نمیرہ محسن 208

تسلسل حیات

نمیرہ محسن،این پی نیوز ایچ ڈی

زندگی کہاں ختم ہوتی ہے؟ بس نوعیت بدلتی ہے وگرنہ جیتے تو رہتے ہیں۔ کبھی باپ کی پیٹھ میں، کبھی ماں کے رحم میں اور کبھی دنیا کے پیٹ میں۔ وقتی موت جو کہ نیند کے متشابہ ہے، بھی تو زندگی ہی کی قسم ہے۔ آگے اللہ رب العزت کا دربار سجے گا۔ میرا آپ کا شانوں والا رب جب اپنی کرسی پر چھائے گا تب بھی زندہ ہی ہوں گے۔ اور جنت یا دوزخ ہردو میں زندگی ہی ہے ہاں مگر جہنم والے موت کی آرزو کرتے ہوں گے۔
ڈرنا تو اللہ کی ناراضگی، بد اعمال اور خود کے نفس سے بنتا ہے نہ کہ موت سے۔
اسی طرح زندگی کے مختلف حصے کیے گئے۔ بچپن ، جوانی اور بڑھاپا۔ آپ جس بھی دور سے گزر رہے ہیں یقینی زندہ و سلامت اور اسی زمانے کا حصہ ہیں۔ کوئی ضرورت نہیں اپنی عمر سے کم نظر آنے یا زمانے کی قبولیت کو کم سن بننے کی۔ اپنے زندگی کے دور کے مطابق خود کو تیار کرلیں۔ سب ویسا ہی رہے گا بس انہی چیزوں میں سے کچھ کم ہو جائیں گی اور کچھ زیادہ۔
بالکل ضرورت نہیں کمزور پڑنے کی۔ آپکے چہرے کی ہر سلوٹ آپ کی شاندار کامیابی کی ایک کرن ہے۔ نیچے کو ڈھلتی جلد بیان کرتی ہے قصہ آپکے پہاڑوں جیسے حوصلے کا جس نے مشکلات کے کئی گلیشیر کندھوں پر اٹھائے تھے۔
ہر لمحہ جیتے رہئیے جیسے حق ہے جینے کا۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں