Condolence meeting for Dr. Ali Al Ghamdi 65

قونصل جنرل خالد مجید کی زیرصدارت ڈاکٹرعلی الغامدی کےلئےتعزیتی اجلاس

رپورٹ سعودی عرب جدہ : (پی این پی نیوز ایچ ڈی )

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قونصل جنرل تعنیات سعودی عرب جدہ عزت ماٰب خالد مجید کی زیرصدارت پاکستان ریپیٹریشن کونسل (پی آرسی) کشمیر کمیٹی (کے سی) ، انجینئرزویلفیئرفورم (ای ڈبلیو ایف) اور پاکستان نیشنل سالیڈیریٹی فورم (پی این ایس ایف) کے تعاون سے جمعہ کی شب سابق سعودی سفارتکار مرحوم ڈاکٹرعلی بن محمد آل سعید الغامدی کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس مہران ریستوران جدہ میں منعقد ہوا۔ جبکہ ڈاکٹرالغامدی کے صاحبزادے محمدعلی الغامدی مہمان خصوصی، مسعود احمد پوری صدرکشمیرکمیٹی، نامورسعودی صحافی استاد خالد المعینا، پاکستان قومی یکجہتی فورم کی بانی کنوینرسید ریاض حسین بخاری اورپریس قونصلرجدہ محمد عرفان بطورنےاعزازی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔
نامورقاری انجینئر محمد آصف کی تلاوتِ قران پاک سے پروگرام کا آغازہوا، محمد نوازجنجوء نے حمد باری تعالیٰ اور احمد زبیرنے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کیا۔ پی آر سی کے سینئروائس چیئرمین انجینئر سید نصیرالدین نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ معروف صحافی محمد امانت اللہ، جموں کشمیراوورسیز کمیونٹی (جے کےاو سی) کے چیئرمین سردار وقاص عنایت، پاکستان رائٹرزفورم کے سابق صدر انجینئرنیازاحمد، حلقہ یاران وطن کے بانی صدر انجینئرافتخارچودھری ، پاکستانی کمیونٹی کے سماجی رہنما چودھری ظہیراحمد اور پاکستان جنرنلسٹس فورم کے چیئرمین امیرمحمد خان ڈاکٹرعلی الغامدی کی زندگی ، مشن اور خصوصیت کو بہترین الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
لیجنڈ سعودی صحافی استاد خالد المعینا نے کہا ڈاکٹرعلی الغامدی نفیس، نیک اور ایماندار انسان تھے۔ وہ پاکستان سے بےحد محبت کرتے تھے۔ پاکستانیوں، کشمیریوں، محصورین بنگلادیش کے لئے ان خدمات قابل تحسین ہے۔ ان کا دل پاکستان کے لئے دھڑکتا تھا۔ وہ جہاں بھی جاتے تھے ہر جگہ پاکستان، کشمیر اور محصورین کے مسئلہ کی وکالت کرتے تھے ۔ انھوں نے کہا پاکستان ہمارے لئے بہت آہم ملک ہے۔ پاکستان کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ہمیں دعا کے ساتھ ساتھ اچھے عمل کرنے کی ضروت ہے۔ قومی یکجہتی فورم کے بانی کنوینر ریاض بخاری نے کہا کہ پاکستان اور دنیا کے مسلمان انھیں کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ ہمارے لئے وہ ایک بہترین مسلمان تھے۔ بانی پاکستان قائد آعظم کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے علالت اورکمزوری کے باوجود اپنے مشن آخرتک جاری رکھا۔ کشمیرکمیٹی کے صدر مسعود پوری نے کہا آج ہم اپنے ہردل عزیز ساتھی ڈاکٹر الغامدی کی تعزیت کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنے اخلاق سے ہم سب کو اپنا گرویدہ بنایا ہوا تھا۔ وہ پی آر سی کے کنوینر سید احسان الحق کی ایک کال پر آجاتے۔ وہ بلا معاوضہ کشمیریوں، فلسطینوں، محصورینِ بنگلادیش اورمسلمانوں کے سفیر تھے۔ ان کی رحلت سے ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے جو صدیوں پُر نہیں ہوسکتا ہے۔ ہم انک خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے قونصل جنرل سے درخواست کی کہ ڈاکٹرالغامدی کو ان کی خدمات پر پاکستان کا کوئی قومی ایوارڈ سے نوازا جائے۔ ڈاکٹرالغامدی کے صاحبزادے جو اپنے والد کے تعزیتی اجلاس میں شرکت پر پی آر سی کی دعوت پر ریاض سے تشریف لائے تھے، اپنے والد کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ ہماری پوری فیملی میں نہایت قابل احترم اور مقبول تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے والد 1941 سعودی عرب کے پُرفضا مقام الباحہ کے ایک گاوں میں پیدا ہوئے۔ انھوں اپنی محنت اور لگن سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور سفارت کار کے عہدہ تک پہنچے۔ وہ کراچی یونیورسٹی کے سابق طالب علم تھے۔ ان کی زندگی جدوجہد سے بھری ہوئے ہے۔ پاکستان ، کشمیر اور محصورین سے ان کی محبت ناقابل بیان ہے ان کی حیات پرکتاب بھی شائع ہونے والی ہے۔ محمد الغامدی نے پاکستانی کمیونٹی خاص طورسے قونصل جنرل پاکستان خالد مجید کا ڈاکٹرعلی الغامدی کوخراج تحسین پیش کرنے کے لیے موجودگی کو بے حد سراہا جائے گا۔ انھوں نے کنوینراحسان الحق کا بھی شکریہ ادا کیا۔
قونصل جنرل خالد مجید نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ڈاکٹرعلی الغامدی کی زندگی کے بہت سے پہلو اور خصوصیات ہیں جن کا اس محدود وقت میں احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ایک آعلیٰ تعلیم یافتہ سعودی گھرانے سے تھے۔ وہ بہترین سفارت کاری کے نمونہ تھے اورانکی سفارت کاری نئے آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ میں ان کے لئے پاکستان کے آعلی قومی ایوارڈ کی حمایت کرتا ہوں ۔ انھوں نے قونصلیٹ اوراپنی کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ انھوں نے پاکستان، کشمیراورمحصورین بنگلادیش کی خدمات کی قبولیت کے لئے دعا کی اور اس کے عوض جنت الفردوس میں آعلی درجات دعا کی۔
آخرمیں پی آر سی کے جنرل سیکریٹری سید مسرت خلیل نے کنوینرسید احسان الحق اور ان کے تمام رفیقاء کی جانب سے قونصل جنرل ، خالد مجید، محمد الغامدی، استاد خالد المعینا، مسعود پوری، ریاض بخاری ، پریس قونصلر محمد عرفان اور پاکستانی کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا ۔معروف سماجی رہنما محسن غوری نے ڈاکٹر الغامدی کے درجات کی بلندی، پاکستان، سعودی عرب، کشمیر، فلسطین اور پوری امت مسلمہ کی سربلندی، ترقی اورخوش حالی کے لئے دعا کی۔ پروگرام کی نظامت کر فرائض ای ڈبلیو ایف کے انجینئر آصف بٹ نے ادا کئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں