محمد امانت اللہ 206

پسماندہ تعلیمی نظام

محمد امانت اللہ۔ جدہ کالم نگار. پی این پی نیوز ایچ ڈی

ہمارا تعلیمی نظام جس تیزی سے تنزلی کا شکار ھے ، دنیا میں ہماری یونیورسٹیوں کا معیار گرتا جا رہا ھے
پہلے پانچ سو نمبر پر ہماری یونیورسٹیاں نظر نہیں آتی ہیں۔

عام پاکستانیوں کا بھی اعتماد اٹھ گیا ھے ، پاکستانیوں کی اکثریت جو فیس ادا کرنے کے قابل ھے وہ کیمرج نصاب پڑھنے کو ترجیح دیتی ھے۔

‏برٹش کونسل کے مطابق اس سال او لیول کے امتحان میں ایک لاکھ امیدوار شرکت کریں گے۔ O level میں آٹھ مضامین کی امتحانی فیس 211000 روپے ہیں۔

اس طرح صرف ایک او لیول کے امتحان میں کیمبرج بورڈ 21 ارب روپے پاکستانی حاصل کرے گا۔

جبکہ فیڈرل گورنمنٹ کا پورے سال کا ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 6 ارب روپے ہے۔

کہاں صرف ایک امتحان میں ہماری ایلیٹ کلاس 21 ارب خرچ کر دیتی ہے جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی کا یہ سات سال کا بجٹ ہے اور اس میں اے لیول ، آئی جی سی ایس ای اور جی سی ایس ای کے طلباء شامل نہیں ہیں۔

اگر سب ملا لیں تو صرف ایک امتحان کی مد میں کیمبرج یونیورسٹی تیس ارب روپے اکٹھے کر لیتی ہے۔

مزید یہ کہ او لیول ، اے لیول اور آئی جی ایس ای کے امتحانات سال میں دو بار ہوتے ہیں۔

یعنی ہر سال کا تقریباً پچاس ارب روپے پاکستان سے صرف ایک یونیورسٹی وصول کر رہی ھے۔

امریکن سکولز ، پاک ترک سکولز اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے کیمپس الگ کمائی کرتے ہیں۔

بین الاقوامی تعلیمی ادارے ہمارے نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا
رہے ہیں کثیر ذر مبادلہ ملک سے باہر جا رہا ھے۔
حکومتی ادارے تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں کی بہتری کے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے ہیں

بجٹ میں تعلیم کی مد میں سب سے کم رقم مختص کی جاتی ھے

جبکہ بنگلہ دیش تعلیم کی مد میں پندرہ فیصد رقم مختص کرتی ھے۔
انکا تعلیمی معیار ہم سے کہیں بہتر ھے۔
او اور اے لیول میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے بچوں کو اسکالرشپ بھی دیتے ہیں۔
اس طرح ہمارے ذہین ترین بچے بجائے اپنے ملک کے لیے خدمات سر انجام دیں وہ دوسرے ملکوں میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔

سیاسی جماعتیں الیکشن سے قبل مختلف منشور کا پرچار کرتی ہیں مگر افسوس کے ساتھ تعلیم کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل نہیں دیتی ہیں۔
انکی یہی کوشش ہوتی ھے سیاست اور تعلیم کو الگ الگ رکھا جائے حقیقت میں ایسا ہونا نہیں چاہیے۔

حکومتی اعداد شمار کے مطابق ہر سال آٹھ لاکھ بچے ملک سے باہر جا رہے ہیں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے لیے۔
اگر ہماری یونیورسٹیوں اور تعلیمی نظام میں بہتری کی طرف توجہ دی جائے تو ملک کا کثیر سرمایہ بچ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں