General Secretary of Sialkot Business Community Group 154

سیالکوٹ میں سب سے فعال سماجی و فلاحی گروپ سیالکوٹ بزنس کمیونٹی گروپ کے جنرل سیکرٹری شیخ ہمایوں ریاض کی سیالکوٹ کے شہریوں کی صحت کے حوالے سے اہم تجویز سیالکوٹ کی تاجر برادری اپنی زکواۃ صدقات سیالکوٹ میں موجود سرکاری ہسپتالوں کو دیں

سیالکوٹ (بیورو رپورٹ)(تازہ اخبار، پی این پی نیوز ایچ ڈی)

انسانیت کا درد رکھنے والے معروف بزنس مین جنرل سیکرٹری سیالکوٹ بزنس کمیونٹی گروپ شیخ ہمایوں ریاض نے اپنے ایک پیغام میں تاجر برادری سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی زکواۃ و صدقات سیالکوٹ میں موجود سرکاری ہسپتالوں کو دیں تاکہ ان کی حالت کو بہتر بنایا جا سکے.
1964کا بنا ہوا ہسپتال، اس کے محدود وسائل اور سیالکوٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی جوکہ اب چالیس لاکھ کے قریب ہے، ان تمام مسائل کا ذمہ دار وہاں کے ڈاکٹرز نہیں بلکہ پنجاب کی تمام سابقہ حکومتیں ہیں جنہوں نے سیالکوٹ کی معاشی حیثیت کے باوجود سیالکوٹ کو ہمیشہ سہولیات کے اعتبار سے نظرانداز کیا۔ ہم سے کوئی بھی شخص ان ہسپتالوں میں جاکر علاج کروانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یورپ کے جانوروں کے کلینکس، ہسپتال اور ان کا علاج ہمارے ہسپتالوں سے لاکھوں درجے بہتر ہیں۔ ان ہسپتالوں میں انسانوں کو جو حال ہورہا ہے ان ڈاکٹرز پر اپنا غصہ اتارنے کی بجاۓ ان مسائل کے اصل کرداروں اور ذمہ داران کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ اس بحث کو ادھر ہی ختم کردیں اور میری ڈاکٹر عبدالستار صاحب سے اور ان کی ٹیم سے گزارش ہوگی کہ آپ سیالکوٹ کے تمام سیاستدانوں، ایکسپورٹرز، کاروباری برادری، سیالکوٹ کینٹ کے رہائشیوں، سیالکوٹ چیمبر اور تمام ٹریڈ باڈیز کے عہدیداران اور ممبرز کیلیے خصوصی کمرے تیار کروائیں جہاں یہ سب لوگ اپنا فری علاج کروانے کیلئے تشریف لائیں، کوشش کریں یہ کمرے ایسے جگہہ موجود ہوں جہاں ان کی نظر سیالکوٹ کے زیر علاج عام شہریوں پر نظر پڑ سکے شائد ان سب کے دلوں میں اللہ کا خوف آجائے اور وہ سنجیدگی سے اس کی بہتری کا سوچ سکیں۔
ہم سب صاحب حیثیت لوگ ہیں، اگر ہم سب کے ہوتے ہوئے یہاں انسانیت سسک رہی ہے تو ہماری دولت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم سب لوگ پوری ایمانداری سے اگر آج یہ تہیہ کرلیں کہ ہم اپنی تمام زکوٰۃ صرف سیالکوٹ کے سرکاری ہسپتالوں پر خرچ کریں تاکہ ایک عام انسان باعزت طریقے سے اپنا علاج کرواسکے۔
گورنمنٹ نے کچھ نہیں کرنا اور اس ضد میں ہم عام آدمی کو تکلیف میں مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔
پہلے ہم سب ان معاملات کو گود لیں، اپنا کردار ادا کریں، اور اگر پھر کوئی ڈاکٹر نہ سنے تو اسے بھی دیکھ لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں