رہتے تھے۔ نئی ویزا پالیسی کے بعد اس میں کافی تبدیلی دیکھنے کو ملی، اور دنیا کے لوگوں کو سعودی عرب دیکھنے کا موقع ملا۔ ان ٹورسٹ کو آپ مکہ اور مدینہ کے علاوہ اب سعودی عرب کے کسی بھی تاریخی مقام پر دیکھ سکتے ہیں۔
سعودی حکومت نے نجی شعبے کے لیے معیشت میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے اصلاحات نافذ کی۔ جس سے نجی شعبے کی سرگرمیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔وژن 2030 کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے رئیل اسٹیٹ، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، اور فنانس کے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہیں۔
سعودی لڑکے گریجویٹ ہونے کے باوجود بے روزگار پھرتے تھے۔ ان کے ہاں اپنے ملک میں بڑی نوکری سیکیورٹی گارڈ کی ہوتی تھی۔ سعودی نوجوانوں کو جابز دلانے کے لئے لیبر آفس میں نطاقات سسٹم نافذ کردیا۔ کہ کمپنیوں پر سعودیوں کو جابز دینا لازمی قرار دیا۔ بلکہ بعض جابز تو سعودیوں کے لئے ہی مخصوص کردئے گئے، جس سے ملک میں بیروزگاری میں انتہائی حد تک کمی ہوگئی۔ جہاں کمپنیوں میں سعودی لڑکے صرف سیکیورٹی گارڈ بھرتی ہوتے تھے، آج وہاں پر آپ انہیں ہر لیول پر کام کرتے دیکھ سکتے ہیں۔
کفیل کے نظام پر ساری دنیا سے سعودی عرب پر تنقید ہوتی رہی ہے، نئے نظام میں اگرچہ کفیل کے ہاتھ سے سارا کچھ نہیں لیا، پھر بھی کسی حد تک اس کو سسٹم کے اندر بند کردیا۔ اب وہ اپنے کسی عامل کا پاسپورٹ ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ اور کسی بھی ورکر کو حکومت کے سسٹم سے منسلک لیبر کنٹریکٹ کے بغیر نہیں رکھ سکتا۔ جس سے قانونی طور پر کوئی بھی کمپنی یا کفیل اپنے کسی ورکر کا دو مہینے سے زیادہ کی تنخواہ نہیں روک سکتا۔ اس نظام سے کفیل سے منسلک ساری برائیاں اگرچہ ختم تو نہیں ہوئی، تاہم اس میں کافی مثبت تبدیلی آگئی ہے۔
( یہاں پر ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں، کہ بعض لوگوں کے ذہن میں کفیل سسٹم کے متعلق ایک غلط فہمی ضرور رہتی ہے، کہ بعض لوگوں کو کفیلوں کے ساتھ کئی سارے مسئلے ہوجاتے ہیں، ان کی کئی وجوہات ہیں، جنہیں مختصر بیان کروں، تو یہ ہوگا، کہ یہاں پر آزاد ویزے کا کوئی سسٹم یا نظام نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے لوگوں اور سعودی کفیلوں کے درمیان غیر تحریر شدہ زبانی وعدہ ہوتا ہے، جس کے مطابق آپ اپنی مرضی کے مطابق کمپنی کے ساتھ کام کرتے ہیں، جبکہ اس کے بدلے میں آپ کفیل کو ماہانہ یا سالانہ کے حساب سے پیسے ادا کرتے ہیں، ہمارے اکثر دوستوں کے مسائل حکومتی نظام سے پرے اس کفیل کے زبانی وعدہ سسٹم یعنی آزاد ویزا سسٹم کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں، مطلب جب آپ کسی حکومتی نظام سے ہٹ جاتے ہیں، اور کفیل کے زبانی نظام سے خود کو نتھی کرلیتے ہیں، تو بدلے میں جو بھی آپ کے ساتھ ہوتا ہے، اس کے ذمہ دار آپ خود ہوتے ہیں)
ائرپورٹس کا نظام پہلے انتہائی ابتر اور ناقص ترین ہوتا تھا۔ بلاوجہ نئے آنے والوں کو گھنٹوں قطار میں کھڑا رکھتے تھے، امیگریشن افسران کا رویہ انتہائی عجیب ہوتا تھا، تاہم ایک جوابدہ نظام کی بدولت اب سعودی ائرپورٹوں کی حالت کا اب آپ دنیا کے کسی بھی اچھے ائرپورٹ کے ساتھ موازنہ کرسکتے ہیں۔ دنیا کے جدید ائرپورٹس کے طرز پر اب آپ کا سارا پروسس انتہائی سرعت اور جانفشانی کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔ آمدن میں اضافہ کے لئے سعودی ائرلائن کو نہ صرف جدید خطوط پر استوار کیا، بلکہ ائرلائن انڈسٹری میں دنیا کے ساتھ مقابلے کے لئے ایک نئے ائرلائن ریاض ائر کا بھی افتتاح کردیا گیا۔
ماحول کے حساب سے دس بلین ٹری انیشییٹو لیا۔ اس سال جدہ میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری بھی شروع ہوئی۔ مڈل ایسٹ کا سب سے پہلا اور تیز ترین زیرو کاربن والا ریلوے سسٹم حرمین ریلوے کے نام سے چل رہا ہے۔
اس کے علاوہ کافی سارے جہت ہیں۔ جن کا احاطہ ایک کتاب لکھنے کے علاوہ ممکن نہیں ہوگا۔
ہاں! یہ آپ کا حق ہے کہ کچھ امور میں آپ ان سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ لیکن سعودی عرب کی ترقی کو دبئ کی طرز پر سمجھنا ناانصافی ہوگی۔
اب جبکہ یہ سطور لکھ رہا ہوں، نئی خبر یہ آئی ہے، کہ ایکسپو 2030 کی میزبانی سعودی عرب کو مل گئی ہے، جو سعودی اکانومی کے لئے ایک بڑی خبر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں