ریاض میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمام غزوۂ بدر کانفرنس، علما اور پاکستانی کمیونٹی کی شرکت
تقریب کے اختتام پر پاکستان، سعودی عرب اور پوری امت مسلمہ کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
الریاض رپورٹ عالم خان مہمند :پی این نیوز ایچ ڈی
ریاض: سعودی عرب میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمام معرکۂ حق غزوۂ بدر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں علما و مشائخ، سفارتخانۂ پاکستان کے افسران اور پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے غزوۂ بدر کی تاریخی اہمیت، اس سے ملنے والے ایمانی اسباق اور رمضان المبارک کے آخری عشرے کی فضیلت پر روشنی ڈالی۔
ریاض میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالمالک مجاہد نے کہا کہ غزوۂ بدر حق اور باطل کے درمیان ایک اہم معرکہ تھا جو ایمان، اتحاد اور اللہ پر بھروسے کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے مسلمانوں کو صبر، حوصلہ اور اللہ کی مدد پر یقین کا درس ملتا ہے۔
قاری حنیف ربانی نے کہا کہ غزوۂ بدر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کم وسائل کے باوجود مضبوط ایمان سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی امت مسلمہ کو اسی جذبے اور اتحاد کی ضرورت ہے۔
مولانا منظور احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بہت بابرکت ہوتا ہے، جس میں رحمت، مغفرت اور نجات کے دروازے کھلتے ہیں، اور غزوۂ بدر کا اسی عشرے میں پیش آنا اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔
کانفرنس میں علامہ توصیف الرحمن، مولانا عبداللہ ناصر رحمانی، مولانا عبدالمنان راسخ اور عمر کیلانی سمیت دیگر علما نے بھی خطاب کیا اور غزوۂ بدر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان، سعودی عرب اور پوری امت مسلمہ کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔




