Crown Prince Mohammed bin Salman bin Abdulaziz has inaugurated the first annual forum of the Green Saudi Arabia project in Riyadh 301

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزيز نے ریاض میں گرین سعودی عرب منصوبے کے پہلے سالانہ فورم کا افتتاح کردیاہے۔

(رپورٹ ریاض سعودی عرب ،زبیر خان بلوچ ،تازہ اخبار ،پاک نیوز پوائنٹ)

دارالحکومت ریاض میں سعودی گرین انیشیٹو فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ان کا ملک 2060 تک نیٹ زیرو کاربن کے اخراج کا ہدف حاصل کرلے گا۔
شہزادہ محمد بن سلمان گرین سعودی عرب سپریم کمیشن کے سربراہ بھی ہیں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق ولی عہد نے اپنے افتتاحی خطاب میں گرین سعودی عرب انیشیٹیو کے لیے پہلے پیکج کا اعلان کیا۔
یہ پیکج ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے روڈ میپ ہوگا۔ اس کا مقصد گرین سعودی عرب انیشیٹیو کے مجوزہ اہداف کو پورا کرنے میں کردار ادا کرنا ہے۔ سعودی عرب نے فورم میں شرکت کے لیے متعدد ممالک کے سربراہان کے علاوہ عالمی اداروں کے نمائندوں کو مدعو کیا ہے۔
ولی عہد نے اپنے خطاب میں سعودی گرین انیشیٹیو پروگرام کے تحت کاربن کے اخراج کو سالانہ 270 ملین ٹن سے کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔
اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 700 ارب ریال (186.63 ارب ڈالر) سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ “سعودی عرب 2030” تک 45 کروڑ درخت لگائے گا جبکہ 80 لاکھ ہیکٹر رقبے پر محیط بنجر زمینوں کو بحال کرے گا۔
سعودی عرب 20 کروڑ ٹن کاربن کے اخراج کو کم کرے گا جس کے ساتھ آنے والے برسوں میں مزید اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔
گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطیٰ فورم دو دن 23 اور 25 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطی انیشیٹیو کے تحت خطے میں ایک ارب درخت لگائے جائیں گے۔
سعودی عرب گذشتہ کچھ عرصے سے توانائی کے متبادل اور ماحول دوست ذرائع کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس حوالے سے وژن 2030 کے تحت قابل تجدید توانائی کے متعدد اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
سعودی عرب نے گرین انیشیٹیو پروگرام کے ذریعے قابل تجدید توانائی کا ہدف 50 فی صد تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اس طرح سعودی عرب وژن 2030 کے اہداف کے حصول اور گرین سعودی عرب پروگرام کے ذریعے کاربن کا اخراج 4 فی صد سے کم کرنے کی عالمی مہم میں بھرپور حصہ لے رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں