47

مادر محترم (شاعرہ : سیدہ نمیرہ محسن شیرازی )

آج ماں سے محبت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ جو پوری زندگی وار دیتی ہے اس کے لیے ایک شکرانے کا دن۔ یہ دن دنیا کی بہت بڑی تنظیم نے منانے کی روایت ڈالی۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اللہ اور اس لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میری ہر سانس پر میری ماں کا حق ہے۔ اس کے احسان کا میرا رواں رواں مقروض ہے۔ میری تو پوری زندگی ہی میری ماں کی ہے تو میں ایک 12 گھنٹے کا دن پورے سال کے 365 دنوں میں سے کیا کاٹ کر اس کے نام کروں؟ کیا یہ ان کا احترام ہو گا؟
آج سب اپنی ماوں کے لیے اچھی اچھی پوسٹس لگا رہے ہیں۔ ان کی حسین جوانی کی تصویریں اپنی ” کتاب رخ ” پر لگا رہے ہیں مگر میں پھر گہری سوچ میں ہوں کہ کیا ایسی ہستی ممکن ہے کہ کبھی حسین نہ بھی ہو ؟
میری والدہ جب بستر مرگ پر آخری سانسیں لے رہی تھیں تب وہ اپنی جوانی جیسی ہی حسین تھیں ۔ ان کا حسن اور نکھر آیا تھا، وہ اور بھی معتبر ہو گئی تھیں۔ سارا آئی سی یو ان سے شدت سے محبت میں مبتلا تھا۔ سب ان کی زیارت کو آرہے تھے اور میں سدا کی اپنی ہٹ کی پکی ان کی پٹی سے لگی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔
میں اگر بہادر ہوں تو ایک انتہائی بہادر ماں کی گود میں پلی ہوں جس نے قیام پاکستان کی ہجرت کے دکھ کم سنی میں جھیلے۔ انتہائی معزز اور کھاتے پیتے گھرانے نے فاقے اور بے گھری دیکھی۔ وہ جن کے دستر خواں سے سینکڑوں بھوکے کھانا کھاتے تھے بھوک سے دکھتے پیٹ کو لیے مسکراتے رہے۔ اور پھر آج کی نسل کہتی ہے کہ پاکستان کیوں بنایا؟ یہ جناح کی غلطی تھی ! جناح نے تو اپنے آقا، اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بسروچشم مانا اور انہیں کی پاکیزہ روایت پر عمل کرکے مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ برصغیر کے سینے پر ایک مسلم ریاست ابھری۔ اور پھر میرے قائد کو منظر سے ہٹا دیا گیا۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جب ہم نے اپنے بچوں کو وطن یعنی اپنی ماں سے محبت نہ سکھائی تو ان کے پاس بھی ہمارے لیے ایک یوم آزادی یا یوم الوطنی یوم والدہ کی صورت ہی بچا۔
امی کی پوری زندگی بہادرانہ کارناموں سے مزین ہے۔ ماں اور بہنوں کے لیے آسانیاں ڈھونڈتی ، بھائی کو لوگ مارنے لگے تو اس پر لیٹ کر سارے مکے اور ٹھڈے اپنے وجود کی ڈھال پر سہنے والی بہن۔
ابو کو جب دل کا عارضہ لاحق ہوا تب ہم بہت چھوٹے تھے مگر ہماری ہیرو اماں نے سب سنبھال لیا۔ ہم پڑھتے رہے اور ابو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر اپنے شعبے میں مزید ترقی کرتے گیے۔ دیکھا جائے تو ابو نے جو مشکل امتحان اپنی بیماری اور صحتیاب ہونے کے دوران پاس کیے وہ اوروں کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف تھے۔ ہماری شادیاں کیں۔ بہترین انتظامات ابو کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہ کر کیے۔ خاندان کے ہر فرد کی خیر خواہ اور دل کی محرم۔ کیا ممکن ہے کہ یہ کتاب 12 گھنٹے یاد کی جائے اور سال کے 364 دن بھلا دی جائے؟
میرا آج کی نسل کو یوم والدہ پر ایک ہی پیغام ہے
” اگر والدہ حیات ہیں تو قدموں میں بیٹھ جاو۔ جھک جاو ان کے اقبال میں۔ ہر وہ نعمت جو اللہ نے تمہیں بخشی ہے وہ ان کی محنت،ہستی اور دعاوں کا نتیجہ ہے، ان کے حضور ادب سے پیش کرو۔ جس طرح اپنی جائیداد میں انہوں نے تمہیں وارث بنایا تم بھی انکو اپنی زندگی اور خاندان کی ملکیت دے دو۔ ماں باپ کب سدا جیئے ہیں۔ ان کی عمر کی پونجی ختم ہونے کو ۔ اکرام و احترام اور پورے حق ملکیت کے ساتھ ان کو خود پر حکومت کرنے دو۔ اللہ بدلہ نہیں رکھتا۔ وہ تمہیں تمہاری نیک اولاد کی صورت میں اجر دے گا۔ ان شاء اللہ”
آخری دنوں میں امی بہت گھبرا رہی تھیں۔ مجھے کہنے لگیں کہ قبر سے ڈر لگتا ہے۔ میں امی کے ساتھ اور جڑ گئی۔ آخری جراحی سے پیشتر میرا ہاتھ بچوں کی طرح تھام لیا مجھے پتہ چلا کہ اب انہیں میرے سینے میں بچوں کی طرح منہ چھپانا ہے۔ میں نے ان کو سینے سے لگانا اور چومنا شروع کر دیا۔ ڈاکٹرز نے مہربانی کی تو میں ان کے ساتھ آپریشن تھیٹر میں بھی چلی گئی جہاں ان کا ہاتھ آخری بے ہوشی تک میرے ہاتھ میں رہا۔
آپ کو یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ صورتحال کبھی بھی کسی کے بھی والدین کے ساتھ پیش آسکتی ہے۔ اس وقت آپ خود جان جائیں گے کہ والدہ کی جگہ آپ کی زندگی میں کیا تھی!!!!!۔ بس یاد رکھیے گا کہ جب آپ اس دنیا میں آکر گھبرا کر روئے تھے تو اسی مہربان سینے کے ساتھ لگ کر خاموش ہوئے تھے۔ اسی ہستی نے پیٹ سے نکال کر جگر سے لپٹایا تھا۔ سدا کے لیے اپنے دل میں وہ جگہ دی جو کسی کو نہیں مل سکتی۔ نجانے ہم کیوں خود سے محبت کرنے والا دنیا میں ڈھونڈتے ہیں جبکہ ماں جیسا عاشق گھر میں موجود ہے؟ کیوں ہم لمبی لمبی غرلیں اپنے محبوب کو منانے کے لیے کہتے ہیں جب ہمارے ایک جملے، ایک مسکراہٹ سے راضی ہونے والی محبوبہ جو ہم پر مرتی ہے ہماری زندگی میں ہے۔
آخر میں ایک گزارش ہے کہ انہیں تنہا مت کیجیے گا۔
والدہ کی تعظیم میں ہر آنے والا سال آپ کو مبارک۔ اللہ ان تمام ماوں کو سلامت رکھے جو حیات ہیں اور ان کو اولاد کی خوشیاں اور محبت دیکھنا نصیب کرے صحت کے ساتھ۔ اور ان کی مغفرت کرے جو رفیق اعلی سے جا ملیں۔ آمین
یاد رہے کہ اگر آپ کی والدہ حیات نہیں اور آپ ان کی خدمت سے محروم رہ گئے ہیں تو روزانہ اپنی چاہت کے اعتبار سے ان کے لیے ایک دعا کر دیجیے۔ امید ہے کہ اللہ رب العزت کے دربار میں آپ کی معافی ہو جائے گی۔
دعا درج ذیل ہے۔
رب ارحمھما کما ربینی صغیرا۔
نمیرہ محسن
مئی 2024۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں