سگنیفائی لمیٹڈ کے تحت جنوبی پنجاب ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکنگ گروپ کے اراکین کی، جنوبی پنجاب میں تشدد و انتہاپسندی کی روک تھام کے موضوع پر تربیت سازی دو روزہ پروگرام کا انعقاد۔ پروگرام کے دوسرے روز وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی شرکت۔ زین بلوچ اور ٹیم سگنیفائی کی کاوشوں کو سراہا 228

سگنیفائی لمیٹڈ کے تحت جنوبی پنجاب ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکنگ گروپ کے اراکین کی، جنوبی پنجاب میں تشدد و انتہاپسندی کی روک تھام کے موضوع پر تربیت سازی دو روزہ پروگرام کا انعقاد۔ پروگرام کے دوسرے روز وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی شرکت۔ زین بلوچ اور ٹیم سگنیفائی کی کاوشوں کو سراہا

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو ایک پر امن خطہ بنانے، اس کے تشخص کو برقرار رکھنے اور امن و رواداری کے پیغام کو فروغ دینے کے لئے جنوبی پنجاب ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکنگ گروپ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
جنوبی پنجاب ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکنگ گروپ کے اراکین کی جنوبی پنجاب میں تشدد وانتہا پسندی کی رو ک تھام کے موضوع پر تربیت سازی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب ایک پر امن خطہ ہے، یہا ں اخوت، بھا ئی چارہ اور ہم آہنگی کی بہترین مثالیں مو جود ہیں لیکن حالیہ واقعات اور آنے والے وقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھر پور کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ ہم پاکستان میں جنوبی پنجاب کا اور پوری دنیا میں پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر کر سکیں۔ جنوبی پنجاب ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکنگ گروپ کے ممبران نے 2 روزہ تربیتی ورکشاپ میں شرکت کی۔ اس تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ۷ اور ۸ اگست ۱۲۰۲ کو سگنیفائی اور پیغامِ پاکستان کی مشترکہ کاوشوں سے کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں جنوبی پنجاب ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکنگ گروپ کے چالیس ممبران کی مقامی انتہا پسندی اور تنازعات کی روک تھام، رواداری، مذہبی ہم آہنگی، پنجاب میں سی وی ای قوانین، چیلنجز اور مواقع پر تربیت سازی کی گئی۔ اس موقع پر ممبران، قومی و صوبائی اسمبلی، جناب مخدوم زین حسین قریشی، جاوید اختر انصاری، مہندر پال سنگھ نے کہا کہ ہمیں صوفیا اولیا اکرام کے پیغام کو وسیع کرتے ہوئے خصوصی طور پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا اور نوجوانوں کو امن، رواداری اور اخوت کا پرچار کرنا ہو گا تاکہ انتہا پسند عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس موقع پر مذہبی سکالر،سول سوسائٹی اور میڈیا کے ممبران جن کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا نے بھونگ کے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہم اس پلیٹ فارم کے ذریعے محرم الحرام میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جائے اور خطے میں امن، رواداری اور بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھا جائے۔تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد ایک جامع واقفیت اور تربیت کا تجربہ فراہم کرنا تھا تاکہ شرکاء کو امن، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کو سمجھنے، عمل کرنے، فروغ دینے اور برقرار رکھنے میں مدد ملے۔ اس ورکشاپ کا ایک مقصد ارکین کو صحیح ذہنیت، ٹولز، معلومات اور مہارتوں سے آراستہ اور فعال کرنا تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ مثبت تبدیلی کے عنصر کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہیں۔شرکاء کو پرتشدد انتہا پسندی کے درمیان فرق اور اس کے تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ، پرتشدد انتہاپسندی کے انسداد/روک تھام کے لیے بین الاقوامی اور مقامی حکمت عملی، مختلف قوانین اور خاص طور پر پنجاب کے قوانین جو مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں، انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کے بارے میں کلیدی مہارتیں سیکھنے کا موقع ملا۔ شرکا کو بطور ممبر ان ان کو ان کا کردار، ذمہ داریوں اورجنوبی پنجاب میں انتہا پسندی کی روک تھام میں ان کے کلیدی کردار پر تربیت سازی کی گئی۔جنوبی پنجاب ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکنگ گروپ جس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں تعلیمی جامعات کے وائس چانسلرز، مذہبی جامعات کے سربراہ، پارلیمنٹ کے اراکین،سول سوسائٹی اور میڈیا شامل ہے،اس گروپ کا مقصد جنوبی پنجاب میں تنازعات اور عدم تحفظ کے واقعات کو حل کرنے میں مدد کرنے اورامن کی تعمیر اور تنازعات کی روک تھام میں اپنی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔اس ورکشاپ میں شرکا کی صلاحیتوں کو بڑھایا گیا کہ وہ کیسے دوسرے پالیسی سازوں کو اس پروگرام میں شامل کر کے سی وی ای سے متعلقہ قوانین میں اصلاحات تجویز کریں، اور پہلے سے موجود قوانین پر کس طرح عمل درآمد کروایا جا سکے۔ اس ورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے صوبائی اسمبلی کے دوران اجلاس کے درمیان تشدد اور انتہا پسندی کیقوانین سے متعلقہ پوچھنے والے سوالات کا مسودہ تیا ر کیا۔ ایکشن پلان میں یونیورسٹیوں اور مذہبی اداروں کے طلبا اور اساتذہ کے کردار کو مزید موئثر بنانے کے لئے آپس میں دورے بھی کروائے جائیں گے تاکہ ایک بہترین حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔ نتائج کی تکمیل کے بعد یہ گروپ، پریس بریفنگ اور پریس کانفرنس کا اہتمام کرے گا تاکہ عوام کے سامنے اپنے کاموں کو بڑے پیمانے پر پیش کر سکے۔تربیتی ورکشاپ کے شرکا میں میں وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی، مخدوم زین حسین قریشی ممبر قومی اسمبلی، مہندر پال سنگھ پارلیمانی سکیرٹری، جاوید اختر انصاری، وفیسر ڈاکڑ محمد طفیل وائس چانسلر، غازی یونیورسٹی، ڈیرہ غازی خان، پر وفیسر ڈاکڑ عظمی ٰ قریشی وائس چانسلر دی ویمن یونیورسٹی ملتان،زین بلوچ ہیڈ آف اسٹریٹجی سگنیفائی،پر وفیسر ڈاکڑعامر اعجاز وائس چانسلر، میا ں نواز یونیورسٹی یو ای ٹی، ملتان، پروفیسر ڈاکڑ اطہر محبوب وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور، منصور اکبر کنڈی، وائس چانسلر، بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان،ڈاکڑسلیمان طفیل، وائس چانسلرکوخواجہ فرید یونیورسٹی، رحیم یار خان، خالد جاوید وڑائچ، صدر پی ٹی آئی، ملتان، شاہدہ احمد ایم پی اے خانیوال، مراد فاطمہ، جماعت اسلامی یوتھ وومن ونگ، ملتان، فوزیہ عرفان، وائس پریزیڈنٹ ساوتھ پنجاب، جماعت ِ اسلامی، ملتان، پروفیسر ڈاکڑ عبدالقدوس صہیب، چیئرمین شعیہ علوم اسلامیہ، بہاو الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان، پیر عامرنقشبندی، چیئر مین قومی یوتھ کمیٹی، ملتان، ڈاکڑ حمید رضا صدیقی، سنڈیکیٹ اسلامیہ یونیورسٹی، رضوانہ شاہین، چیف ایڈیڑ ماہنامہ سحریت، ملتان، ڈاکڑ فرخ ارسلان صدیقی، چیئر مین، مکینکل انجئیرنگ ڈیپارٹمنٹ، بہاو الدین زکریا یونیورسٹی، محمد عابد امام مدرسہ حسین ابنِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ، پاسٹرایمینول تبسم، نیو یروشلم چرچ، ملتان، نعیم اقبال نعیم صدر یوتھ پاکستان، آرگنائزیشن، ملتان، پروفیسر ڈاکڑنسیم اختر بہاو الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان،احمد ندیم منیجرپرائیویٹ سیکڑ، لائنز کلب، ملتان، خواجہ عزیز الحسن ٹی ایم ایف، ملتان، پیر عبید صدرپوری میڈیا فا ونڈیشن، ملتان، شاکر حسین شاکر کالم نگار،ایس ایم ڈبلیو جی ممبر، اور میاں محمد ماجد ڈسٹرکٹ آفیسر سپیشل ایجوکیشن ملتان شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں