civilization and culture are the heritage of the nation 197

ادب ، تہذیب اور ثقافت قوم کی میراث ہے جس میں ثقافت کا عکس موجود ہو تا ہے (ڈاکٹر ریاض چوہدری ) قومیں جو اپنی میراث کی حفاظت نہیں کرتیں وہ دنیا میں اپنا مقام کھو دیتی ہیں (بینا گوئندی )

رپورٹ: اعجاز احمد طاہر اعوان (تازہ اخبار پی این پی نیوز ایچ ڈی)

ادب ایک ایسا آئینہ ہے جس میں کسی قوم کی ثقافت ، تہذیب و تمدن اس کا اخلاقی معیار دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ قوم کی میراث ہے جس میں اسکی ثقافت کا بہترین عکس موجود ہوتا ہے – یہ بات ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے “” بزم عرف و سخن ورجینیا”” کے عید ملن پروگرام میں کی – انہوں نے کہا کہ عید ہمیں سنت ابراہیمی پر عمل کرنے کا درس دیتی ہے اس میں جانور کی قربانی کے ساتھ ، مال و دولت اور سب سے بڑھ کی اس کی قربانی مانگتی ہے یہی ہماری تہذیب و ثقافت ہے – جس پر عمل کرکے ہم اپنے ہمراہ دوسروں کی خوشی کا سبب بنتے ہیں – پروگرام کی مہمان خصوصی بینا گوئندی نے کہا – امریکہ کی ملٹی کلچرل سوسائٹی رہتے ہوئے اردو ادب اور ہماری ثقافت کی ترویج و ترقی نہایت اہم ہے – ثقافتی ورثہ کی حفاظت ہمارے ادیب شاعر اور فنکار کر رہے ہیں جس میں بزمُ حرف و سخن ورجینیا سر گرمُ عمل ہے – کیونکہ جو قوم اپنی اس میراث کی حفاظت نہیں کرتی وہ دنیا میں اپنا مقامُ کھو دیتی ہے – آخر میں انہوں نے اپنی بہترین غزلیں پیش کیں جسے عدیل برکی نے سر سے گا کر پیش کیں جس پر سامعین نے بے حد سراہ اور دل کھول کر داد دی –

“” بزم حرف و سخن ورجینیا”” نے گذشتہ روز “” عید ملن “” کا پروگرام منعقد کیا۔ جس کی صدارت بزم کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض بزم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عارف معمود نے ادا کئے – مہمان خصوصی امریکہ کی معروف شاعرہ اور کالم نویس محترمہ بینا گوئندی تھیں جبکہ وائس آف امریکہ کے سنیئر صحافی خالد حمید مہمان خاص تھے – جنہوں نے بزم کے پروگرام کو بے حد سراہ اور شعراء کی تعریف کی اور آخر میں انہوں نے فیض احمد فیض کی غزل پیش کر کے خوب داد وصول کی –

ڈاکٹر عارف معمود نے بزم کے قیام ، اغراض و مقاصد پیش کرتے ہوئے بتایا ورجینیا میں اردو زبان اور اردو ادب کو فروغ و ترقی دینے کے لئے چند ادب نواز دوستوں پرمشتمل ایک پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لایا گیا – جس میں شاعر ، ادیب اور دانشور شامل ہوتے گئے – اس میں خواتین بھی شامل کی جارہی ہیں –

پروگرام کا آغاز عیان ملک کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا، ذوالقرنین اسحاق کی دل موہ لینے والی آواز میں سرکار دوعالم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نعت رسول صلعم پیش کی – خطبہ اسقبالیہ بزم کے سنئیر نائب صدر عثمان ملک نے پیش کیا جو علم و ادب کا مثالی نمونہ تھا انہوں نے مشتاق یوسفی کے خالص نپے تلے انداز میں پیش کیا جسے سامعین نے خوب سراہا –

ڈاکٹر عارف معمود نے کہا کہ ہم بزم میں خواتین کو اہم رول ہو گا اور انہوں نے ایک بہترین غزل پیش کی ( غم کی گہرائیاں کا حاصل تھا رسوائیوں کا حاصل تھا میرا وہ خواب ٹوٹ جائے گا جو تنہائیوں کا حاصل تھا )

ذوالقرنین ، عثمان ملک نے ملکی حالات کا جائزہ ایک نظم کی صورت میں پیش کیا ، عبدالمجید طرح نے اپنا کلام پیش کیا (نظروں سے پی کے تیری چاہت کے جام ) ، رشید انصاری صاحب نے کلام پیش کیا ( جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو اس کا حساب ہوگا ) ۔ افتخار افتی نے اپنے اشعار (میرے درد میں جو درد ہے اس درد کا مجھے درد ہے ) اور نعتیہ کلام پیش کیا – محمد عمران کڑانوالیا نے ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار پر نظم پڑھی ، جلیل درانی صاحب نے رئیس امروہوی پر اپنا مقالہ پیش کیا ، خرم خان یوسف زئی نے اپنا کلام ( اگر تیرے اندر کا آدمی اور سب جانتا ہے ، سارے دکھوں سے ہے آشنا – بے خبر ہے میرے اندر کا آدمی ) پیش کیا – جمال خان اور سرور بابر نے اپنے اپنے کلام پیش کئے –

آخر میں صدر محفل ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے کہا عید کا موقع ہے محبت اور اخوت کا دن ہے میں اپنی غزل ( محبت بانٹنا) پیش کر تا ہوں (محبت کے عوض آؤ محبت بانٹ لیتے ہیں ، جہاں جس کو ضرور ت ہے ضرورت بانٹ لیتے ہیں ) جسے سامعین نے بے حد پسند کیا -اور دل کھول کر داد دی – آخر میں محفل موسیقی منعقد ہوئی جس میں پاکستان سے تشریف لانے والے موسیقار عدیل برکی نے مہدی حسن اور دوسری بہت سی غزلیں گائیں جس سے پوری محفل عش عش کر اٹھی جس کے بعد مقامی سنگر خالد ڈار نے عمدہ گائکی اور پرفارمنس پیش کرکے پورا میلہ ہی لوٹ لیا –

پروگرام کے آخر میں مہمانوں کی تواضع مزے دار کھانوں سے کی گئی اور اس کے بعد ڈاکٹر عارف نے صدر کی جانب سے سب مہمانوں کا شکریہ بھی ادا کیا اور آئندہ ایسے ہی معیاری پروگرام پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا –
غزل محبت بانٹنا

محبت کے عوض آؤ محبت بانٹ لیتے ہیں
جہاں جس کو ضرورت ہو ضرورت بانٹ لیتے ہیں

نہ جانے کس زعم میں نسلِ انسانی مٹاتے ہیں
عبث بیکار میں جو لوگ نفرت بانٹ لیتے ہیں

کوئی مشکل کھڑی کرنا کہاں زیبا تجھے آدم
سہولت سے ہی رہنا ہے سہولت بانٹ لیتے ہیں

کوئی بھی کام کرنے سے یہ پہلے سوچ لینا ہے
کہ ہم آسانیاں یا پھر صعوبت بانٹ لیتے ہیں

کجی راسخ دلوں میں ہوں ہمیشہ کج عمل ہونگے
ندامت بھی نہیں ہوتی کدورت بانٹ لیتے ہیں

ہمیں تو عاجزی سے کام عاجز میاں دیکھو
یہ بعضے لوگ کس برتے رعونت بانٹ لیتے ہیں

ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری (عاجز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں